Categories
Interesting Facts Karachi MQM PPP Rizwan Tahir Mubeen Society ایم کیو ایم پیپلز پارٹی رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی سندھ قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

کوئی ”مبینہ وکلا“ کے قبضوں کے خلاف بولے گا؟

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
گذشتہ دنوں گلشن اقبال (بلاک تیرہ ڈی) میں ایک شہری کو ایک عدالتی نوٹس کا سامنا کرنا پڑا، جس میں اسے اپنا ہی گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ساتھ میں پولیس بھی کارروائی کے لیے موجود تھی۔ یہ بالکل کراچی شہر جیسی صورت حال تھی، جیسے آپ نے کراچی کو اپنایا، بنایا، چلایا، سنوارا۔ لیکن اب 70 سال بعد کراچی آپ ہی کا نہیں ہے اورباقی سب کا ہے۔ خیر، وہ تو بھلا ہو اہل محلہ کا انھوں نے مزاحمت کی کہ یہ مکان تو انھوں نے خود بنایا ہے اور چالیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں، پھر چل سو چل جماعت اسلامی کی مقامی قیادت نے انھیں تنہا نہیں چھوڑا اور موقع پر پہنچ کر یہ ساری جعل سازی ناکام بنادی۔ اس کا سب سے اچھا پہلو جماعت اسلامی کے اس معاملے میں کھل کر مدد کے ساتھ اس کی چرچا عام ہو جانا ہے، کیوں کہ چند برسوں سے یہ سلسلہ بہت تیزی سے جاری ہے اور اس پر سوشل میڈیا تک پر بات کرنے سے گریز کی جا رہی تھی۔
گلشن اقبال کے واقعے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وکلا یا وکلا کا روپ دھارے ہوئے افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی اور ایک مبینہ غیر مقامی وکیل کی تصویر بھی فیس بک پر گردش کر رہی ہے، جس مین وہ اسلحے سے لیس ہے۔ کراچی شہر لاوارث تو تھا ہی اب ”مقبوضہ کراچی“ بھی بن چکا ہے۔ اور اب تو لوگ اس بات پر یقین کرنے لگے ہیں کہ الطاف حسین اور الطاف حسین کی ”ایم کیو ایم“ کا ڈبا گول کرنے کا اصل مقصد یہی تھا کہ کراچی پر اچھی طرح قبضہ کرنا ہے اور یہاں مقامی آبادی یا مہاجروںکو مکمل طور پر اقلیت میں بدلنا ہے۔ اس حوالے سے پوری ریاستی مشینری کی آشیرباد سے کراچی میں بہت تیزی سے کام جاری و ساری ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پیپلزپارٹی کی وڈیرہ شاہی بھی اس میں مکمل طور پر شامل ہے اور اس میں بے شرم اور بے حیا مہاجر سیاسی کارکنان نے بھی اپنی اور اپنے گھروں کی عزت اور غیرت گویا گروی رکھوا دی ہے۔ وہ صرف مالی مفادات اور اس کے عوض ملنے والے روپیے پیسے کے اسیر ہو چکے ہیں۔ وہ خود کراچی میں جاری اس لوٹا ماری کے حصے دار ہیں۔ یہی وجہ ہے جو جمعرات کی رات کو گلشن اقبال میں ہوا وہ کراچی کے ہر محلے کی کہانی بن چکی ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ اگر الطاف حسین کی ”ایم کیو ایم“ کے ’یونٹ‘ اور ’سیکٹر‘ قائم ہوتے تو کوئی بھی ان علاقوں کی طرف ایسی کھلی بدمعاشی تو کجا میلی آنکھ سے دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لگ بھگ ایک عشرے، جب سے کراچی میں مصنوعی سیاسی جماعتیں قائم کرکے من چاہے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ سلسلہ خوب جاری ہے۔ کرائے دار ”قانون“ کا سہارا لے کر مالک بن جاتا ہے۔ ’پگڑی‘ کے سلسلے میں تو معاملات اور بھی خراب ہیں۔ کراچی میں خالی پلاٹ پہلے کہیں مضافات میں قبضے ہوا کرتے تھے کہ آپ نے بہت عرصے تک خبر نہیں لی، تو وہاں کارروائی ہوگئی۔ اب تو آپ شہر کے بیچوں بیچ چند دن کے لیے بھی گھر بند کرتے ہوئے بھی گھبرا رہے ہیں۔ کراچی میں اس قبضہ مافیا نے اب کھلم کھلا ”کالے کوٹوں“ کی آشیرباد لے لی ہے۔ جانے یہ وکیل ہیں بھی یا نہیں، لیکن آڑ انھوں نے وکلا کی لی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا بالکل بجا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار اور سٹی کورٹ بار کو ایسے وکلا سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے، جو شہر میں کھلے عام غنڈہ گردی اور دھونس دھمکی کرتے پھر رہے ہیں۔
حالت یہ ہے کہ لوگ اپنے خریدے اور بنائے ہوئے گھروں کے کاغذات لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں کہ ثابت کرسکیں کہ وہی اصل مالک ہیں۔ اور عدالتوں کا نظام سب کے سامنے ہے، چھوٹے چھوٹے سے مقدمات یہاں برسوں تک چلتے ہیں اور اس اثنا میں ایک گھر بیٹھا ہوا شہری جس کے خون پسینے کی وہ جگہ ہوتی ہے وہ بری طرح خوار ہوتا ہے۔ پھر وہ 2016ءسے پہلے کے کراچی کو یاد کرتا ہے کہ جب اسے اپنے محلے کے ’یونٹ‘ سے اُسے ایک آسرا اور ایک تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ یہ بات بالکل درست ہے، آپ چاہیں تو ہم پر جانب داری اور ’غداری‘ کا الزام لگا دیجیے، لیکن یہ حقیقت کراچی کا ہر دکھے دل کا مقامی شہری یہی کہتا ہے۔ ان میں ضرور خرابیاں تھیں، بلکہ جرائم بھی ہوں گے، لیکن ان کا علاج ہو رہا تھا، ہوسکتا تھا اور ہونا چاہیے تھا۔ ’یونٹ‘ کی خرابی ’سیکٹر‘ اور ’سیکٹر‘ کی ’نائن زیرو‘ اور ’نائن زیرو‘ کی ’لندن‘ تک بات چلی جاتی تھی۔ اور انھی کے درمیان اکثر معاملات درست ہو جاتے تھے۔ ’بد اچھا بد نام برا‘ کے مصداق اور میڈیا ٹرائل نے ان لوگوں کا کام تمام کر دیا، پھر ڈومیسائل بھی کمزور تھا۔ یوں پرانی ’ایم کیو ایم‘ منظر عام سے ہٹا دی گئی۔
ہم نے ’ایم کیو ایم‘ کے ’یونٹ‘ کے زمانے میں شاذ ونادر ہی کبھی ان کی طرف سے فائرنگ کا واقعہ دیکھا ہوگا، لیکن اب ہر دو، تین ماہ بعد کسی نہ کسی مسئلے پر دھڑلے سے کھلے عام دن دہاڑے فائرنگ ہوتی رہتی ہے، تھانہ تو تھانہ، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے والے بھی مکمل بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ پھر وہی بات ہے کہ اس میں بہت سے کم ظرف اور ”ناسمجھ“ مقامی لوگ، اسٹیٹ ایجنٹ اور بلڈر بھی ساتھ ملے ہیں، انھوں نے اپنے ”مسئلے“ حل کرانے کے لیے ان کی ”مدد“ لی ہے۔ بس پھر جب محلے کے اندر ان کے قدم جمے تو پھر چل سو چل۔
حالت یہ ہے کہ اب بہت سی ’اسٹیٹ ایجنسیوں‘ پر ’کرائے کے مکانات اور دکانوں کے لیے معذرت‘ کا پرچا چپکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ کرائے پر دینے کے بعد اس پر مالکانہ حقوق کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور بس پھر سمجھیے آپ کا فلیٹ، دکان اور مکان گیا ہاتھ سے۔۔۔
کراچی شہر ایک حساس تاریخ رکھتا ہے، اس کو کھنڈر اور مقبوضہ شہر بنا کر یہاں مقبوضہ فلسطینی کی تاریخ نہ دہرائی جائے جہاں قابض شہری آکر دوسروں کے مکانوں پر دعویٰ کردیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس شہر کی کوئی قیادت موجود نہیں ہے۔ حافظ نعیم الرحمن مرکزی امیر بن کر یا بنا کر کراچی سے غیر فعال کردیے گئے۔ آفاق احمد بھی اچانک آواز اٹھاتے ہیں اور پھر اچانک کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ باقی بہادرآباد کے ’عارضی مرکز‘ میں جو لوگ ہیں، ان کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے بھی حیا آتی ہے، جانے ان کا کیا بنے۔ ایسے میں اس شہر میں مقامی آبادی کو ان کے اپنے گھروں، اپنے محلوں میں ایسے ذلیل اور روسو کرنے کا عمل کہیں کوئی ناخوش گوار ردعمل کو جنم نہ دے دے۔ اس کے لیے ریاست کو سوچنا چاہیے، کیوں کہ وہی چاہے تو کراچی بہتر ہو سکتا ہے، لیکن اگر ریاست نے یہی وتیرہ اپنائے رکھا تو پھر یہ صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اس شہر کے مسائل پر بولنے اور بات کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس شہر کے لوگوں کو سنیں اور دیکھیں اس شہر میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے؟
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights