سمے وار (تحریر: مشعل ظہور)
ٽڙي پوندا ٽارئين،
جڏهن ڳاڙها گُل،
تڏهن ملنداسين۔
جڏهن ورنديون ڪونجڙيون،
هَر هَر ڪري هُل،
تڏهن ملنداسين۔
یہ سندھ کے مشہور شاعر شیخ ایاز کی تحریر ہے جسے صوفی گلوکار علن فقیر نے اپنی آواز میں گایا اور آج بھی اس گانے کو نئی نسل پسند کرتی۔ ۔ اس شعر اور گانے سے گاؤں کی کافی یادیں جڑی ہیں۔ میرا گاؤں بلوچستان میں سندھ کی سرحد کے قریب ہے، جہاں یہ بتا نا مشکل ہے کہ کون سندھی ہے اور کون بلوچ۔ یہاں نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں ۔ہر کوئی خلوص اور اخلاق سے رہتا ہے۔ سب اس وطن کی مٹی سے محبت کرتے ہیں اور صوفیوں کو یاد کرتے ہیں۔
مجھے گاؤں گئے ہوئے تقریباً پانچ سال ہو گئے ہیں۔ پہلے ہر سال سردیوں میں چکر لگتا تھا۔ اب وہ سردیاں اور صبح کی دھند بہت یاد آتی ہے۔ چارپائی پر اخبار جہاں کا۔ astrology کالم پڑھنا
اور سنگترے کھانا، شام کو باورچی میں کوئلوں پر ہاتھ سیکنا اور شہر سے آۓ ہوۓ گرما گرم مونگ پھلیاں کھانا۔ رات کی یخ ٹھنڈ میں، شال اوڑھ کہ کزن کے ساتھ گڑ والی چائے پینا اور باتیں کرنا ہر سال یاد آتا ہے ۔
جیسے ہی گندم کی فصل کٹ جاتی اور درجہ حرارت گرتا تو
کونجوں کا جھنڈ پھڑپھڑاتے ہوئے ہماری سرحد پر چند دنوں کے مہمان بن کر آتے۔ یہ سائبیریا اور یورپ کی سخت سردی سے بچنے کے لیے کچھ عرصے کے لیے ہمارے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔
بہار کے آتے ہی ہوا میں سرسوں کی مایل خوش بو گھول جاتی اور سرسوں کے پیلے پھول ہوا میں لہراتے، تب یہ پرندے ہماری سر زمین کو خدا حافظ کرتے۔
کچھ عرصہ پہلے ڈان نیوز میں ایک خبر پڑھی جس نے مجھے سنجیدہ کر دیا۔ خبر کے مطابق، پچھلے سال کے مقابلے میں پچاس فیصد سے بھی کم کونجیں یہاں تک پہنچیں۔ احساس جن پرندوں کی آمد ہمارے لیے ہر سال سردیوں کی ایک پہچان ہوا کرتی تھی، جن کو واپس شاعر لکھتے تھے اب ان کی تعداد اب کم ہوتی جا رہی ہے۔
کونج ایک ایسا پرندہ ہے جس کا ذکر پاکستان کی مختلف زبانوں کی شاعری اور گیتوں میں ملتا ہے۔ یہ پرندے اکتوبر میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے گرم علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور مارچ کے آس پاس واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کی آمد اور واپسی ہمارے موسموں اور collective memory کا حصہ رہی ہے۔
شیخ ایاز کی شاعری میں کونج کی واپسی کو وصل کی امید سے جوڑا گیا ہے۔ ان کے شعر کا مطلب کچھ یوں ہے کہ جب درختوں کی شاخوں پر سرخ پھول کھلیں گے تو ہم ملیں گے، اور جب کونجوں کے جھنڈ واپس آئیں گے اور ان کی آوازیں فضا میں گونجیں گی، تب ہماری ملاقات ہوگی۔ اس شعر میں پرندوں کی واپسی صرف موسم بدلنے کی علامت نہیں، بلکہ جدائی کے بعد ملنے کی امید بھی ہے۔
