Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi KU Society تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ کراچی

جامعہ کراچی: سفر تمام ہوا مگر تعلق نہیں!

سمے وار (تحریر: انتخاب الفت)
آج جب جامعہ سے میری رسمی وابستگی اپنے اختتام کو پہنچی ہے تو دل عجیب کیفیت سے گزر رہا ہے۔ چار دہائیوں کا سفر چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے شاید ایک تحریر نہیں، پوری کتاب درکار ہو؛ ایسی کتاب جس کے ہر باب میں کوئی چہرہ ہو، کسی راہداری کی چاپ ہو، کسی کمرۂ جماعت کی بازگشت ہو، کسی ساتھی کی مسکراہٹ ہو، کسی طالب علم کا سوال ہو، اور کسی چائے کی میز کے گرد گزرا ہوا وہ وقت ہو جو تب معمول معلوم ہوتا تھا مگر آج یاد بن کر غیر معمولی قیمتی محسوس ہو رہا ہے۔
جامعہ میرے لیے محض ایک جائے ملازمت نہیں رہی۔ یہ میری زندگی کا ایک بڑا حصہ، میری شناخت کا ایک حوالہ اور میری یادوں کا مستقل پتہ بن گئی۔ یہاں آتے ہوئے عمر اور تھی، خواب اور تھے، امکانات اور تھے۔ پھر وقت چلتا گیا، نسلیں بدلتی گئیں، طلبہ استاد بنتے گئے، نئے لوگ آتے رہے، کچھ ساتھی رخصت ہوتے رہے، عمارتوں کے رنگ بدلے، کمروں کے نمبر بدلے، عہدے بدلے، ذمہ داریاں بدلیں؛ مگر ان سب کے درمیان ایک چیز آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئی—لوگوں سے تعلق۔
آج عہدے، فائلیں، اجلاس، کمیٹیاں، امتحانات، تحقیقی مقالے اور انتظامی ذمہ داریاں سب پیچھے رہتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ جو چیز دل کے سب سے قریب آ کر کھڑی ہے، وہ میرے ساتھی ہیں۔ وہ لوگ جن کے ساتھ کبھی اختلاف ہوا، کبھی اتفاق؛ کبھی سنجیدہ علمی گفتگو ہوئی، کبھی بےسبب قہقہہ؛ کبھی ایک دوسرے سے شکوہ ہوا اور کبھی ایک دوسرے کا سہارا بننا پڑا۔ وقت کی خوبی یہی ہے کہ آخر میں وہ چھوٹی چھوٹی تلخیاں چھانٹ دیتا ہے اور یادوں کی تہہ میں وہی چیزیں باقی رہ جاتی ہیں جن میں محبت، خلوص اور انسانی وابستگی شامل ہو۔
کتنی صبحیں ہم نے ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے شروع کیں، کتنی شامیں کسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے گزاریں۔ کتنی مرتبہ کسی تقریب کی تیاری میں وقت کا احساس نہ رہا، کتنی مرتبہ کسی طالب علم کے مستقبل پر فکر ہوئی، اور کتنی مرتبہ کسی معمولی واقعے نے پورے دن کو خوش گوار بنا دیا۔ زندگی کی اصل دولت شاید یہی چھوٹے چھوٹے لمحے ہوتے ہیں۔ اس وقت انسان انہیں جمع نہیں کر رہا ہوتا، صرف جی رہا ہوتا ہے؛ مگر جب رخصت کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہی لمحوں سے پوری عمر کا سرمایہ بنا تھا۔
میرے لیے سب سے زیادہ جذباتی پہلو یہ ہے کہ میں ان لوگوں سے رسمی طور پر جدا ہو رہا ہوں جن کے درمیان عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گزرا۔ بعض ساتھیوں کے ساتھ تعلق اتنا پرانا ہے کہ یاد ہی نہیں رہتا کہ پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کے بالوں کو سفید ہوتے /جھڑتے دیکھا، بچوں کو بڑا ہوتے دیکھا، کامیابیاں بانٹیں، مشکلات جھیلیں، دوستوں کو کھویا، نئے لوگوں کا استقبال کیا اور وقت کو اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا۔ یہ تعلق کسی سروس بک میں درج نہیں ہوتا، اس کی کوئی تنخواہی اسکیل نہیں ہوتی، کوئی سرکاری نوٹیفکیشن اسے بیان نہیں کرسکتا۔ یہ دل کے اس رجسٹر میں لکھا جاتا ہے جس پر ریٹائرمنٹ کی کوئی تاریخ نہیں لگتی۔
