سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
“ہینس اینڈرسن کی دل چسپ کہانیاں” (مترجم : ایس اے رحمن) اچھی حالت، 184 صفحات، 32 کہانیاں, قیمت 300، ڈاک خرچ 90 روپے, واٹس نمبر فلاں فلاں…
فیس بک پر اس تحریر کے ساتھ ‘ذیلی سرورق’ بھی چسپاں تھا، جس سے پتا چلتا تھا کہ یہ کتاب کسی کو تحفے میں دی ہے۔ کتابیں تحفے میں دینے والے بھی کیا وضع دار اور خوب صورت لوگ ہوتے ہیں۔ اس ذیلی سرورق پر لکھا تھا
“پیاری بیٹی انابیہ، پیارا بیٹا ابراہیم، آپ دونوں کے لیے، من جانب باجی، آپ کی دوست، 20ستمبر 2019”
یعنی اس کتاب کو تحفے میں دیے جانے کا واقعہ بس چھے برس پہلے کا ہے۔ اور گمان یہ ہے کہ ان کم عمر بچوں یا بہن بھائیوں کو یہ کتاب ان کی رشتے کی کسی بہن یا قریبی تعلق رکھنے والی کسی بڑی شخصیت نے بہت محبت اور خلوص سے دی تھی، ماں باپ کے سوا پیارا بیٹا پیاری بیٹی کہنے والا کسی بھی طرح حقیقی والدین سے کم اہمیت کا حامل تو نہیں ہوسکتا۔ وہ کوئی استاد بھی ہوسکتی ہیں، ممکن ہے انھوں نے خود کو “باجی” لکھا ہے تو شاید وہ انھیں ٹیوشن پڑھانے والی باجی ہوں۔ یا پھر کوئی قریبی حلقے کی کوئی خاتون ہیں، جنھوں نے جتنی محبت سے کتاب خریدی اور پیش کی وہ اس تحریر میں ثبت کردیا، لیکن نہ جانے چھے برس میں یہ “بچے” کتنے بڑے ہوگئے کہ ان کے گھر سے کتاب نکل کر کباڑ اور پھر پرانی کتابوں کے ڈھیر میں آگئی۔
کتاب فروش نے اس کی اچھی حالت، ضخامت، کہانیوں کی تعداد لکھ کر کسی قاری کو تلاش کیا، لیکن شاید کتاب وصول کرنے والوں نے اپنے لیے اس تحفے میں خلوص محسوس نہیں کیا یا شاید انھیں کتابوں سے شغف نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جیسا کہ ایسے واقعات میں اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب “حادثاتی” طور پر کباڑیے کے پاس چلی گئی وغیرہ۔
اب اس کا سبب جو بھی ہو، ہم تو اس کتاب پر لکھی ہوئی تحریر پر اٹک کر رہ گئے، ظاہر ہے جب کتاب کو وصول کرنے والوں نے اس خلوص کو بے وقعت کیا تو کتاب فروش تو بہرحال تاجر ہے، اس نے بھی اس خلوص کے کوئی پیسے نہیں رکھے۔
اِدھر ہم ہیں کہ کئی پرانی پرانی رسیدیں، تحریریں، رقعے، خطوط اور یہاں تک کہ خشک ہو جانے والی کلیاں تک سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ بہت سے ایسے خالی لفافے بھی ہیں جس میں بزرگوں نے بچپن میں عیدی ڈال کر دی تھی، اس پر تاریخ ڈلی ہوئی ہے، اس میں سے پیسے تو خرچ ہوگئے، لیکن یہ لفافے آج بھی ان گزر جانے والے لوگوں کے لمس کا احساس دیتے ہیں۔ ایسے بے شمار کاغذوں کا پلندہ ہے، جس میں اکثر “غیر ضروری” طور پر برسوں سے چیزیں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں، باوجود اس کے کہ اب زندگی کی کٹھنائی میں پرانے وقت کو یاد کرنے کے لیے بھی وقت نہیں ملتا، لیکن اس کے باوجود بھی ہم اپنوں کی یادوں کو جتنا ممکن ہو سمیٹ کر رکھتے ہیں۔
اس دنیا میں دائم تو ساتھ کوئی بھی نہیں رہتا، ہمیں بھی نہیں رہنا، لیکن کچھ چیزیں رہ جاتی ہیں، ہمیں ایک عجیب مضطرب سکون سا ملتا ہے کہ اس میں چلے جانے والی ہستی کی وابستگی ہے، اس کی نسبت فلاں سے ہے، اس کا تعلق فلاں سے ہے۔
ایسے میں دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کے لیے یہ باتیں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں، وہ زندگی میں صرف آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں اور یہ تعلق، خلوص اور محبت ان کے لیے بہت بے معنی سی چیزیں ہیں، تبھی ایسی کتابیں پرانے کتابوں کے بازار پہنچ جاتی ہیں۔ جو کسی کو اپنا جان کر، دی تو بہت خلوص سے گئی ہوتی ہیں، لیکن شاید اس کے لینے والوں کے لیے وہ کچھ زیادہ معانی نہیں رکھتیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
تحفے کے خلوص کی کوئی قیمت نہیں
