سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
دنیا میں جن جگہوں سے ’آزمائش‘ یا ’پریشانی‘ کے احساس وابستہ ہیں، ان میں اسپتال سرفہرست ہیں۔ زندگی کے نشیب وفراز انسان کو کبھی نہ کبھی اسپتالوں کی راہ داریوں میں لے ہی جاتے ہیں، کبھی کم، تو کبھی زیادہ۔ کبھی تیماردار کے طور پر، تو کبھی خود مریض کی صورت میں وہ ان اسپتال کی بھول بھلیوں میں آنے جانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسپتال کا تعلق امراض اور بیماریوں سے جھوجھنے والے مریضوں کی ذرا سنجیدہ نوعیت سے ہوتا ہے۔ یعنی یہاں ایسے مریض آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں کہ جن کا مرض زیادہ بڑھا ہوا ہوتا ہے یا ان کی کوئی تکلیف عام معالج سے دور نہیں ہو پاتی۔ اس لیے مجبوراً انھیں کسی اسپتال کا رخ کرنا پڑ جاتا ہے۔ اسپتال میں بڑے پیمانے پر مختلف امراض کے ’تخصیصی ماہرین‘ مریضوں کی تشخیص اور پھر ان کا علاج کرتے ہیں۔ اسپتالوں کے علاج میں مختلف دواﺅں سے ایک قدم آگے بڑھ کر دیگر جراحی معاملات بھی خصوصی طور پر داخل ہوتے ہیں، جو کہ عام ٹیکوں، انجکشن اور ڈرپ وغیرہ سے لے کر بڑے پیمانے پر کیے جانے والے کسی چھوٹے یا بڑے آپریشن تک دراز ہوتے ہیں۔
اسی طرح ان اسپتالوں کے پاس مریضوں کے معمول کے معائنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورت میں طبی امداد کے لیے ہمہ وقت معائنے کے لیے ماہر طبیب، جدید شعبہ جات اور مُشاق عملہ موجود ہوتا ہے۔ جس کا اعلان اسپتال کے نام کے ساتھ ’چوبیس گھنٹے ایمرجینسی‘ کی صورت میں بھی لکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں انتہائی نگہ داشت کی حساس اور پیچیدہ سہولتیں بھی نہایت ذمہ داری سی مہیا کی جاتی ہیں۔ یہی چیزیں اُسے دراصل کسی بھی کلینک سے بڑھ کر ایک اسپتال کے درجے پر فائز کرتی ہیں۔ کسی مریض کی ہنگامی یا نازک حالت ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ جب اس یقین کے ساتھ اسپتال پر اعتماد کیا جاتا ہے کہ یہاں مریض کی سنگین نوعیت سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام تر کوششیں اور مہارت بروئے کار لائی جائے گی اور اسپتال کے اندر یہ استعداد موجود بھی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین حالت میں موجود مریض کے لواحقین کی کوشش کسی کلینک کے بہ جائے کسی اسپتال پہنچنے کی ہوتی ہے، تاکہ مریض کی فوری و بہتر طور پر تشخیص ہو کر اس کے مرض کو بہتر طور پر قابو میں لانے کی کوشش کی جا سکے۔ ہنگامی حالت میں لائے گائے کسی جاں بہ لب مریض کے لواحقین لامحالہ شدید پریشانی کی کیفیت میں ہوتے ہیں، دوسری طرف اسپتال کے لیے یہ صورت حال ’معمول کا حصہ‘ ہوتی ہے۔ لواحقین بے چین ہو کر اسپتال کی فیس، دوائیں، مریض کی حالت، بہتری اور اس کی طبی امداد سے متعلق ادھر سے اُدھر بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کا جذبات میں ہونا عین فطری ہوتا ہے، اس موقعے پر اکثر لواحقین کو شکایت ہوتی ہے کہ اسپتال میں ان کے مریض کو توجہ نہیں دی جا رہی، لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ سنگین حالت میں مبتلا کسی اور مریض کو توجہ دینا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ طبی امداد اور تشخیص کے مراحل جاری ہوتے ہیں، لیکن مریض کے اہل خانہ کو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا، یا اتنی سرعت کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا، جس کی ضرورت ہے۔ اس دوران مریض کی حالت بگڑ جائے یا خدانخواستہ مریض جان سے گزر جائے، تو یہ مرحلہ کبھی لواحقین کے لیے ناقابل برداشت بھی ہو جاتا ہے، ایک طرف وہ صدمے میں ہوتے ہیں، تو دوسری طرف ان کی برہمی اسپتال اور ڈاکٹروں پر بھی ہوتی ہے کہ جنھیں وہ اپنے کی موت کے لیے مورودِ الزام ٹھیرانے لگتے ہیں۔ اس موقعے پر اسپتالوں میں بہت سے ناخوش گوار واقعات بھی پیش آجاتے ہیں اور بات ہاتھا پائی یا اس سے بھی آگے ہنگامہ آرائی تک بھی بڑھ جاتی ہے۔
اسپتالوں کی ’ایمرجینسی‘ میں آنے والے مریض بجا طور پر نازک حالت میں بھی ہوتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی موت ڈاکٹر یا عملے کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ہو، لیکن دوسری طرف لواحقین کی تجربات بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والے اور نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اپنوں کو اسپتال کے بستروں پر کھو دینے والوں سے آپ نے شاذ ونادر ہی اسپتال اور ڈاکٹروں کے حوالے سے کچھ نیک کلمات سنے ہوںگے۔ چاہے انھوں نے اپنے جذبات قابو میں رکھے ہوں، لیکن ان کے پاس شکایات کا ایک ڈھیر ہوتا ہے، جسے بدقسمتی سے کسی جگہ پر اس طرح پیش نہیں کیا جاتا کہ جس طرح پیش کیا جانا چاہیے۔ اسپتال کی انتظامیہ کا سلوک، عملے کی نااہلی، ڈاکٹر کی غفلت اور مطلوبہ سہولتوں کی عدم موجودگی تک ایک یہ ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے، جو حکام کی فوری توجہ چاہتا ہے۔
نجی اسپتالوں نے کسی بھی ایسے ردعمل سے بچنے کے واسطے جَلی الفاظ میں لکھ کر آویزاں کیا ہوا ہوتا ہے کہ عملے سے کسی بھی قسم کی ”بدتمیزی“ یا ”بد رویہ“ اسپتال آنے والے ’ستم رسیدوں‘ کو کس کس جرم کا مرتکب کر سکتا ہے۔ باقاعدہ ’نئے ترمیم شدہ قوانین‘ کے حوالوں سے اسپتال آنے والے بے کسوں کو پہلے ہی ’متنبہ‘ کر دیا جاتا ہے کہ یہاں کی کسی بھی قسم کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی ملک کے فلاں، فلاں قانون کے تحت ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ دوسری طرف اسپتال کی راہ داریوں میں زندگی کے مشکل لمحات کی سخت آزمائش سے گزرنے والوں کی راہ نمائی یا داد رسی کے واسطے کوئی ’جا‘ بھی دکھائی نہیں دیتی کہ اگر انھیں اسپتال انتظامیہ، عملے یا ڈاکٹر کی غلط کاری یا مبینہ غفلت کی شکایت درج کرانی ہو تو وہ پھر جائیں تو جائیں کہاں؟ کیا ہمارے ملک میں نجی اسپتالوں کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے؟ وہ اپنے عمل کے لیے یہاں کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہیں؟ وہ جیسے چاہیں اسپتال آنے والوں سے سلوک روا رکھیں، اپنے اسپتالوں کے کاروبار کو ’خدمت‘ کہہ کر سرکار سے مالی چھوٹ تو خوب لیں، دوسری طرف اس کا افادہ عوام کی طرف منتقل کرنا تو کجا الٹا ان کی جان لینے کے درپے قرار پائیں، ان کی زندگیوں کے واسطے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں یا نہ کریں، ان اسپتالوں کوئی لگام ڈالنے والا ہے ہی نہیں؟
یہ بات بالکل درست ہے کہ انسان اس دنیا میں آیا ہے، تو اس کی زندگی کو کسی نہ کسی موڑ پر ختم بھی ہونا ہے، کسی بھی مریض کے اسپتال تک پہنچ جانے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی جان اب بچ جائے گی۔ کبھی مریض کی پیچیدگیاں معالج کی دست رَس سے باہر بھی ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے پیارے ہمارے سامنے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ بات بھی تصدیق چاہتی ہے کہ اسپتال اور معالج نے واقعی اپنا ذمہ پوری طرح نبھایا ہے۔ لگتا تو ایسا ہے کہ ہمارے ہاں کے قواعد اور نظام کے سقم نے ان نام نہاد نجی اسپتالوں کو گویا ایک لائسنس دے رکھا ہے کہ وہ جیسے چاہیں مریضوں کی زندگی سے کھلواڑ کرتے رہیں۔ ان کی انتظامیہ اسپتال آنے والوں کو کمائی کا ذریعہ اور فقط ’گاہک‘ سے کچھ بھی زیادہ نہ سمجھیں۔ تڑپتا ہوا مریض ان کے لیے ایک معمول کی کارروائی سے زیادہ نہ ہو، زندہ رہے، رہ جائے! نہیں تو کوئی بات ہی نہیں۔ دنیا میں روزانہ ہی کئی لوگ مرتے ہیں، اگر ایک دو اسپتال میں بھی مر جاتے ہیں، تو کوئی اس کے واسطے ان سے کبھی کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ دوسری طرف کسی بھی قسم کے ردعمل کو اسپتال کی ایمرجینسی، انہتائی نگہ داشت اور ’او پی ڈی‘ کی راہ داریوں میں بڑی بڑی انتباہی تحریروں کے ذریعے دھمکایا گیا ہے۔
آخر پھر ’سفید کوٹ‘ میں چھپے مجرمانہ کردار ادا کرنے والے نام نہاد مسیحاوں کے چہرے سے نقاب کون اور کیوں کر نوچے گا۔ اسپتال انتظامیہ کی مکاری، چال بازی، دروغ گوئی اور فقط کمائی کی مکروہ ذہنیت کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے کا حساب کون اور کب لے گا؟ جس طرح ہر جگہ مریض کی موت کا سبب ڈاکٹر یا اسپتال کی غفلت نہیں ہوتی، ایسے ہی بہت ساری جگہوں پر مریض کی موت کی صورت میں اسپتال کے کردار اور ڈاکٹر کی مہارت سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے، جو کوئی واضح جواب چاہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اس سے جانے والا مریض واپس نہیں آسکتا، لیکن مستقبل میں کسی مریض کی جان بچانے کی ضرور کوشش ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ”اسپتال کے خلاف“ مریضوں اور لواحقین کو متنبہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری صورت میں ان کی راہ نمائی یا فوری شکایات کے واسطے بھی کوئی تحریر آویزاں کرنا لازمی ہونا چاہیے، تاکہ اسپتال کی آڑ میں کاروبار کرنے یا قیمتی انسانی جانوں سے کھیلنے والے شتر بے مہار نہ بن جائیں۔ ان کو کہیں نہ کہیں جواب دہی کا خوف بھی ہو۔ وہاں ساتھ میں مریضوں اور لواحقین کے قانونی حقوق سے متعلق بھی واضح طور پر آگاہی دی جائے کہ اسپتال کیا کرنے کا مجاز ہے اور کیا کرنے کا مجاز نہیں ہے!
پاکستان میں مریضوں کی داد رسی اور اسپتالوں کی شکایت کے لیے ’ہیلتھ کیئر کمیشن‘ کی سہولت ضرور موجود ہے، جس میں کوئی بھی مریض اپنی شکایات متعلقہ محکمے میں جمع کرا سکتا ہے، جس کے بعد مکمل تحقیقات بھی کی جاتی ہیں، لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی اور اس طریقہ کار کی ضرورت اوراہمیت سے آگاہی عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی سرکار کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی اسپتال قرار دی گئی جگہ کے حوالے سے باقاعدہ معائنے کا کوئی منظم نظام وضع کرے۔ باقاعدہ ایک معیار اور خاکہ ترتیب دیا جائے کہ کون سی بنیادی سہولتوں کی موجودگی کے بغیر کوئی بھی کلینک خود کو اسپتال قرار نہیں دے سکے گا۔ مثال کے طور پر بہت سے اسپتالوں میں بہت سے بنیادی ٹیسٹوں کے لیے وہاں داخل مریضوں تک کو دوسری لیبارٹریوں یا اسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے اور کبھی اس کے لیے اسپتال میں ایمبولینس موجود نہیں ہوتی، تو کبھی متعلقہ لیبارٹری میں وقت نہیں مل پاتا، یہ صورت حال کسی بھی مریض کے لیے ایک اچھے خاصے مذاق کی حیثیت رکھتی ہے، یہ اس کے لیے زحمت اور براہ راست اس کی تکلیف کو بڑھانے کا باعث ہے۔ بالخصوص اگر وہ مریض انتہائی نگہ داشت کے شعبے میں زیر علاج ہو تو اس کو کسی بھی بڑے ٹیسٹ کے لیے دوسری جگہ لے جانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
ایسے ہی تمام اسپتالوں کے لیے یہ لازم کیا جائے کہ وہ ’ایمرجینسی‘ کی سہولت ہونے یا نہ ہونے کا واضح طور پر اعلان کریں اور جو اسپتال ’چوبیس گھنٹے ایمرجینسی‘ کا دعویٰ کرے، اس اسپتال کے ایمرجینسی کی سرکاری طور پر باقاعدہ اور کڑی جانچ ہوتی رہنی چاہیے کہ آیا یہاں کے ایمرجینسی شعبے میں وہ تمام بنیادی مہارتیں اور سہولتیں دست یاب ہیں کہ جو کسی بھی ایمرجینسی کے شعبے میں ہونی چاہئیں۔ وہاں موجود مختلف ضروری آلات کس حالت میں ہیں؟ اگر صورت حال تسلی بخش نہ ہو تو اس اسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نہ کہ اس کے لیے کسی شہری کی شکایت اور کسی ناخوش گوار تجربے کا انتظار کیا جائے۔
اسی طرح اسپتالوں کے عام وارڈ سے لے کر انتہائی نگہ داشت تک کے شعبوں کی غیر اعلانیہ اور شفاف جانچ کا سلسلہ بھی ہونا چاہیے، کہ وہاں موجود ڈاکٹروں کی قابلیت کیا ہے؟ انتہائی نگہ داشت اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں جتنے ماہر ڈاکٹر اور ادویات وآلات کا ہمہ وقت موجود ہونا ضروری ہے، وہ موجود ہیں بھی یا نہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی کسی کارروائی یا جانچ پڑتال کا کوئی تصور شاید کبھی رہا ہی نہیں۔ جب کہ لوگ آئے روز مختلف نجی اسپتالوں کے حوالے سے شکایات اور سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عام ذرائع اِبلاغ میں نجی اسپتالوں کے حوالے سے بوجوہ ’مکمل گریز‘ یا ’سخت احتیاط‘ کی صورت حال نافذ دکھائی دیتی ہے۔ کبھی مجبوری ہوجائے تو بہت ڈھکا چھپا کر بات کی جاتی ہے، اگر معاملہ سنگین ہوجائے تو صرف کچھ دن کے لیے یہ معاملہ گرم رہتا ہے، پھر طاقت اور دباﺅ کا استعمال ہوتا ہے، خبریں بھی آنا بند ہو جاتی ہیں، لوگ بھی بھول جاتے ہیں یا پھر معافی تلافی کے ذریعے سب رفع دفع کرا دیا جاتا ہے۔ کھل کر اس کے حقائق سامنے آ پاتے ہیں اور نہ ہی کبھی ذمہ داروں کو کوئی سزا ہوتی سنی گئی ہے۔ یہ براہ راست انسانی زندگیوں کی بقا کا معاملہ ہے۔ کیا کسی کے قتل کے معاملے کو اس طرح نظرانداز کیا جا سکتا ہے، جیسے ہمارے ہاں نجی اسپتالوں کی مبینہ غفلتوں کو کیا جا رہا ہے۔ یقیناً نہیں! اس حوالے سے ہر جگہ کھل کر بات کرنے اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ شفا کے نام پر زندگی چھین لینے والوں کے احتساب کا سلسلہ کہیں سے تو شروع ہو سکے۔
(بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس، آن لائن سنڈے میگزین)
