Categories
Interesting Facts Karachi Rizwan Tahir Mubeen Society تہذیب وثقافت دل چسپ رضوان طاہر مبین رمضان سمے وار بلاگ کراچی مہاجرقوم

”بھائی سلطان کی دکان“ جہاں زندگی جی جاتی تھی!

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
کہتے ہیں کہ کوئی جگہ، کوئی مقام دیکھنے والوں کے لیے محض ایک جگہ ہوتی ہے، لیکن اس سے وابستہ یا اس کے قریب والوں کے لیے یہ ایک پوری ’نگری‘ کی طرح ہوتی ہے ان کی زندگی کا ایک اٹوٹ سا حصہ ہوتی ہے ہر محلے میں ہی کچھ نہ کچھ جگہیں لازمی طور پر ایسی ہوتی ہیں، جو واقعتاً وہاں کے ہر مکین کے لیے ایک مختلف اور منفرد حیثیت رکھتی ہیں اور کسی وجہ سے اگر وہ موجود نہ رہے، تو یکایک اندر ایک درد کا سا احساس ہوتا ہے، جیسے زندگی میں سے کچھ کم ہوگیا ہو
بس ایسی ہی ایک دکان ہماری کالونی میں ’ماڈرن کولڈرنک‘ کے نام سے قصہ¿ پارینہ ہوگئی اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے بچپن سے اگر ’ماڈرن کولڈرنک‘ کے لوازمات نکال دیے جائیں، تو پیچھے کچھ زیادہ باقی نہیں رہے گا!
وہ ’ماڈرن کولڈرنک‘ جو ہمارے بہت بچپن میں محض دو شٹروں کی کونے کی ایک چھوٹی سی دکان ہوتی تھی، نام سے ظاہر ہے کہ یہ عام محلوں کی طرح کا ایک ’جنرل اسٹور‘ تھا لیکن ہمارے واسطے تو وہ چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے والا ایک ایسا مقام تھا کہ جس سے آگے شاید کچھ کم ہی سوچا جاتا ہوگا ٹھنڈی ٹھار بوتلوں سے لے کر، فروٹو کے جوس، پولکا کی مشہور آئس کریم اور وضع وضع کے بسکٹ سے لے کر نہ جانے کیا کچھ ہم نے وہاں سے لیا تھا ہم نے کہاں لیا تھا، ہمارے ابو ہمیں دلوایا کرتے تھے بس بادشاہت تھی کہ دکان میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دیجیے، لے جائیے اب ایک چھوٹے بچے کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے
اِس دکان کے روح و رواں بھائی سلطان اور ان کے چھوٹے بھائی، بھائی مہتاب ہوا کرتے تھے، ایک ہم ہی کیا، محلے کے چھوٹے بڑوں اور لڑکوں بالوں کی توجہ کا مرکز یہی دکان ہوا کرتی تھی، رات گئے تک یہاں ایک رونق قائم رہتی تھی اور اس طرح وقت کے ساتھ ’ماڈرن کولڈرنک‘ بھی خوب پھلتی پھولتی رہی۔ نام سے تو شاید ہی کوئی اس دکان کو پکارتا ہوگا، سارا محلہ اُسے ’بھائی سلطان کی دکان‘ کہتا تھا۔
