Categories
Cricket Exclusive Interesting Facts Karachi Society انکشاف سندھ کراچی

کراچی والے اسٹیڈیم کیوں نہیں آرہے؟

سمے وار (خصوصی رپورٹ)
تین عشروں کے بعد کراچی میں بین الاقوامی کرکٹ ہو رہی ہے، جس پر سابق کپتان سرفراز احمد نے کہا انھیں 1996 کے ورلڈکپ کا میچ نیشنل اسٹیڈیم میں دیکھنا یاد ہے، جب میں بہت چھوٹا تھا، اب اتنے طویل عرصے کے بعد یہ میچ پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف خالی اسٹیڈیم ہر ایک کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، اسے بین الاقوامی سطح پر بھی موضوع بحث لایا جا رہا ہے، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف تبصرے سننے کو مل رہے ہیں، جیسے ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ:
“کراچی والے اگر میچوں کے پیچھے پڑ گئے تو پاکستان کیسے چلے گا؟”
دوسری جگہ لکھا گیا:
“بہت اچھا اقدام ہے کراچی والوں کا ان بے غیرتوں کا میچ دیکھنے سے بہتر ہے کہ آدمی اپنی محنت مزدوری کرے”

ایک صارف نے بہت تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “کراچی کے عوام اسٹیڈیم کیوں نہیں اتی؟
سیکیورٹی کے نام پر اسٹیڈیم چار اطراف سے 5،5 کلو میٹر تک بند، گاڑیاں پارک کرنے کی مناسب جگہ نہیں، جس کی وجہ سے عوام کو اسٹیڈیم جانے میں شدید مشکلات ہوتی ہیں۔ اور پھر میچ شروع ھونے سے 6,6 گھنٹے پہلے جانا پڑتا ہے اور واپسی کا تو پوچھیے مت
واپسی میں گاڑیوں کے سامان کی چوری، موٹرسائیکل چوری۔۔۔۔ کی پریشانی۔۔ الگ
مزید ااسٹیڈیم میں داخلے کے وقت ذلالت الگ
نہ پانی، نہ چپس، کوئی چیز اندر نہیں لانے دیتے بلکہ موبائل بھی نہیں۔۔۔
پھر بندہ زیادہ ہی ڈھیٹ ھو یا وہ وہی اسٹیڈیم جاے گا!”
ایک دل جلے شائق نے کہا:
“پارکنگ دو کلومیٹر دور ہے، اتنا پیدل پیدل چل کر اگر پنڈی بوائز کو میچ دیکھنے جانا پڑے تو وہاں بھی خالی ہی ہو گراؤنڈ
اس کے بعد گراونڈ میں یہ بڑے بڑے جنگلے لگا رکھے ہیں، صرف اس لیے کہ کچھ کراچی کے باہر سے تشریف لانے والے اجتماعی تفریح کے تصور سے نا آشنا ہیں، ان کا واحد مقصد پونڈی کرنا ہوتا ہے۔”
ایک اور کراچی والے نے خالی اسٹیڈیم پر اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح کیا:
“کامن سینس کی بات ہے کہ لاہور کے اور پنڈی کے اور پشاور کے بندے کرکٹ کھیل رہے ہیں تو کراچی والے کیوں دیکھیں گے؟ بھائی کراچی کے ٹیلنٹ کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے تو کراچی کے عوام نے تو یہ کچھ بھی نہیں کیا ورنہ اس کے کرکٹ کا کراچی میں بائیکاٹ ہونی چاہیے جب لاہور کے بندے یہاں کا ٹیلنٹ نہیں دیکھنا پسند کرتا”
ایک صارف نے کچھ یوں کہا:
“پہلے جتنے بڑے کھلاڑی کراچی سے پیدا ہوئے تھے، کراچی کرکٹ کی نرسری تھا جب سب کچھ لاہور لے کے چلے گئے ھو تو کراچی کے لڑکوں کو سیلکٹ کرتے ھوئے موت آتی سرفراز کے ساتھ اتنی زیادتی کی اسے وقت سے پہلے ٹیم سے باہر کردیا تھا جتنے بھی بورڈ کے سربراہ بنے انھوں نے کراچی کرکٹ کے لیے کچھ نہیں کیا، شرجیل ایک اچھا اوپنر ھے اسے صرف سندھ کا ھونے کی وجہ سے چانس نہیں مل رہا ہے صائم ایوب بھی کراچی سے ھے اس نے اپنے کھیل سے جیت کی راہ کھول دی تھی اگر ایمانداری سے سیلکشن کرو گے تو اچھے بیٹس مین کراچی سے ملیں گیں اور اچھے بالر پنجاب سے ملیں گیں۔
اس حوالے سے ایک اور تجزیہ کچھ اس طرح بھی سامنے ۤآیا:
“جب تک اس ملک میں استحکام نہیں آئے گا لوگ اب نفرت کرتے ہیں ایسے نظام سے صاف بات ہے نہ ٹیم اچھی لگتی ہے نہ کرکٹ اچھی لگتی ہے نہ ٹورنامنٹ اچھا لگتا ہے کیونکہ قوم کے جذبات کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا گیا ہے پچھلے تین سالوں سے وہ عوام میں اب ایک شدید لاوا بن چکا ہے عوام اپنے ہر ادارے سے ہی نفرت کرتی ہے سچ حقیقت بات یہ ہے ہر جگہ میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئ ہیں پورے ملک میں کوئ اتنا ڈھنگ کا بندہ نہیں ہے۔”
اس کے ساتھ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے کراچی کی مجموعی صورت حال، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سیاسی جبر، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولتوں کی نایابی سمیت کراچی کے عوام کی لاتعلقی کو بھی موضوع بنایا، ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ پرسکون اور مطمئن ہوں ٹو تب ہی وہ کھیل کے میدانوں کا رخ کرتے ہیں، یہاں زیادہ تر غیر مقامی ہے دکھائی دینے لگے ہیں، کیوں کہ وہ تنہا یہاں کمانے آئے ہوئے ہیں، ان کے پاس اور کچھ سرگرمی ہی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights