Categories
Exclusive India Interesting Facts انکشاف تعلیم دل چسپ عالمی منظرنامہ ہندوستان

اسد الدین اویسی کی نادانیاں!

سمے وار (تحریر: سمیع اللہ خان)
اسدالدین اویسی کا منفی کردار اور پرسنل لا بورڈ کا اخلاقی ذِمّہ
مغربی بنگال کے چنائو میں اسدالدین اویسی کا منفی کردار اور الیکشن کے بعد ممتا بنرجی کے خلاف اویسی کا صاف صاف مشتبہ کردار انتہائی واضح ہے، اویسی کی یہ پالیسیاں مسلمانوں کو بے شعور (سیاسی جاہل) بنانے کے علاوہ ملک کی پولیٹیکل مین اسٹریم میں بدنام بھی کر رہی ہیں،
زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسد اویسی مسلمانوں کی قدآور مذہبی قیادت “آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ” کا حصہ بھی ہیں، اور پرسنل لا بورڈ کے صدر و سیکریٹریز جو کہ اکابر علما میں سے ہوتے ہیں اکثر ان کےساتھ اسد اویسی کو اسٹیج ملتا رہتا ہے، جس سے عامۃ المسلمین بھی کنفیوژ ہوتے ہیں اور غیر مسلمین بھی لوگوں کے دماغ میں یہ بھی ہےکہ اسدالدین اویسی سیاست دان ہونے کے علاوہ مسلمانوں کی مذہبی قیادت کا حصہ بھی ہے، اس لیے اویسی کے غیر ضروری اشتعال انگیز بیانات سے مسلمان اور ہندو دونوں ہی جہاں مشتعل ہوجاتے ہیں وہیں وہیں اویسی کی غلط سیاست سے تمام سیاسی جماعتیں متاثر ہوتی ہیں۔
اسدالدین اویسی کی موجودہ سیاست کوئی معمولی نقصان نہیں پہنچا رہی ہے وہ الیکشن کمیشن اور ای وی ایم کے حق میں ماحول بناتے ہیں جس الیکشن کمیشن میں اور ای وی ایم میں مودی۔شاہ کی سیاسی جان اٹکی ہوئی ہے! بہار الیکشن ہو یا مغربی بنگال ہرجگہ انہوں نے یہی کیا اس سے پہلے بھی ایسا ہی کِیا، ممتا بنرجی کے خلاف حالیہ الیکشن کے بعد ان کی بیان بازی سیدھے سیدھے کس کو فائدہ پہنچا رہی ہے؟ ہمایوں کبیر جیسے بابری مسجد کا نام استعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکا دینے والے کےساتھ ان کے اتحاد کا کیا مطلب تھا؟ ان سب کو نظر انداز کر دینا بالکل بھی امانت داری نہیں ہوگی۔
ہم نے بارہا مطالبہ کیا ہے ، درخواست کی ہے کہ اسدالدین اویسی کو یا تو پرسنل لا بورڈ سے علیحدہ کر دیا جائے یا تو پرسنل لا بورڈ کی جس بنچ میں اویسی ہیں اسی میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول، مسلم لیگ، ڈی۔ایم۔کے اور آر جے ڈی میں سے ایک ایک متحرک مسلمان سیاستدان کو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مذکورہ باڈی میں شریک کیا جائے تو اس سے یہ تاثر ختم ہوتا جائے گا اور جو نقصان اویسی صاحب کی سیاست کی وجہ سے بورڈ کو اور مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے وہ کسی حد تک کم بھی ہوگا ۔ لیکن پتانہیں کیوں بڑے سے بڑے محترم حضرات بھی اس بابت پیشقدمی سے کتراتے ہیں !
یہ نہایت معقول اور منطقی بات ہے اور بالکل منصفانہ بھی اس کا فائدہ ملت اور ملی قیادت کو ہونا ہے خدا کرے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داران کم از کم اب تو اس سلسلے میں کوئی مؤثر قدم اٹھانے کی کوشش کریں ورنہ اگر اویسی صاحب ایسے ہی رہے تو آگے تو اتنا نقصان ہوگا کہ فتنہ قرار پائیں گے اور آج ان کے سہارے لینے والے علمائے کرام ازخود افسوس کریں گے، ہمارا ماننا ہے کہ اویسی صاحب اب اتنے صاف صاف سامنے آچکے ہیں کہ ان سے جتنی بھی مثبت امیدیں یا حسن ظن وغیرہ جو بھی ہو اس کو باقی رکھ کر ان سے کام لینے یا ان تک صحیح بات پہنچانے کی کوشش یہ سب ان کے خالص سیاسی پارٹی اور ڈیموکریٹک پولیٹیکل آرگنائزیشن ہونے کی حیثیت میں ہی کیا جانا چاہیے اکابرین کے اعتماد اور مسلم مذہبی شناخت کا استعمال اویسی صاحب ہائی جیک کرلیں یہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور بڑا فتنہ ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کی سرکار میں رہتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مختلف کاز کو کافی فائدہ پہنچایا ہے اور اپنی ریاستی قوت کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نافذ کیے جانے والے ظالمانہ ہندوتوادی قوانین کو روکنے کی کوششیں کی ہیں ایسے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت پر یہ اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے وقت میں ممتا بنرجی کے ساتھ حقِ حمایت اور سماجی اتحاد کی اخلاقیات کا مظاہرہ کرکے ممتا بنرجی سمیت دیگر غیر بھاجپائی لیڈرشپ کو اپنے تئیں ایک مثبت و مثالی پیغام بھیجے، اویسی صاحب سے جس کے بھی تعلقات ہیں وہ نجی کیے جائیں اور قوم کے بھٹکتے ذہن کو مجتمع کیا جائے کہ وہ کوئی مذہبی رہنما یا مذہبی شخصیت نہیں ہیں بلکہ جیسے دیگر سیاستدان ہیں ویسے ہی وہ بھی ایک پولیٹیکل فیگر ہیں بس ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اویسی صاحب کو ان کی مفید و کارآمد صلاحیتیں ملت اسلامیہ ہندیہ کی سیاسی تعمیر میں لگانے کا مخلصانہ جذبہ عطا کرے انہیں قیادت کے لیے مطلوبہ اوصاف عطا فرمائے.
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights