سمے وار (خصوصی رپورٹ)
قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے، مگر بہت ہی کم لوگ شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی اور اس کے شناخت کے خودکار نظام سے واقف ہوں گے۔
اگرچہ آپ سب لوگ تقریباً روز اپنا شناختی کارڈ دیکھتے ہوں گے، لیکن آج تک آپ کو اس پر لکھے 13 ہندسو ں کے کوڈ کا مطلب کسی نے نہیں بتایا ہو گا۔
شناختی کارڈ نمبر کے شروع کے پہلے پانچ نمبر، جیسا کہ
ہم ایک شناختی کارڈ نمبر لکھتے ہیں
15302-*******-*
اس میں سب سے پہلے آنے والا پہلا نمبر
یعنی 1
جو کہ صوبے کی نشان دہی کرتا ہے، یعنی جن لوگوں کے شناختی کارڈز کے نمبر
1 سے شروع ہوتے ہیں، وہ لوگ صوبہ خیبر پختُونخواہ کے رہائشی ہیں
اسی طرح اگر آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر 2 سے شروع ہو رہا ہے،
تو آپ فاٹا کے رہائشی ہیں۔
اسی طرح
پنجاب کے لیے 3،
سندھ کے لیے4،
بلوچستان کے لیے 5،
اسلام آباد کے لیے 6،
گلگت بلتستان کے لیے 7۔
اس پانچ ہندسوں کے کوڈ میں دوسرے نمبر پر آنے والا ہندسہ آپ کے ڈویژن کو ظاہر کرتاہے.
مثال کے طور پر
اوپر ديیے گئے کوڈ میں
دوسرے نمبر پر
5کا ہندسہ ہے،
جو کہ “مالاکنڈ” کو ظاہر کرتاہے.
جبکہ باقی تین ہندسے
آپ کے متعلقہ ضلع،
اس ضلعے کی تحصیل،
اور یونین کونسل نمبر
کو ظاہر کرتے ہیں۔
درمیان میں لکھا ہوا 7 ہندسوں پر مشتمل کوڈ
*****-1234567-*
آپ کے خاندان نمبر کو ظاہر کرتاہے، ہر خاندان کے تمام افراد
جو ایک دوسرے سے خونی رشتوں کے تحت جڑے ہوتے ہیں،
ان سب افراد کا باہمی تعلق کا تعین اسی درمیانے کوڈ سے هوتا هے.
اسی کوڈ کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ شجره یعنی ایک فیملی ٹری تشکیل پاتا یے.
آخر میں کے بعد آنے والا نمبر
*****-*******-1
شناختی کارڈ نمبر کا یہ آخری ہندسہ
آپ کی جنس کو ظاہر کرتا ہے
مردوں کے لیے یہ نمبر ہمیشہ طاق میں ہو گا.
مثال کے طور پر 1,3,5,7,9
جب کہ دوسری طرف
خواتین کے لیے یہ جفت میں ہوگا،
مثال کے طور پر 2,4,6,8
اس طرح نادرا کے خودکار نظام کے تحت
ہم سب کا
قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں آتا ہے۔