آج میں اپنے رب کے حضور سب سے بڑھ کر **سجدۂ شکر** ادا کرنا چاہتا ہوں۔ شکر اس بات کا کہ اس نے مجھے علم سے وابستہ رکھا، درس و تدریس کی سعادت عطا کی، نوجوان ذہنوں کے درمیان زندگی گزارنے کا موقع دیا اور ایسے ساتھی عطا کیے جنہوں نے اس طویل سفر کو قابلِ برداشت ہی نہیں بلکہ خوب صورت بنایا۔ ہر مرحلے پر سب کچھ میری خواہش کے مطابق نہیں ہوا، نہ ہر دن آسان تھا، نہ ہر فیصلہ بےخطا؛ مگر جب پورے سفر کو پلٹ کر دیکھتا ہوں تو شکایتوں سے زیادہ نعمتیں دکھائی دیتی ہیں، تھکن سے زیادہ عنایت محسوس ہوتی ہے اور مشکلات کے مقابلے میں شکر کے اسباب کہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔
ملازمت کی تکمیل شاید ایک انتظامی واقعہ ہو، مگر ایک استاد کے لیے ریٹائرمنٹ مکمل اختتام نہیں ہوتی۔ استاد اپنی کرسی چھوڑ دیتا ہے، مگر شاید کسی طالب علم کے ذہن میں کہا ہوا ایک جملہ کہیں باقی رہ جاتا ہے۔ دفتر کی چابی واپس ہو جاتی ہے، مگر تعلقات کی چابیاں واپس نہیں کی جاتیں۔ نام حاضری کے رجسٹر سے نکل سکتا ہے، مگر یادوں کے رجسٹر سے نہیں۔ اسی لیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج ایک سفر ضرور مکمل ہو رہا ہے، لیکن کئی رشتے اپنے نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔
اپنے تمام ساتھیوں سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میرے کسی لفظ، فیصلے یا رویے سے کبھی کسی کا دل دکھا ہو تو اسے میری انسانی کمزوری سمجھ کر معاف کر دیجیے گا۔ اور اگر میری وجہ سے کسی کی زندگی میں ایک لمحہ بھی آسان ہوا، کسی طالب علم کو راستہ ملا، کسی ساتھی کے بوجھ میں کمی آئی یا کسی محفل میں ایک مسکراہٹ پیدا ہوئی، تو یہی میرے لیے اس طویل سفر کا سب سے خوب صورت حاصل ہوگا۔
میں اس جامعہ سے بہت کچھ لے کر جا رہا ہوں—علم، تجربہ، پہچان اور بےشمار یادیں—مگر سب سے قیمتی سرمایہ وہ محبت ہے جو مجھے اپنے ساتھیوں، شاگردوں اور اس ادارے کے لوگوں سے ملی۔ شاید آنے والے دنوں میں میں ان راہداریوں میں روز نہ چلوں، شاید وہ کمرا میرا نہ رہے جس کے دروازے پر برسوں میرا نام لکھا رہا، مگر بعض جگہیں انسان چھوڑ دیتا ہے اور بعض جگہیں انسان کے اندر رہ جاتی ہیں۔ جامعہ یقیناً انہی جگہوں میں سے ایک ہے۔
سو آج الوداع کہتے ہوئے دل اداس ضرور ہے، مگر مغموم نہیں۔ اس میں تشکر زیادہ ہے، شکایت کم؛ اطمینان زیادہ ہے، حسرت کم۔ ربِ کریم نے سفر شروع کرنے کا موقع بھی دیا اور اسے عزت کے ساتھ مکمل کرنے کی مہلت بھی۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے؟اور اس طویل سفر کی تکمیل پر، اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر، اور اپنے تمام ساتھیوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے محبت، احترام اور دعا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights