Categories
India Karachi MQM PPP انکشاف ایم کیو ایم پنجاب پیپلز پارٹی تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مسلم لیگ (ن) مہاجر صوبہ مہاجرقوم ہندوستان

پیپلزپارٹی نے مہاجروں کو کچھ نہ دیا، غلامی قبول نہیں!: سینئر پی پی کارکن

سمے وار (تحریر: راجہ زاہد اختر خان زادہ)
یہ تقریباً بتیس برس پرانی ایک تصویر ہے، جو کبھی فریم میں بند تھی، مگر اب میری روح پر کندہ ہے۔ وہ دن جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ٹنڈوالہیار پریس کلب آئے تھے۔ شہر کی فضا میں سیاست کی دھول پہلے ہی بہت تھی، لیکن اس دن ایک عجیب سی خنکی تھی، جیسے تاریخ اپنے قدموں سے ریت پر کوئی نئی لکیر کھینچنے آئی ہو۔
اس دور میں ایک بات زبان زدِ عام تھی کہ الطاف حسین سب سے چندہ لیتے ہیں۔ مگر اُس دن ہم نے اُن سے چندہ لیا
شان کے لیے نہیں،
ضد کے لیے نہیں،
بس اصول کے لیے…
اور اصول ہمیشہ فیس لیتے ہیں، چاہے سامنے کوئی کتنا ہی بڑا رہنما کیوں نہ کھڑا ہو۔
اُن کے گارڈ سہیل مشہدی جو بعد میں صوبائی وزیر بھی بنے نے وہ فیس ادا کی۔ یوں صحافت کا وقار بھی سلامت رہا اور پریس کلب کا اصول بھی۔
اُس وقت راجہ اقبال خانزادہ پریس کلب کے صدر تھے؛ الطاف حسین کے سخت ترین ناقد، مگر میرے دوست۔ سیاست اور دوستی کے درمیان جو باریک لکیر ہوتی ہے، میں اُس پر چل رہا تھا تنہا، مگر مطمئن۔
مگر سیاست وہ دریا ہے جس کی لہروں میں کبھی استحکام نہیں۔ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ایم کیو ایم کے مقامی ذمہ داران نے مجھے “ریڈ لسٹ” میں ڈال دیا۔
میرا جرم؟ صرف یہ کہ میں راجہ اقبال کا دوست تھا۔
پھر ایک دن، سینکڑوں کارکنان نے مجھ پر دھاوا بول دیا۔ پتھر، لاٹھیاں، غصہ، نعرے
جیسے لوگ نہیں، تاریخ کا کوئی طوفان مجھ پر برس رہا ہو۔ میں زخمی ہوا، خون بہا، مگر میرا حوصلہ ٹوٹا نہیں… سانسیں بھاری تھیں مگر دل روشن۔
پھر وہ وقت آیا جب ایم کیو ایم پر برا دور چھایا۔ وہی لوگ جنہوں نے مجھے گھیرا تھا… آج وہ خود گِھرے ہوئے تھے۔
شاید یہی انسانیت کا امتحان تھا
اور میں نے پاس ہونے کا فیصلہ کیا۔
آرمی کا دور تھا میں نے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو محفوظ کیا۔ بھولو شاہ، جس کا اصل نام سید محمد علی تھا، وہ جب آرمی کی جانب سے گرفتاری کے خوف سے کانپ رہا تھا، میں نے اسے کہا: “ڈر مت… جس راستے سے لے جا رہا ہوں، اسی راستے سے واپس لاؤں گا۔” اور میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اسے میں نے خود ایریگیشن بنگلے تک لیکر گیا اور اسے کلیئر کروایا اور اپنے ساتھ واپس لایا، یہ وہ وقت تھا جب ہم نے دشمنی کو بھولا اور انسانیت کے نام پر انکی مدد کی۔
اور پھر وہ دن بھی آئے جنہیں حیدآباد کی “پچپن “ بریگیڈ‘ کہا جاتا تھا۔ کچھ پیپلز پارٹی کے دوست جوکہ اسوقت ایف آئی اے کے اعلی افسران تھے انکا بلاوا پچپن برگیڈ تھا وہ وہاں پھنسے ہوئے تھے، میں نے انہیں بھی اپنے تعلقات سے بچایا۔ میں تب بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا، بعدازاں امریکہ آیا، تب بھی ساتھ رہا۔
بینظیر بھٹو کا وہ آخری لیکچر UTA Arlington میں، میں ان کے بالکل ساتھ تھا۔ ان کی مسکراہٹ میں مستقبل کی امید تھی۔ مگر اس لیکچر کے چھ ماہ بعد وہ امید گولیوں کے شور میں بکھر گئی۔
پھر ہم نے احتجاج کیا۔
امریکہ کے ڈاؤن ٹاؤن کی سڑکوں پر، میڈیا پر، آنکھوں میں سوال لیے… آج تک ان احتجاجوں کی ویڈیوز یوٹیوب کی دیواروں پر لگی ہیں۔
پھر ایک دن جب میں پاکستان گیا تو مرحوم ستار بچانی کی اوطاق میں مجھ سمیت لوگ موجود تھے اور ستار بچانی مرحوم نے مجھ سے ایک ایسا سوال پوچھ لیا جس نے میرے اندر کے سارے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا۔اچانک انہوں نے پوچھا:
“راجہ آپ اپنے سارے بھائی بہنوں کو امریکہ کیوں بلا رہے ہو؟”
میں نے اسپر عبدالستار بچانی سے الٹا سوال کر ڈالا اور پوچھا:
“آپ دہائیوں تک ایم این اے رہے… آپ کی اہلیہ بھی قومی اسمبلی کا حصہ ہیں…
مجھے پلیز آپ اپنے دور میں ایک اردو بولنے والے کا نام بتا دیں جسے آپ نے نوکری دی ہو؟”
وہ خاموش ہوگئے۔
پھر بولے: “آپ کی بہن کو تو میں نے نوکری دی تھی۔”
میں نے فورنا کہا:
“وہ نوکری جو اسوقت آپ کے اپنے لوگ لینے کو تیار نہیں تھے، وہ آپ نے وہ میری بہن کو دی۔ آپکا شکریہ مگر میرے خاندان نے الیکشن میں آپ کے لیے گالیاں کھائیں، دھکے کھائے، اور ہم قوم کے غدار قرار پائے سب سے بڑھکر میں آپکا دوست تھا ! میں نے پھر کہا کہ آپ میری بہن کے علاوہ اور کوئی ایک اردو بولے کا نام بتائیں، اردو بولنے والے آہکو ووٹ بھی کرتے ہیں، مگر وہ لاجواب تھے اور ظاہر ہے انہوں نے کسی ایک بھی اردو بولنے والے کو نوکری نہیں دی تھی۔ اسکے بعد
پھر میں نے انہیں یاد دلایا:
“آپ وزیر تھے، میں آپ کے قریب تھا، مگر ایک سال انتظار کیا مگر آپ نے مجھے نوکری نہ دی۔ آخرکار مجھے مخدوم خلیق الزماں کے کوٹے سے نوکری ملی، اور انہوں نے وزیراعظم سیکریٹریٹ میں میرے لیے جو الفاظ کہے، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا اور آج تک انکا احسانمند ہوں۔”
میں نے ستار بچانی سے کہا:
“میں اپنے بھائی بہنوں کو امریکہ اس لیے بلا رہا ہوں کہ مجھے اب احساس ہوچکا ہے کہ میرے اباو اجداد نے پاکستان آکر اور ہجرت کرکے سخت غلطی کی تھی یہاں سندھ کی سیاست میں اردو بولنے والا ایک نچلے درجے کاغلام ہے
میں نے کہا یہ ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کا پنجابی ڈاریکت غلام ہے اور پنجابیوں کا سندھی غلام اور سندھیوں کا اردو بولنے والا یا مہاجر غلام ہے اور اگر ہماری قسمت میں غلامی لکھ دی گئی ہے، تو یہ سب سے بہتر نہییں کہ براہ راست امریکہ کی غلامی قبول کرلی جائے اس سے کم ازکم مین اور میرے بھائی بہن غلام در غلام در غلام ہونے سے تو میں بچ جاینگے اور اسلیئے ہی اب میں امریکہ کا شہری ہوں جسےکا پنجاب غلام ہے اب مین سب سے اوپر ہون اور اب کم از کم درمیان میں کئی درجے کی تحقیر تو نہیں ہوگی ۔”
میں نے سب بہن بھائیوں کو اسپانسر کیا آج میرے خاندان کے پچاس سے زائد لوگ امریکہ میں گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ میرے دوستوں جنکو میں نے مدد فراہم کی آج امریکہ میں آباد ہیں۔ میرے لیے یہ ایک مشن تھا، اور میں نے اسے پورا کر دکھایا۔
میں آج بھی یہ کہتا ہوں:
جب سیاست انسان کو توڑ دے،
جب زبان جرم ٹھہر جائے،
جب شناخت سزا بن جائے،
تو وفاداری کا کیا فائدہ؟
اور بے وفائی سے ڈرنے کا کیا جواز؟
میں الطاف حسین کی سیاست کا کبھی حامی نہ تھا، لیکن جو میرے ساتھ ہوا
اگر کوئی اور میری جگہ ہوتا…
کیا وہ بھی یہ سب سہہ پاتا؟
آج میں صرف اپنے لیے نہیں کہتا
یہ ہر جماعت کے لیے نوشتہ دیوار ہے:
اگر آپ رہنما ہیں تو اپنے لیے جینے مرنے والوں کے ساتھ انصاف کریں۔
تعصب کی عینک اتار دیں،
اور ہر اس شخص کو وہی احترام دیں
جو آپ اپنی زبان، اپنی قوم، اپنے قبیلے کو دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ الطاف حسین نے اپنے وقت میں مڈل کلاس کے ایک عام انسان کو طاقت کے ایوانوں تک پہنچا کر دکھایا، میں آج بھی اُن کی طرز سیاست سے اتفاق نہیں کرتا، مگر جو انہوں نے کیا…
اب تک کوئی دوسرا نہیں کر سکا۔
یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔
اور تاریخ کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتی۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights