Categories
Exclusive Gaza India Interesting Facts USA انکشاف دل چسپ عالمی منظرنامہ ہندوستان

ایران نے ہندوستان کا ساتھ کیوں دیا؟

سمے وار (خصوصی رپورٹ)
یہ 1994 کا ایک سرد دن تھا جب تہران کے ہوائی اڈے پر بھارتی فضائیہ کے طیارے نے چکر لگا کر لینڈنگ کے لئے جھکائی لی اور نیچے اترنے لگا شدید سرد موسم میں جب طیارہ رن وے پر رکا تو طیارے سے وہیل چیئر پر ایک کمزور بدن کا بوڑھا برآمد ہوا جس کے ہمراہ ایک ڈاکٹر اور تین معاونین تھے۔ایرانی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی اس بوڑھے کو دیکھ کر پروٹوکول توڑ کر تیزی سے آگے بڑھے اور رسمی علیک سلیک کے بعد ہمدردانہ تشویش بھرے لہجے میں پوچھا
“ایسی کیا افتاد آ گئی ہے کہ آپ اس حال میں تہران آئے ہیں؟”
جواب میں وہیل چیئر پر موجود بوڑھے نے مسکرا دیا
یہ بیمار بوڑھا کوئی عام شخص نہیں بھارت کا وزہر خارجہ دنیش سنگھ تھا جو کے پاس اس وقت کے وزیراعظم نرسمہا راؤ کا ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے لیے ایک نجی خفیہ خط تھا۔
اس پیغام رسانی کے لئے نرسمہا راو خود بھارتی وزیر خارجہ کی عیادت کے لئے اسپتال گئے تھے بظاہر یہ عیادت تھی لیکن ایک خفیہ مشن کا آغاز تھا، بھارتی وزیر اعظم نے عیادت تو کی ہی لیکن تشویش بھرے انداز میں ایک سیکرٹ مشن سامنے رکھ دیا دنیش سنگھ نے نرسمہاراو کی ساری بات غور سے سنی اور بھارت کے مفاد میں حامی بھر لی جس کے بعد انہیں بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے تہران پہنچا دیا گیا
ایرانی وزیر خارجہ کے استفسار پر دنیش سنگھ نے مسکرا کر وزیراعظم کا خط ان کے حوالے کر دیا۔اسی روز دنیش سنگھ نے ایرانی صدر، وزیرِ خارجہ اور اسپیکر ناطق نوری سے ملاقاتیں بھی کیں،مشن کامیاب ہوگیا ایرانی صدر رفسنجانی نے وزیراعظم راؤ کے لیے وہی پیغام دیا جسے وہ سننا چاہتے تھے۔
دراصل 94 ء میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر ااقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (جسے اب انسانی حقوق کونسل کہا جاتا ہے) میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ایک قرارداد پیش کرنے جا رہی تھی، جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہندوستان کی مذمت کی جانی تھی، اس قرارداد کی منظوری کی صورت میں، اسے سلامتی کونسل میں لے جانے کی پلاننگ تھی، جہاں امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک ہندوستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے لیے منتظر تھے۔
لیکن گیم ایران نے پلٹ دی، جنیوا میں جب پاکستانی وفد نے قرارداد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، تو ایران کے نمائندے نے تہران کی براہِ راست ہدایت پر حمایت سے انکار کر دیا۔ ایران نے موقف اختیار کیا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کا دوست ہے، اور یہ مسئلہ نوآبادیاتی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر حل ہونا چاہیے یوں یہ قرارداد وہیں دم توڑ گئی، اور اقوامِ متحدہ میں کشمیر پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کوشش ناکام ہو گئی حالانکہ تہران مشن سے ایک ہفتہ قبل نئی دہلی میں ایرانی سفیر علی شیخ رضا عطار نے کشمیری حریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور عبدالغنی لون کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا۔ دو دن بعد وہ دوبارہ گیلانی صاحب سے ملاقات کے لیے آئے اور یقین دہانی کروائی کہ کشمیر ایرانی خارجہ پالیسی کا مستقل جز ہے مگر جیسے ہی جنیوا میں ایرانی موقف بدلا، دہلی میں پاکستانی سفیر ریاض کھوکھر اور حریت رہنما گم سم رہ گئے۔ایرانی سفیر عطار بھی حیرت زدہ رہ گئے اور بس اتنا کہا کہ
ہندوستان نے ایک بڑی پیشکش کی ہے، جسے رد کرنا ایران کے لیے ممکن نہیں۔
’اسی کے بعد ہی ایران-پاکستان-ہندوستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ سامنے آیا، جسے ‘امن کی پائپ لائن’ کہا گیا۔ چند ماہ بعد وزیراعظم راؤ نے غیر وابستہ ممالک کی تحریک کی سربراہی کانفرنس میں کہا کہ
کشمیر پر ‘آزادی سے کم کسی آپشن پر بات ہو سکتی ہے
ان کا جملہ؛“Sky is the limit for Kashmir”خاصا مشہور ہوا — مگر جیسے ہی عالمی دباؤ ختم ہوا، نہ پائپ لائن رہی، نہ کشمیری آپشن۔
آج ایران اپنی تاریخ کے کڑے وقت میں ہے مسئلہ اس کی بناء کا ہے سپریم کمانڈر اپنے خاندان سمیت شہید ہوچکے ہیں،پاسداری انقلاب کی قیادت بھی ان کے ساتھ حملے میں ماری جاچکی ہے ایسے وقت میں دہلی کے پاس بہترین وقت تھا کہ 94ء کے احسان کا بدلہ اتار دے ۔۔۔۔۔ اور مودی نے وہ بدلہ یوں اتارا کہ تہران سے آنکھیں پھیر کر سارا وزن امریکہ اور اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دیا۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights