سمے وار (تحریر: سعد اخلاص)
یہ سوال تقریباً ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کرتا ہے کہ ”کیا اسلامی بینکاری واقعی اسلامی ہے یا صرف اس کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے؟“ اور اگر یہ نظام واقعی اسلامی ہے تو ”یہ کتنے فیصد اسلامی ہے؟“
یہ سوال عام آدمی کے ذہنی اشکالات کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے، مگر اس کا جواب سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے روایتی بینکاری کا ڈھانچا سمجھا جائے اور پھر اسلامی بینکاری کے بنیادی اصولوں پر نگاہ ڈالی جائے۔
بینک کا اصل کردار کیا ہے؟ معاشی اصطلاح میں بینک دو طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے:
1۔ وہ لوگ جو رقوم جمع کرواتے ہیں (Depositors)
2۔ وہ افراد، کاروبار یا حکومتی ادارے جنھیں سرمایہ درکار ہوتا ہے (Users of Funds)
یہ نظام بہ ظاہر دونوں ماڈل میں یک ساں ہے، مگر اصل فرق معاہدے کی نوعیت میں ہے۔
روایتی بینکاری : قرض اور سود کا لازمی تعلق
روایتی بینکاری میں ڈپازٹ لینے اور قرض دینے، دونوں میں قرض (Loan) کا معاہدہ ہوتا ہے۔
اور شرعی اصطلاح میں: ”قرض پر حاصل ہونے والا ہر نفع سود ہے۔“
چناں چہ روایتی بینکاری کا پورا نظام سود ہی کی بنیاد پر کھڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے اس کے مالی معاملات ’ربا‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسلامی بینکاری: مختلف معاہدات، مختلف راستے
اسلامی بینکاری بڑی حد تک وہی مالیاتی ضرورت پوری کرتی ہے، جو روایتی بینکاری کرتی ہے، مگر طریقہ¿ کار مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہاں ہر پروڈکٹ ایک مخصوص شرعی معاہدے کے تحت چلتی ہے۔
1- ڈپازٹس کا معاملہ
کرنٹ اکاو¿نٹس: یہاں بھی قرض کا معاہدہ ہوتا ہے، مگر بینک اس پر کوئی نفع نہیں دیتا، اس لیے یہ ’سود‘ نہیں بنتا۔
سیونگ اکاو¿نٹس (مضاربہ): یہاں قرض نہیں، بلکہ شراکت داری ہوتی ہے۔ صارف سرمایہ کار ہوتا ہے (ربّ المال) اور بینک کاروباری شراکت دار (مضارب)
نفع حقیقی منافع پر تقسیم ہوتا ہے، نہ کہ طے شدہ ریٹرن پر — یہی بنیادی شرعی فرق ہے۔
2- سرمایہ آگے لگانے کا طریقہ
روایتی بینک قرض دیتا ہے، جب کہ اسلامی بینک قرض نہیں دیتا، بلکہ حقیقی مالیاتی سرگرمی میں داخل ہوتا ہے:
خرید و فروخت (مرابحہ)، کرایہ داری (اجارہ)، شراکت داری (مشارکہ/مضاربہ)، پیشگی خرید (سلم)، صنعت کاری کا معاہدہ (استصناع)
یہ تمام خرید و فروخت یا خدمات پر مبنی حقیقی معاہدے ہیں، جہاں نفع قرض سے نہیں، بلکہ اصل معاشی سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے۔
”اسلامی بینکاری کتنے فیصد اسلامی ہے؟“
میرے نزدیک تو یہ سوال ہی اپنی بنیاد میں کمزور ہے۔
دنیا کا کوئی بھی نظام 100 فی صد غلطیوں سے پاک نہیں ہوتا۔ اسلامی بینکاری بھی ایک عملی نظام ہے اور اس میں بھی غلطی کا امکان اسی طرح ہے، جیسے کسی بھی دوسرے نظام میں ہوتا ہے۔ اصل سوال یوں ہونا چاہیے:
”کیا اسلامی بینکاری میں غلطیوں کو پکڑنے اور درست کرنے کا نظام موجود ہے؟“
اور اس کا جواب واضح اور دو ٹوک ہے: ”جی ہاں — مکمل اور مضبوط نظام موجود ہے!“
اسلامی بینکاری میں عالمی معیار کا Shariah Governance Framework نافذ ہے، جس میں شریعہ بورڈ، پراڈکٹ اسٹرکچرنگ و منظوری، شریعہ ریویو، داخلی و خارجی شریعہ آڈٹ، اصلاحی اقدامات جیسے مضبوط کنٹرولز شامل ہیں۔ یہ سسٹم نہ صرف خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کی اصلاح کو یقینی بھی بناتا ہے۔
اصل مسئلہ، سود کی صحیح تعریف سے ناواقفیت ہے! بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سود کے بارے میں غلط فہمیاں عام ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں: ”پیسے سے پیسہ بنانا سود ہے!“
”فکسڈ ریٹرن ہمیشہ سود ہوتا ہے!“
یہ تعریفیں غیر شرعی اور ناقص ہیں۔ اسلامی قانون میں سود کی اصل تعریف بہت واضح ہے: ”قرض پر کسی بھی قسم کا نفع سود ہے۔“
جب یہ بنیادی نکتہ سمجھ میں آجائے، تو اسلامی اور روایتی بینکاری کا فرق بھی خود بہ خود واضح ہونے لگتا ہے۔
سود سے پاک نظام کی طرف سفر — اجتماعی ذمہ داری ہے! سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 2027ءتک ملک میں غیر سودی نظام کے نفاذ کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، مگر صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں۔ عوامی سطح پر سود اور غیر سودی طریقوں کا فرق سمجھانا بھی نہایت ضروری ہے، کیوں کہ یہ معاملہ صرف بینکوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کے تجارتی لین دین سے جڑا ہوا ہے۔
اسلامی بینکاری کوئی دکھاوا یا نام کی تبدیلی نہیں۔ یہ ایک مکمل شریعت پر مبنی، شفاف، باقاعدہ نگرانی اور احتساب کے مضبوط ڈھانچے پر قائم مالیاتی نظام ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ روایتی نظام قرض پر نفع پر کھڑا ہے اور اسلامی بینکاری حقیقی معاشی سرگرمی، حقیقی معاہدات اور شریعہ گورننس پر۔
جب سود کی صحیح تعریف ذہن میں بیٹھ جائے تو اسلامی بینکاری کی حقیقت سمجھنے کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