کونج کا ذکر صرف سندھی شاعری میں نہیں بلکہ پنجابی اور سرائیکی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ مختلف شاعروں نے اس پرندے کو جدائی، غم، خوشی، ہجرت اور دوبارہ ملنے کی امید سے جوڑا ہے۔ پنجابی شاعری میں کونج کا اپنے جھنڈ سے بچھڑ جانا اور اپنے ساتھی کو ڈھونڈنا انسان کی اپنی جدائی کی کہانی بن جاتا ہے۔
پنجابی شاعری میں یہ مصرعے بھی ملتے ہیں:
کونج وچھڑ گئی ڈاروں، تے لبھدی سجناں نوں
یہ بنجابی فولک گیت ہے جو رونا لیلا نے 1971 میں بنجابی سپر ہٹ فلم بازی گر کے لیے گائ تھی۔
ان مصرعوں کا مطلب کچھ یوں ہے۔ کونج اپنے جھنڈ سے بچھڑ گئی ہے اور اب اپنے ساتھی کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اس ایک مصرعے میں جدائی کا سارا دکھ سمٹ آتا ہے۔ کونج کا اپنے جھنڈ سے بچھڑنا انسان کے اپنے لوگوں سے دور ہو جانے جیسا ہے۔
سرائیکی شاعری میں بھی کونج کو جدائی اور غم کی علامت کے طور پر لکھا گیا ہے۔ طاہر شیرازی سے منسوب یہ اشعار اسی کیفیت کو بیان کرتے ہیں:
جین ڈیہن دا ہجر سہندی ہے
ہر ویلے حالت مندی ہے
کوئی کونج غریب ہے پٹناں تے
ہاں کھنڈی ہے، کُرلاندی ہے
ان اشعار میں ایک ایسی کونج کا ذکر ہے جو اپنے جھنڈ سے بچھڑ گئی ہے اور اپنے دکھ میں پکارتی رہتی ہے۔ اس کی آواز میں تنہائی اور جدائی کا درد ہے۔
کونج کے شکار اور ان کی بے بسی پر وکیل عبد الحمید کی ایک نظم بھی ہے۔ اس نظم میں سارَس پرندوں کا ایک جھنڈ اپنے وطن واپس جا رہا ہوتا ہے۔ سب پرندے آزاد فضا میں خوشی سے اڑ رہے ہوتے ہیں کہ اچانک ایک شکاری آ جاتا ہے اور بندوق چلا دیتا ہے۔ گولی کی آواز سے سارَس پرندے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن شکاری کے نصیب میں صرف دو پرندے ہی آتے ہیں، باقی اڑ کر نکل جاتے ہیں۔
ایک سارَسوں کا قافلہ
شوقِ وطن دل میں لیے
آزاد سب افکار سے
اٹھکھیلیاں کرتا ہوا
واپس تھا، گھر کو جا رہا
یہ نظم صرف پرندوں کے شکار کی بات نہیں کرتی، بلکہ ان کی اپنے وطن واپسی کی خواہش کو بھی دکھاتی ہے۔ یہ پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اپنے لیے ایک محفوظ جگہ ڈھونڈتے ہیں، لیکن یہاں بھی انہیں شکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جب میں اپنے گاؤں کی سردیوں کو یاد کرتی ہوں تو مجھے سرسوں کے کھیت، صبح کی دھند اور آسمان پر اڑتے کونجوں کے جھنڈ یاد آتے ہیں۔ یہ سب میرے بچپن اور اپنے گاؤں سے جڑی یادوں کا حصہ ہیں۔ لیکن اب سوچتی ہوں کہ ہے کہ کیا آنے والی نسلیں ان پرندوں کو کبھی نہیں دیکھی گی اور اشعار گیتوں کو گہرائی سے نہیں سمجھ سکے گی۔
شیخ ایاز کے شعر میں کونج کی واپسی کے ساتھ ملنے کی امید بندھی ہوئی ہے۔ لیکن اگر یہ پرندے واپس آنا ہی چھوڑ دیں تو کیا ہوگا؟ کیا ہماری سرزمین ویسی ہی رہے گی؟ کیا وہ سردیاں، وہ سرسوں کے پھول اور صبح کی دھند ویسی ہی محسوس ہوں گی؟ کیا یہ پرندے صرف تخلیق اور تحیر کا حصہ رہ جائیں گی۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں).