ابھی ہماری کم عمری ہی تھی کہ ’ماڈرن کولڈرنک‘ میں ایک ’انقلاب‘ آیا کہ یہ اسٹور تقریباً سامنے اور معروف ’اسٹار والی بلڈنگ‘ کے بالکل مقابل تعیمر ہونے والی ایک نئی عمارت کے نیچے چلا آیا، اور صاحب چلا کیا آیا ماشااللہ نیچے کی پوری عمارت ہی اب ’ماڈرن کولڈرنک‘ ہوگئی۔ یعنی محلے کی دکانوں میں تو کیا ابھی شہر میں بھی بڑے بڑے سپر اسٹور کی طرح کا چلن اتنا زیادہ کہاں تھا، اس لیے ایسی دکانیں نگاہوں کا مرکز ہوا کرتی تھیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب تو ’ماڈرن کولڈرنک‘ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تھا وسیع وعریض اور تین کونوں پر لگ بھگ درجن بھر شٹروں سے آراستہ یا دکان ہماری کالونی کے مرکزی راستے پر ہی واقع تھی، چناں چہ محلے میں نئے آنے والے اِس اسٹور سے راستے کی پہچان کرواتے تھے۔ اور یہ ہر آنے جانے والے کی نگاہ میں آتا، کوئی رشک کرتا تو شاید کوئی حسد بھی کرتا ہوگا تبھی ابتدائی دنوں میں انھیں ایک ڈاکے کی صورت میں خاصے ناخوش گوار واقعے کا بھی سامنا کرنا پڑگیا اور ماجرا بھی ایسا کہ رمضان کے دنوں میں یہ واردات ہوئی اور اس موقع پر دکان میں موجود جی دار بھائی مہتاب خطرات سے کھیلنے والے ثابت ہوئے اور انھوں نے کسی طرح ڈاکو کو چکما دیا اور نزدیک ہی موجود پانچ کلو گھی کا ڈبہ اس کے سر پر دے مارا، جس کے نتیجے میں اُسے گھائل ہوکر بھاگتے ہی بنی، مگر وہ جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ میں پھر آﺅں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اگلے ہی برس غالباً شام کے بعد جب دنیا رمضان کا چاند دیکھ رہی تھی، اسی لمحے ’ماڈرن کولڈرنک‘ پر دوبارہ ڈاکا پڑگیا۔ اس بار بھی دکان پر بھائی مہتاب موجود تھے، انھوں نے اب کی بار بھی ہار نہ مانی اور بندوق سے مسلح ڈاکو سے الجھ گئے، اس دھینگا مشتی میں دکان میں گولی بھی چل گئی، کہتے ہیں کہ اس نے بندوق تان لی تھی، جس پر بھائی مہتاب نے اس کا ہاتھ موڑا اور اسی اثنا میں فائر بھی ہوگیا، خوش قسمتی سے نشانہ خطا ہوا
اب یہ ذکر چل نکلا ہے تو تذکرہ پورا کیے دیتے ہیں، اس کے بہت برسوں بعد اس دکان پر تیسری بار بھی ایک ایسی واردات ہوئی۔ بھائی مہتاب نے اِس بار بھی اپنی مزاحمت کی روایت نہ بدلی، اس بار گھی کا ڈبّا تو شاید ہاتھ میں نہیں آسکا، لیکن ’منرل واٹر‘ کی ایک بڑی بھاری بوتل یا کین ضرور ملا، انھوں نے اٹھایا اور اس کے دے مارا، مسلح ڈاکو نے ایک بار پھر گولی چلائی، جو بھائی مہتاب کی پنڈلی کو چھیلتی ہوئی گزر کر انھیں زخمی بھی کر گئی اور انھیں کچھ دن آرام کرنا پڑا۔
’ماڈرن کولڈرنک‘ کی پرانی دکان میں باہر سے ہی ساری خریداری کی جاتی تھی، اب نئی دکان میں اندر سامنے ہی بڑا سا کاﺅنٹر ہے، دائیں بائیں دیدہ زیب شوکیس سلیقے سے لگے ہوئے ہیں، جس میں وضع وضع کی چیزیں آراستہ ہیں، ڈیپ فریزر میں اُس وقت کی مشہور زمانہ ’پولکا‘ آئس کریم کے مختلف حجم اور ذائقوں کا سامان جمع ہے، کچھ میں کولڈرنک دھری ہیں کہ دکان کا نام ہی ’کولڈرنک‘ پر ہے، دوسری طرف ایک بہت بڑے اسٹینڈ پر ڈان ڈبل روٹی بھری پڑی ہے، یہ بھی دل چسپ بات ہے کہ ان کی دکان پر بہت عرصے تک صرف ڈان ڈبل روٹی ہی ملتی تھی، بہت عرصے تک وہ اور کوئی اور ڈبل روٹی رکھتے ہی نہیں تھے، ’ڈان‘ کا ایک ٹرک آتا تھا، اور صبح جب دکان دیر سے کُھلتی تو وہ باہر ہی ڈبل روٹیوں کے کریٹ رکھ جاتا تھا اور ہمیں ڈبل روٹی صبح جلدی چاہیے ہوتی تھی، تو ہم روزانہ صبح ایک ڈبل روٹی ان کی بند دکان کے باہر رکھے کریٹ میں سے نکال کر لے آتے تھے، جس کا حساب کتاب ابو ان سے بعد میں کر لیتے تھے۔ کبھی کبھی اوپر تلے کئی بھاری بھرکم کریٹ دھرے ہوئے ہوتے تھے، اور ہمیں ایک درمیانی ڈبل روٹی نکالنے کے لیے کریٹ کو کھسکانے میں بہت دقت ہوتی تھی
پہلے محلے کے جو دوست یار دکان کے باہر کھڑے ہو کر کولڈرنک ’پُھوڑا‘ کرتے اور ان میں ہنسی مذاق ہوا کرتا، ان کے لیے اب دکان کے اندر بھی کافی جگہ موجود تھی، اور روک ٹوک کیا تھی، اندر کے حصے میں بھی محلے کے لوگ آزادنہ آتے جاتے تھے، ہم بھی اندر شوکیسوں کے درمیان چلے جاتے تھے اور اپنی پسند سے مختلف چیزیں نکال کر کاﺅنٹر پر لے آتے تھے کولڈ رنک سے یاد آیا کہ ہم بچوں کے شوق مختلف چیزوں پر ’اسکیمیں‘ ہوتی تھیں، جس میں کولڈرنک کے ڈھکنے (کیپ)، جسے ہم ’ٹِکلی‘ کہتے، کا ایک زمانہ اسیر رہا، اکثر اس میں مختلف اسکیمیں آتی رہتی تھیں۔ شاید ایک کے بعد ایک نیا سلسلہ ہوتا تھا اور اس پر انعام لینے کے لیے کبھی اس کے ’ڈھکنے‘ جمع کرانے ہوتے، تو کبھی خالی بوتل، تو کبھی کسی چیز کے ریپر، کبھی کوئی کوپن وغیرہ وغیرہ۔ پھر اکثر شام کے وقت سب بچے اپنے اپنے انعام لینے ان کی دکان پر پہنچے ہوئے ہوتے تھے ہمارا بھی ایک دو بار ایسے انعام نکلا تھا۔ یہ دکان نہیں جیسے لڑکوں بالوں کا ایک ’پارٹی پوائنٹ‘ بھی تھا، بہت سے پکی عمر کے افراد اس کے اطراف کے اونچے تَھلّوں پر بھی رات گئے اپنی محفلیں سجائے بیٹھے ہوئے ہوتے تھے، جیسے کسی گاﺅں میں فرصت کے بعد سارے گاﺅں والے دن بھر کے معمولات پر بات کرتے ہیںِ، حالات حاضرہ کی چُٹکیاں لیتے ہیں۔ ایسے میں اندر سے منگوائی گئی کولڈرنک یا جوس کا دور بھی چل رہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا کہ زندگی میں سب کچھ اچھا ہی اچھا چل رہا ہے، کسی کو زندگی میں کوئی پریشانی، کوئی دکھ بیماری کوئی کٹھنائی ہے ہی نہیں!
’ماڈرن‘ کی نئی دکان کے تمام شٹروں پر ’پولکا‘ کا روایتی آٹھ پتیوں والا بڑا سارا پھول بنایا گیا تھا لیکن پھر جب ’والز‘ نے آئس کریم کی سلطنت پر راج کرنے کے لیے ’پولکا‘ کو خرید کر ’قتل‘ کیا، تو پھر انھی پھولوں کی جگہ ’والز‘ کے دھاری دار نشان نے لے لی اور پھر ’والز‘ کا موجودہ ’لوگو‘ آیا، تو اس پر بھی وہی رنگ دیا گیا۔
خیر بات ’ماڈرن کولڈرنک‘ کی ہو رہی تھی پھر بوجوہ ماڈرن کولڈرنک کو ’آدھا‘ کر دیا گیا، باقی آدھے حصے میں ’گودام‘ بنا دیا گیا۔ لوگ شادیوں میں کولڈرنک کے لیے بھائی سلطان کے ہاں ہی کہلوایا کرتے تھے، اب ان کے پاس بڑے بڑے گوداموں میں کولڈرنک کا اچھا خاصا ذخیرہ ہوتا، یہی منظر اب دکان کے بائیں حصے میں رہا، پھر آخر میں دائیں حصے میں ہوگیا، باقی آدھا حصہ بدستور دکان کی صورت میں موجود تھا۔ اِس دکان کو بہت محنت سے بھائی سلطان اور بھائی مہتاب نے چلایا، ان کا بھرپور ساتھ کسی سگے بھائی کی طرح ’بھائی گڈو‘ (مرحوم) نے دیا، جو شکل وصورت میں بھی بالکل ان کے کوئی سگے بھائی جیسے ہی لگتے تھے، لیکن وہ دراصل بھائی اختر کے چھوٹے بھائی تھے، ایک تیسرے یہی بھائی گڈو ہی ہوتے تھے جو ہمیں کاﺅنٹر پر دکھائی دیتے تھے، پھر بھائی سلطان کے چھوٹے بھائی، بھائی راجا بھی کچھ وقت کے لیے بیٹھنے لگے، جب بھائی راجا نے پانچویں لائن میں سابق عبدالستار کباب کے قریب اپنا مشہور زمانہ اسٹور ’ماڈرن آئس‘ بند کر دیا تھا تب۔
اب ’ماڈرن آئس‘ کا ذکر ہے، تو ایک المیے کا ذکر کیے بغیر نہیں گزرا جا سکتا، جو کہ ان کے بڑے بھائی عبدالجلیل کی حادثاتی موت تھی۔ یہ ایک ایسا اندوہ ناک سانحہ تھا کہ جس سے پورا محلہ گویا کہ لرز کر رہ گیا تھا۔ عبدالجیل برف کا کام کرتے تھے، یہ واقعہ ہماری پیدائش سے بھی بہت پہلے کا ہے، جب رمضانوں کے دن تھے کہ برف لاتے ہوئے ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی۔ کسی نے ان کی گاڑی کا نمبر دیکھ کر بھائی سلطان کو حادثے کی خبر دی۔ بھائی سلطان نے جا کر اس واقعے کی تصدیق کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بھائی سلطان کہتے تھے کہ میں اپنی ماں کو خبر دینے گیا، گلی میں جاتا تھا اور گھر کے پاس سے بار بار لوٹ آتا تھا کہ یہ بات جا کر کس طرح اپنی ماں کو بتاﺅں گا!!
بہرحال وقت گزرتا گیا، ہم نے پھر اپنے بچپن میں بھائی عبدالجیل کی جگہ پر بھائی راجا کی دکان سے برف ضرور لی۔ ڈیڑھ روپے کی یا دو روپے کی۔ یہ بالکل آج کے گلو برف والے کے ساتھ ساتھ ہی ہوتے تھے، خوب مقابلہ رہتا تھا دنوں میں۔
پھر یوں ہوا کہ بھائی سلطان اور بھائی مہتاب نے دکان کے سلسلے کو کسی کو ٹھیکے پر دے دیا۔ پھر کچھ وقت بعد واپس بھی لیا اور پھر شاید کوئی آٹھ دس برس قبل ’ماڈرن کولڈرنک‘ بالکل ختم ہی کر دی گئی۔ یہ ہم جیسے ’بچوں‘ کے لیے ایک بہت عجیب سی خبر تھی، جیسے کوئی دیرینہ ساتھی اور کوئی اپنا ساتھ چھوڑ گیا ہو۔ ’بھائی سلطان کی دکان‘ تو وہ دکان تھی کہ جہاں قہقہے گونجتے تھے، زندگی مسکراتی تھی، کسی کے گھر مہمان آگئے، کوئی خاص موقع ہے، جَھٹ بھائی سلطان کی دکان پہنچیے اور خاطر تواضح کے لیے جو چاہے لوازمات لے جائیے۔ محلے کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے لیے بھی کولڈرنک یہیں سے جاتی تھی۔ یہ دکان ہماری ایسی ’عادت‘ تھی کہ برسوں گزر گئے، وہ گلیاں چھوڑے ہوئے، لیکن پھر کوئی قریبی دکان اپنے گھر کے پاس ایسی بن ہی نہ سکی کہ جہاں ہمیں یقین ہو کہ جو چیز لینے جائیں گے وہ ضرور مل جائے گی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آج بھی ہمیں کبھی ایک دکان، تو کبھی دوسری اور کبھی تیسری دکان پر ڈولنا ہی پڑتا ہے۔ ثبات ایک تغیر زمانے کو ہے۔ ’ماڈرن کولڈرنک‘ کی پرانی دکان کی خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی صورت کے نشان کے طور پر اب بھی بند پڑی ہے، لیکن بڑی دکان کی جگہ اب تین چار دکانیں کھل چکی ہیں اور عین ’ماڈرن‘ کی جگہ پر بھی ایک ایسا ہی جنرل اسٹور ہے، لیکن بقول انشا اللہ خاں
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
”مگر وہ بات کہاں مولوی مَدن کی سی“
’ماڈرن‘ کوئی دکان تو نہ تھی، وہ تو محلے بھر کا ایک بھروسا، ایک اعتماد اور تعلق تھا۔ جس میں بھائی سلطان اور بھائی مہتاب کی زندگی بھر کی محنت شامل تھی۔ کوئی تہوار، کوئی موقع، کوئی وقت۔ بھائی سلطان کی دکان ہر لمحہ حاضر ہے، بس صبح ذرا دیر سے ضرور کھلتی تھی، لیکن پھر رات گئے تک کھلی رہتی تھی۔ ہم نے ’ماڈرن کولڈرنک‘ پر یہ تحریر آدھی ادھوری سی بہت عرصے پہلے سے لکھی ہوئی تھی، کہ جب یہ دکان بند کی گئی۔ ہم اپنا یہ مضمون آپ کو اپنی یادوں کے طور پر پڑھوانا چاہتے تھے، لیکن آج 22 نومبر 2025ءکو صبح اٹھتے کے ساتھ ہی یہ افسوس ناک اور تکلیف دہ خبر ملی کہ گذشتہ رات گئے ہمارے بھائی سلطان کا انتقال ہوگیا ہے! تو بس پھر بالکل رہا نہیں گیا بہت ساری اور باتیں بھی یاد آتی چلی گئیں۔ یہ ’ماڈرن کولڈرنک‘ دراصل بھائی سلطان ہی تھے۔ دکان بند کیے جانے کے کچھ وقت بعد وہ بھی صاحب فراش ہوگئے تھے۔ پنج وقتہ نمازی اور رکھ رکھاﺅ والے آدمی تھے۔ ہمارا ان سے کوئی خونی رشتہ نہ تھا، لیکن بچپن سے ایک شخص کو اپنی زندگی اور اپنے قرب وجوار میں اتنا اہم پایا اور پھران کے بڑوں کے ہمارے بزرگوں سے بے تکلفی اور اپنائیت کے کچھ ناتے ایسے رہے کہ ہم نے اپنے اسی ’حق‘ کو استعمال کرتے ہوئے یہ ساری باتیں کہہ دیں اورآخر میں بھائی سلطان کی زندگی کی ایک اور انفرادیت اور ایک ہی نیکی بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں۔
بھائی سلطان کی صحت نے جب تک اجازت دی، ان کا رمضان المبارک میں یہ معمول تھا کہ وہ افطار سے کچھ لمحے قبل ایک بڑی سی ٹرے میں بہت ساری کھجوریں سجا کر کالونی کے بس اسٹاپ پر جا کر کھڑے ہو جاتے تھے اور اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے روزے داروں کے روزے کھلواتے تھے۔ یہ بہترین کھجوریں ہوتیں، جس میں وہ باقاعدہ گھٹلیاں نکلوا کر مکھن بھرتے تھے، رمضان کے دنوں میں اپنی دکان کے لڑکوں سے بھی یہ خدمت لیتے تھے۔ بھائی سلطان جوان سے عمر رسیدہ ہوگئے، مگر کوئی 40 برس کے قریب انھوں نے بلاتعطل یہ نیک کا جاری رکھا۔ سڑکوں پر روزے کھلوانے کے دسترخوان اور اس کے لیے جملہ لوازمات کے آج نظر آنے والے سلسلے تو بہت بعد کی پیداوار ہیں۔ بھائی سلطان نے 1970ءکی دہائی سے یہ خوب صورت روایت قائم کی اور موسم کے سرد وگرم سے بے نیاز پورا پورا رمضان یہی معمول بنائے رکھا۔ خود شہر کے تَھوک بازار جا کر عمدہ کھجوریں لے کر آتے اور کسی دن بھی اس کام کی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ محلے میں لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی افطار کے وقت گھر پہنچنے میں ناکام ہوئے، تو اسٹاپ پر یہ خدمت بھائی سلطان نے کی اور ان کے سامنے کھلی ہوئی ٹرے میں مکھن لگی ہوئی لذیذ کھجوریں پیش کر دیں۔ لوگ اپنی اپنی سواریوں، بس، ویگن، رکشا، ٹیکسی اور بائیک وغیرہ پر شدید آپا دھاپی میں آرہے ہیں کہ اذان ہونے کو ہے کہیں دیر نہ ہوجائے، لیکن ادھر بھائی سلطان ان کا روزہ کھلوان کے لیے بس اسٹاپ پر موجود ہیں، ہمارے گھر والوں نے بھی دیر سویر ہونے پر ان کی کھجوروں سے روزہ کھولا۔ ابو تو کبھی اس کے علاوہ بھی کبھی افطار کے ساتھ مکھن والی کھجوریں لے آتے تھے۔ ہمیں تو بہت بعد میں پتا چلا کہ یہ بھائی سلطان کی سوغات ہے، وہ ایسے ہی مٹھی بھر کے سات آٹھ کھجوریں کاغذ کی پڑیا میں ڈال کر دے دیتے تھے۔ یہ یقیناً ایک بہت بڑی بات ہے کہ روزے دار کس قدر بے چینی اور انتظار سے اذان مغرب کے انتظار میں دسترخوان پر موجود ہوتا ہے، لیکن آپ اپنے گھر کے ایسے کسی دسترخوان سے بے نیاز مسافروں کا روزہ کھلوانے کے لیے باہر سڑک پر موجود ہیں۔ پھر وہیں سے سیدھے مغرب کی نماز ادا کرنے کے لیے ’بڑی مسجد‘ پہنچ جاتے تھے۔ سفید کاٹن کے شلوار قمیص میں ملبوس، پہلے صرف مونچھیں اور گیسو قدرے دراز، پھر بہت عرصے سے شرعی داڑھی کے ساتھ موجود تھے۔ کل اللہ کے یہ نیک بندے اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ ہمیں گمان ہے کہ اللہ اپنے اِس نیک بندے کے حسنات کی طرف نظر کرم فرمائے گا اور ہر سال روزے داروں کی میزبانی کے وسیلے اپنے ہاں ان کی بہترین مہمان نوازی فرمائے گا۔
الوداع بھائی سلطان الوداع اللہ تعالیٰ آپ کی کامل مغفرت فرمائے، آمین۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights