Categories
Education India Media Society تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ

ماضی سے پکارتی ’’سیر بیں‘‘ آواز

سمے وار (تحریر: احمد اقبال)
نہ ’بی بی سی‘ کا اردو پروگرام رہا نہ ’سیر بیں‘ مگر وہ دل نواز مہرباں آواز میرے تصور میں گونجتی ہے جو ہر شب خبروں کے فورا بعد سنای دیتی تھی ’’بی بی سی کی اردو سروس کے سامعین کو لندن سے رضا علی عابدی کا آداب‘‘ ۔ اس کے ساتھ ہی چند سیکنڈ کی موسیقی جو Signature Tune تھی ۔ جو میرے کان اس وقت بھی سن رہے ہیں ۔ اسی طرح جیسے بچپن سے جوانی تک ہر شہر کی سڑک پر چلتے ہویے اچانک کسی بھی گھر یا دکان کے ریڈیو سے سنا تو جان لیا کہ وقت کیا ہے ۔1968 میں آغاز ہونے والے اس پروگرام کی آخری پییش کش 31 دسمبر 2019 کو ہویؑی مگر اس سے بہت پہلے رضا علی عابدی کی ذمے داری دوسروں نے سنبھال لی تھی وہ ریٹایر ہو کے پاکستان آگیے تھے۔ میں کسی طرح بھی ان کی جگہ لینے والوں کی قدر کو کم نہیں سمجھتا مگر آواز کی دنیا میں میرے ہم عمروں کیلیے ریڈیو کی دو ٓاوازیں امر ہیں۔ایک رضا علی عابدی کی اور دوسری ریڈیو سیلون کے امین سیانی کی۔
یہ حقیقت ہے کہ سیر بیں کی آواز نے کانوں کو ہی نہیں دلوں کو بھی تسخیر کر لیا تھا۔ ایک بار میں بس سے کویٹہ جارہا تھا۔ باہر مکمل تاریکی تھی اور اندر مکمل خاموشی۔۔ مسافر چپ اور خوابیدہ سے تھے کہ اچانک ڈراییور نے ریڈیو پر سیر بیں لگا دیا۔ موسیقی کے ساتھ ہی ایک دم سب جاگ کے مستعد ہو گیے۔ بلوچستان کے ویران کوہساروں کی تاریک شب رضا علی عابدی کی آواز سے بھر گیؑ۔ دوسری بار میں نے گلشن معمار کی ایک زیر تعمیر عمارت کے اندھیرے میں سے اس آواز کو ابھرتا سنا جہاں دن بھر کام کرنے والے مزدور چولھا جلا کے روٹی پکا رہے تھے ۔ سیر بیں کےاسیر سب تھے۔ کیا محمود اور کیا ایاز۔
رضا علی عابدی کو میں نے پہلی بار اسلام آباد کے ادبی میلے میں دیکھا۔ وہ کسی پوتی نواسی کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ چلتے آرہے تھے اور عقیدت مند شناسا ان سے ہاتھ ملارہے تھے۔اتفاق ایسا ہوا کہ میں کیفے ٹیریا میں چایے پینے گیا تو وہ وہاں پہلے سے موجود تھے اور مجھے ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کے اپنا تعارف کرانے اور بات کرنے کا موقعہ ملا۔ میں نے ان کی کتاب ’ریل کہانی‘ ۔۔ ’جرنیلی سڑک ‘ ۔۔ ’کتابیں اپنے آبا کی‘ اور ’شیر دریا ‘ کی تعریف کی اور ایک سوال پوچھا کہ انہوں نے بر صغیر کی تاریخی مساجد پر کچھ نہیں لکھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتے کسی ٹی وی چینل کی ٹیم انہیں لے گیؑ۔ اگلے روز میں پھر چایے پی رہا تھا کہ وہ اسی بچی کے سہارےآہستہ آہستہ چلتے نمودار ہوےؑ اور بولے’’ معاف کرنا اقبال میاں ۔۔تمھارے سوال کا جواب نہ دے سکا۔تھا‘‘ میں بھونچکا رہ گیا۔ ۔۔ان کو میرا نام یاد تھا۔ جواب پھر رہ گیا۔۔۔ پھر ان کے پرستارانہیں لے گیے
کافی دن بعد میں نے ایک اعترافی پوسٹ لکھی کہ مجھے گفتگو میں حسن اخلاق اور شایستگی سکھانے والےدو افراد تھے۔ایک رضا علی عابدی اور دوسرے علی سفیان آفاقی۔عابدی صاحب کو پھر کراچی میں ارٹس کونسل کی اردو کانفرنس کے دوران دیکھا۔ ایک وقفے میں کھانا کھارہاتھا کہ وہ پچھلے دروازے سے اندر آیے اور وایف نے مجھے بتایا تو میں اٹھ کے ملنے گیا۔ان کا وہی دھیما پر سکون شایستہ لہجہ اورشفقت کا انداز۔ ظاہر ہے انہیں گزشتہ ملاقات یاد نہیں تھی۔ میں ان کو ہاتھ تھام کر ٹیبل تک لے آیا اور چایے پینے پر رضامند بھی کر لیا دوسرے سب نیاز مند دور کھڑے انتظار کے سوا کیا کر سکتے تھے۔نہ انہیں کھینچ کر لے جا سکتے تھے نہ اس ٹیبل پر بیٹھ سکتے تھے جہاں میری وایف کے علاوہ بھای اخلاق احمد کی وایف بھی تھی۔میں نے انہیں اپنا سوال یاد دلایا تو بولے’’ جب سیر بیں تھا تب یہ سوال کرتے تو میں ضرور تحقیق کرتا۔ اب کیا فایدہ‘‘
اس کے بعد ہر سال ان کو اردو کانفرنس میں دیکھتا رہا وہ مشکل سے چل پاتے تھے لیکن آتے ضرور تھے۔ پھرمیں اسلام اؓباد آگیا۔ چند روز قبل مجھے ان کی یہ تصویر اس فرمایش کے ساتھ موصول ہوئی کہ میں سیر بیں کی یادیں شیؑیرکروں ۔ان کے پرستارانہیں بھولے نہیں ہیں
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights