Categories
Education Exclusive Farina Haidar Interesting Facts تعلیم جامعہ کراچی دل چسپ سائنس وٹیکنالوجی سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی فارینہ حیدر

اصول ریاضی اور اصول اسلام

سمے وار (تحریر: فارینہ حیدر)
پاکستانیوں کی مذہب دشمنی یا مذہبی کم علمی کی وجہ شاید بہت سے لوگ جانتے نہیں ہوں گے یا جانتے ہوں گے تو بولنا نہیں چاہتے ہوں گے ۔ کہتے ہیں تو فقط اتنا، پاکستانی شدت پسند ہیں ، یہاں جہالت ہے ، مولوی صحیح علم دیتا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ان کا کہنا ہے کہ آپ ہندو ،عیسائی ، یہودی حتیٰ کہ کمیونسٹ کو بھی دیکھے یا اس سے بات کرے تو اس کی بات میں logical reasoning یا منطقی استدلال ملے گا, جب کہ ہمارے ہاں دور دور تک منطق پر بات کرتا کوئی نظر نہیں آتا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے logical reasoning یا منطقی استدلال کسی عام آدمی میں کیسے پیدا کی جائے ۔ کیسے اس کا فہم بڑھایا جائے جبکہ تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے غربت بے انتہا ہے ۔ اتنا پیسہ نہیں مخصوص لوگوں کا حلقہ تیار کیا جائے جو عوام الناس میں منطق کے مطابق سوال جواب کرنے کی استعداد پیدا کرے ۔ اگر ہم غور کرے تو دیکھتے ہیں کہ ، ہمارے بزرگوں کی اکثریت منطق اور دلیل سے بات کرتی تھی جبکہ اعلی تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن سمجھ بوجھ کسی تعلیم یافتہ کے برابر ہی ہوتی تھی ۔ اب پاکستان میں ڈگریوں کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ڈاکٹر ،انجئیر ،وکیل بھی بڑھ گئے لیکن ساتھ ساتھ جہالت بھی بڑھ گئی وجہ اس کی بہت معمولی ہے ہم نے سب کچھ پڑھایا لیکن نہیں پڑھایا تو ریاضی نہیں پڑھایا ، ریاضی کو صرف دو جمع دو تک محدود رکھا ۔پہلے کے وقتوں میں ریاضی کے پہاڑے یاد کروائے جاتے تھے پھر ضرب، جمع تقسیم نئے طریقوں سے سکھائی جاتی تھی پھر اسی ریاضی کو علم اعداد ، علم نجوم علم جعفر وغیرہ میں استعمال کرنا سکھایا جاتا تھا، یہ سب شخص کی زاتی خصوصیات ہوتی تھیں ،چھوٹے موٹے زائچے لوگ خود ہی بنالیتے تھے۔
پاکستان گھوم لیں اب آپ کو ریاضی کا استاد مشکل سے ہی ملے گا، جب کہ آپ ہندوستان، بنگلا دیش حتی کہ شدت پسند ایران میں بھی چلے جائے وہاں بھی آپ کو ریاضی کے استادوں کی اچھی خاصی تعداد ملے گی ان کی ریاضی ڈگریوں تک محدود نہیں ہوگی ۔
بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ریاضی پڑھنے کا فائدہ کیا ، نہ تو الجبراء کے فارمولے کام میں آتے ہیں اور نہ Pythagoras theorem پھر اتنی زحمت کیوں کرے ۔دراصل یہی ہم مار کھا جاتے ہیں کیونکہ ہم جاننا ہی نہیں چاہتے کہ اس کی تھیوری کیا ہے ۔ پوری قوم تھیوری سے بھاگتی ہے اگر آپ pure maths کے استاد ڈھونڈے تو شاید ہی نظر آئے ۔ اسی طرح فلسفہ ہے، آپ کو اب شاید پورے پاکستان میں فلسفے کا استاد نہ ملے لوگوں نے فلسفہ پڑھنا ہی چھوڑ دیا، جب کہ ایران میں فلسفے کے استادوں کی لائن ہے یہی معاملہ ہندوستان اور بنگا دیش میں ہے ۔
قوم کا شعور بڑھانے والے دو مضامین دور دور تک نہیں ہیں تو وہ قوم منطق یا دلیل سے بات کیسے کرے گی ریاضی کو سیکھنے کے لئیے جو صبر وتحمل چاہیے وہ صبر وتحمل آپ کو دور دور تک نہیں ملے گے کیونکہ جو مضمون سمجھنے کے لییے آپ کو پُرسکون رہنا ہے وہ تو بڑوں نے نصاب میں شامل ہی نہیں کیا ۔ آپ کے پاس مضامین پر بات کرنے والے نہیں ہیں ۔
جب دنیاوی علوم ہی نہیں تو دینی علم جیسے فقہ آپ کیسے سمجھا سکے گے ۔ حساب کتاب آتا نہیں، فلسفہ منطق سے دور کا واسطہ نہیں پھر دینی شعور جس کی بنیاد ہی فقہ ہے وہ کیسے سمجھ آئے۔
اس کی مثال ایسے لیتے ہیں کہ گذشتہ دنوں عمران خان کی سابق بیوی جمائما کی پوسٹ پر کچھ لوگوں نے برا مانا کہ میں نے کہہ دیا کہ مسلمان عورت غیر مسلم سے شادی کرے گی تو دین سے خارج ہوگی۔ کسی نے کہا کہ ایمان دل کا معاملہ ہے یہ تو اللہ جانتا ہے کون مسلمان ہے کون نہیں۔ اگر چند لوگوں نے بھی تھیوری کے بنیادی اصول پڑھے ہوتے تو یقیناً میری بات کسی کو بری نہ لگتی ۔ ہر تھیوری کے اپنے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ وہ تھیوری اپنے بنیادی اصولوں کے اردگرد گھومتی ہے اگر وہ اصول غلط ہوجائے تو تو تھیوری پرانی ہوجاتی یا غیر اہم یا غیر متعلق ہوجاتی ہے جیسے آپ کلاسیکل تھیوریز پڑھتے ہیں اس میں سے بہت سی غیر اہم ہوگئی۔ کیوں کہ ان کے اصول فیل ہوگئے۔ جیسے زمین چپٹی کی تھیوری تھی ۔
اسلام کی بنیادی تھیوری توحید ہے اس کا ہر نظریہ یر اصول توحید کے گرد گھومتا ہے جو بات توحید سے متصادم ہوتی ہے اسلام اس اصول کو وہی ختم کردیتا ہے ۔ جیسے بنیادی عقائد ہیں کہ اللہ پر ایمان رسولوں پر ایمان ، چار کتابوں پر ایمان فرشتوں پر ایمان وغیرہ ، یہ سب چیزیں ایک جگہ جمع ہوتی ہےاور وہ ہے توحید۔
یہ ہے اسلامی نظریہ اب اس نظریہ کی حفاظت کیسے ہو؟ اس کے لییے اس نظریہ کو قانون بنا کر ماننے والوں پر لاگو کرنا پڑے گا، تاکہ نظریہ قیامت تک قائم رہے۔ اس کے لییے عائلی یا معاشرتی قوانین بنائے ہیں عائلی قوانین میں بنیادی قوانین شادی کے متعلق ہیں کہ مسلمان مرد عورت کی کس سے شادی ہو سکتی ہے کس سے نہیں۔
تو اصول یہ بنایا گیا مسلمان مرد کی شادی مسلمان عورت سے ہونی چاہیئے اب سوال یہ ہےکہ اگر مسلمان عورت نہیں ہے تو پھر کس سے شادی کرے تو پھر کہا گیا اہل کتاب سے کرے لیکن جب بات مشرک عورت یا بت پرست عورت کی ہوئی تو اس سے شادی کے لییے منع کر دیا گیا کہ وہ عورت مسلمان مرد کو بھی بت پرستی کی طرف لے جائے گی اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ ہندو خواتین مسلمان مردوں سے اپنے مذہب کے مطابق شادیاں کر رہی ہیں وہ مرد بھی ان کے اصولوں کے مطابق شادیاں کر رہے ہیں ظاہر ہے ایسی صورت میں وہ مرد بھی اسلام سے خارج ہیں ۔ پھر مسلمان عورت کے لیئے قانون بنایا گیا کہ مسلمان عورت کی شادی مسلمان مرد سے ہی ہونگی ورنہ وہ اسلام سے خارج ہوگی یعنی مسلمان عورت کے لئیے نہ اہل کتاب مرد ہے اور نہ ہی مشرک یا بت پرست مرد ورنہ وہ اسلام سے خارج ہے ۔ پھر اسکے بعد اس کی مرضی ہے وہ کس مذہب کو اختیار کرتی ہے ۔
اب یہ اسلامی تھیوری کے اصول ہیں ،یہ اللہ کے رسول نے بتائے ہیں ۔ یہ بنیادی اصول ہے آپ کی زاتی پسند نہ پسند پر اصول بدلے نہیں جاسکتے نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔جیسے ریاضی کے بنیادی اصول ہے فلسفے کے اصول ہیں یا طبیعات کے اصول ۔ ان اصولوں کی لوجیکل ریزنگ بھی ہے لیکن وہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔ اگر آپ ان اصولوں کی پیروی کرسکتے ہیں تو اس مذہب کو اختیار کرے اور اگر نہیں کرسکتے تو سائیڈ سے نکل جائے دین میں کوئی جبر نہیں۔
المختصر یہ کہ اگر دین اسلام کو حقیقی معنوں میں سمجھنا چاہتے ہیں تو اپنے نصاب میں ریاضی کو لازم کیجئے جب ریاضی کے ثقیل اصول سمجھ لے گے تو دین کے اصول سمجھنے کچھ مشکل نہیں رہے گے ہھر نہ آپ شدت پسند کہلائے اور نہ ہی کم علم۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights