سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین کے خلاف پریس کانفرنسوں کے بعد دوبارہ سے سیاسی مسائل اور سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کی سابق رکن صوبائی اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے سوشل میڈیا پر اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بہت سے لوگوں کے دلوں کو آواز فراہم کردی ہے۔

ایک طرف جہاں سابق ” پی ایس پی” کے سخت گیر صارفین ان کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہیں اور انھیں مبینہ طور پر دھمکانے اور سوفٹ وئیر اپڈیٹ کرنے تک کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہی ایک بہت بڑی تعداد میں کراچی کے شہری ان کی گفتگو کو بہ غور سن رہے ہیں اور ان کے اکثر خیالات اور تجزیوں سے اتفاق بھی کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی متحدہ سے وابستگی اور علاحدگی کے حوالے سے گفتگو کے ساتھ ساتھ متحدہ کے مختلف راہ نمائوں کو پریشان کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ جس میں انھوں نے پورے ایک سال پہلے کی اپنی متحدہ سے وابستگی کی پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں وہ ایم کیو ایم کے ایک احتجاج میں شامل ہیں، یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب بانی متحدہ الطاف حسین بدستور پارٹی کے سربراہ تھے اور احتجاج میں ان کی بڑی بڑی تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ بلدیاتی نظام کے حوالے سے اس احتجاج کا سلسلہ اس وقت ہو رہا تھا کہ جب متحدہ آپریشن کا سامنا کر رہی تھی، نائن زیرو پر چھاپے کے بعد متحدہ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا بھی جاری تھا اور سخت زبان استعمال کرنے پر میڈیا پر الطاف حسین پر پابندی عائد ہوچکی تھی، ایسے میں یہ احتجاج کیا جا رہا تھا۔
ارم عظیم فاروقی نے اپنی یہ پوسٹ شیئر بھی کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا آج ایم کیو ایم کے لیڈر اپنی پرانی پوسٹ دوبارہ شیئر کرسکتے ہیں؟ جس پر بہت سے لوگوں کے دل چسپ تبصرے جاری ہیں۔ کیوں کہ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے زمانے سے سخت نظم وضبط کا تصور موجود ہے۔ اب بھی کسی نہ کسی سطح پر اسی کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی راہ نما تو کجا کوئی کارکن یا ہمدرد بھی یہ ہمت کیسے کرسکتا ہے کہ بانی متحدہ کے حوالے سے کوئی بات دوبارہ یا اپنی کہی ہوئی بات ہی پیش کردے۔ یقیناً اس کے خلاف بہادر آباد مرکز سے کارروائی یا جواب طلبی کا امکان موجود ہے اور ایسے ماحول میں جب “پی ایس پی” گروپ بھی “متحدہ” پر نہ صرف حق جتا رہا ہے، بلکہ چیئرمین خالد مقبول صدیقی سے آگے بڑھ کر اپنی حکمت عملی کے مطابق الطاف حسین کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہے، اس کے جواب میں بہادر آباد کی باقی ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار کے ساتھ دکھائی دیتی ہے اور ان دنوں ان کی جانب سے “کراچی بچائو” مہم کے نام سے سلسلہ جاری ہے۔

