Categories
Education History of Pakistan India Interesting Facts انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت قومی تاریخ قومی سیاست ہندوستان

تحریکِ خلافت کا فائدہ انگریز کو ہی ملا؟

سمے وار (تحریر: ف فاران)
انگریزوں کے قبضے کے دوران مزاحمت کے بیچ ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں کو یہاں سے ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ لوگ اپنی زمینیں اونے پونے داموں بیچ کر خلافت بحال کروانے کے چکر میں افغانستان کی طرف روانہ ہوئے۔ کمزور افغانستان چند لاکھ سے زیادہ مہاجرین کا بوجھ برداشت نہ کر سکا، اگرچہ شروع کے مہاجرین کو غازی امان اللہ خان نے زمینیں بھی الاٹ کر دی تھیں، مگر بعد میں آنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہ رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہی مہاجرین واپس آ کر کمی کمین بن کر کم تر سماجی حیثیت میں انہی زمینوں میں آباد ہوئے جن کے وہ کبھی خود مالک تھے۔
انگریزوں نے اس تحریک کو ختم کروا دیا اور پھر مسلمانوں میں کانگریس کی جگہ مسلم لیگ کو مل گئی۔جو انگریز کی منشاء تھی درحقیقت تحریکِ خلافت اور ہجرت کے ذمہ دار مولانا آزاد اور مولانا برادران یعنی مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر تھے۔ مولانا برادران نے اس دوران مختلف فنڈز کے نام پر کروڑوں روپے کا چندہ حاصل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا شوکت علی تو بمبئی کمشنر کے ذاتی دوست تھے اور بعد میں مسلم لیگی بن گئے، ان کی بیوی بھی انگریز تھی۔لیکن وہ سیاست اسلام کے نام پر کرتے تھے.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights