Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi Society انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ کراچی

پرانا ہِل پارک: جب کراچی ایک احساس تھا

سمے وار (مرسلہ: سعد احمد)
ستر کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے۔ میرے ماموں شادی کے بعد ٹیپو سلطان روڈ منتقل ہوئے تھے۔ ہر ہفتے کے آخر امی اور ابو کے ساتھ ان کے گھر جانا ہوتا، اور شام ہوتے ہی ہمارا رخ ہِل پارک کی طرف ہو جاتا۔
ہِل پارک ایک ہلکی سی چڑھائی پر واقع تھا۔ جیسے ہی گاڑی اوپر پہنچتی، سامنے پورا پرانا کراچی روشنیوں میں نہایا ہوا دکھائی دیتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔
ایک طرف شفاف جھیل تھی، جس میں بطخیں سکون سے تیرتی رہتی تھیں۔ سرسبز گھاس، خوب صورت بینچیں، کشادہ فٹ پاتھ، ٹھنڈی ہوا اور ہر طرف گھومتے پھرتے خاندان… زندگی کتنی سادہ، محفوظ اور خوب صورت محسوس ہوتی تھی۔
مجھے آج بھی وہ دیوار یاد ہے جہاں پروجیکٹر کے ذریعے بار بی کیو، چائے، کافی اور کولڈ اسپاٹ کے اشتہارات دکھائے جاتے تھے۔ اُس زمانے میں یہ اشتہارات بھی ہِل پارک کی شاموں کا ایک دلکش حصہ تھے۔ لوگ چند لمحوں کے لیے رک کر انھیں دیکھتے، پھر اپنی سیر اور گپ شپ میں مگن ہو جاتے۔ آج بھی وہ منظر میری یادوں میں تازہ ہے۔
اُس وقت کراچی میں خوف نہیں تھا، صرف زندگی تھی۔ لوگ بلا جھجھک شام ڈھلے پارکوں کا رخ کرتے، بچے کھیلتے، بزرگ ٹہلتے، نوجوان مستقبل کے خواب بُنتے، اور ہر چہرے پر سکون دکھائی دیتا۔
آج ہِل پارک تو موجود ہے، مگر وہ شامیں، وہ جگمگاتا کراچی، وہ بے فکری، وہ اپنائیت اور وہ دلوں کا سکون کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ اب لوگ وہاں جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ پارک وہی ہے، مگر منظر بدل چکا ہے۔
کبھی کبھی ہمیں کسی جگہ کی نہیں، اُس دور کی یاد ستاتی ہے جس میں محبت زیادہ تھی، خوف کم تھا، اور کراچی واقعی “روشنیوں کا شہر” کہلانے کا حق ادا کرتا تھا۔ کیا آپ کی بھی ہِل پارک یا پرانے کراچی سے کوئی ایسی یاد وابستہ ہے؟ اپنے تبصرے میں ضرور شیئر کیجیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights