Categories
Education Karachi KU MQM PPP انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی تعلیم جامعہ کراچی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

جامعہ کراچی: نثار کھوڑو کا سندھ کے ڈومیسائل پر داخلوں کا حکم

سمے وار (تحریر: سعد احمد)
منگل 18 نومبر 2025 کو سندھ اسمبلی کے ارکان پر مشتمل پبلک اکاوئنٹس کمیٹی نے جامعہ کراچی کی داخلہ پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی بھی سندھ میں ہے اس لے اس میں سندھ کے ڈومیسائل کو پہلی بنیاد بنانا چاہیے کراچی کو نہیں۔ واضح رہے کہ اس پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی سندھی راہ نما نثار کھوڑو کر رہے ہیں، جن کا کراچی سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا پیپلز پارٹی کا۔۔۔۔
لوگوں کو یاد ہوگا کہ جامعہ کراچی میں 1990 کی کراچی میں حقوق کی جدوجہد کے عملی نتائج کی صورت میں ابھی تک یہی داخلہ پالیسی جاری ہے کہ پہلے مطلوبہ اہلیت کراچی کے ڈومیسائل والے طلبہ میں دیکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی نشستیں بچ جائیں تو پھر سندھ کے ڈومیسائل کو موقع دیا جاتا ہے اس کے بعد پاکستان بھر کے ڈومیسائل سے یہ نشستیں پر کی جاتی ہیں۔ کراچی اور سندھ میں حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد یہ مطالبہ تھا کہ کراچی کے طلبہ کہاں جا کر داخلہ لیں جس پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ جامعہ کراچی کی یہ مشہور داخلہ پالیسی “کے، ایس، پی” یعنی کراچی، سندھ اور پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میں کراچی کے ڈومیسائل پر آدھے سے زیادہ غیر مہاجر طلبہ بھی داخلہ لے لیتے ہیں، اس کے باوجود وڈرہ شاہی ذہنیت اس کی جگہ اپنی لسانیت مسلط کرنے کے درپے ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سندھ کے وسائل کی تقسیم میں تو بڑا سخت کوٹا نافذ ہے، ملازمتیں دینے کے لیے بھی شہری سندھ اور دیہی سندھ دو ٹکڑوں کی صورت میں کوٹا سسٹم مسلط ہے۔ لیکن کراچی کو کچھ دینے کے لیے کراچی کے کوٹے کو بے رحمی سے مسمار کر دیا جاتا ہے،
یہی نہیں دنیا بھر کے بلدیاتی اداروں میں وہاں کے مقامی لوگوں کو ملازمت ملتی ہے، لیکن پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے کمزور پڑتے ہی یہاں بھی سندھ کے ڈومیسائل کی بنیاد نافذ کردی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کی للچائی ہوئی نظریں جامعہ کراچی کی داخلہ پالیسی پر ہیں۔ کسی طرح ان کی خواہش ہے کہ یہاں سے بھی کراچی کے طلبہ کا حق چھین لیا جائے اور سندھ کے نام پر انھیں جامعہ کراچی سے بھی نکال باہر کیا جائے۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کراچی کے حقوق کی جدوجہد کی چنگاری بھی جامعہ کراچی کی غیر منصفانہ پالیسی سے پھوٹی تھی۔ اب دوبارہ سندھ کے وڈیرے اس پالیسی سے چھیڑ خانی کرنے لگے ہیں۔ وفاق کو نوٹس لینا چاہیے تاکہ کراچی اور سندھ کے حالات کسی خرابی کی سمت نہ جائیں۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی کے تحت سندھ اور کراچی کے وسائل میں انصاف کیا جائے۔ کراچی کی احساس محرومی کو ہوا نہ دی جائے۔ بہ صورت دیگر کراچی کی حساسیت پھر متاثر ہوگی۔ بہتر یہ ہے کہ 35 سال سے جاری داخلہ پالیسی کو جاری رکھا جائے۔ ویسے بھی بہت سے کوٹوں کے ذریعے پیپلزپارٹی جامعہ کراچی کو سندھ یونیورسٹی بنانے میں کوئی کسر نہیں رکھ رہی ہے۔ لیکن یہ صرف لوٹنے کے لیے ہے۔ وسائل دینے کے لیے سندھ کی جامعات کے مقابلے میں جامعہ کراچی آج بھی سوتیلی ہی ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights