سمے وار (تحریر: عالیہ چشتی)
میں نے زندگی میں کبھی کوئی جانور نہیں پالا۔ قربانی بھی اگر کبھی کی تو حصے ڈال کر، اور اگر کبھی جانور خریدا بھی تو اسے گھر میں رکھ کر اس کے ساتھ وقت گزارنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مگر اس سال پہلی بار ایسا ہوا کہ ہم نے قربانی کے لیے دو بکریاں گھر میں رکھی ہیں، جو دس دن ہمارے ساتھ رہیں گی۔ آج ان کے ساتھ تیسرا دن ہے… اور ان کو کھلاتے ہوئے، ان کا خیال رکھتے ہوئے، ان کی جگہ صاف کرتے ہوئے، ان سے باتیں کرتے ہوئے، مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ میں کس عجیب اور نرم کیفیت میں داخل ہو گئی ہوں۔
گھر کے سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں چلے جاتے ہیں۔ شوہر، آفس، بچے اسکول… اور پھر میں اپنے سارے کاموں کے بیچ میں سے کچھ وقت ان بکریوں کے لیے نکالتی ہوں۔ ان سے ایسے باتیں کرتی ہوں جیسے یہ میرے بچے ہوں، میری دوست ہوں۔ انھیں کھانا کھلاتے ہوئے دل عجیب سا بھر آتا ہے۔
اور پھر اچانک مجھے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ یاد آئے… کہ وہ بھی تو بچپن سے بکریاں چرایا کرتے تھے۔ میری جان صدقے، وہ ان سے کیا کیا باتیں کرتے ہوں گے؟ ایک چھوٹا سا معصوم بچہ… جس کے سر پر نہ ماں تھی، نہ باپ… نہ بہن بھائی، نہ بچپن کے وہ سہارے… وہ اپنی بھیڑ بکریوں سے اپنا دل لگاتے ہوں گے۔ ان سے اپنے دل کا حال کہتے ہوں گے۔ شاید فرماتے ہوں گے کہ میری امی بھی نہیں ہیں، میرے بابا بھی اس دنیا میں نہیں ہیں… مگر پہلے میرے دادا اور اب میرے چچا میرا خیال رکھتے ہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
پتا نہیں وہ ان جانوروں سے کتنی پیاری پیاری باتیں کرتے ہوں گے… کتنے پیار سے انہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہوں گے… ان کے آرام اور نیند کا خیال رکھتے ہوں گے۔ صدقے ہوں ان بھیڑ بکریوں کے جنھوں نے ہمارے نبی ﷺ جیسی ہستی کی بچپن کی وہ معصومیت دیکھی، وہ صحبت دیکھی، وہ توجہ اور محبت دیکھی… جو شاید ہم نے کبھی کہیں پڑھی نہیں، کہیں سنی نہیں۔
وہ تنہائی میں ان سے باتیں کرتے ہوں گے، اپنے دل کے راز بانٹتے ہوں گے۔ پھر جب بڑے ہوئے تو یہی تنہائی، یہی خاموشی، یہی اللہ کی مخلوق ان کی ساتھی بن گئی۔ اسی لیے تو وہ پہاڑوں میں جا کر اپنے رب کو تلاش کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا ایک ہی ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھے، مگر وہ اپنے اللہ کو اور جاننا چاہتے ہوں گے۔ وہ پہاڑوں سے، آسمان سے، ستاروں سے، پرندوں سے، ہوا سے باتیں کرتے ہوں گے… اپنی تنہائی میں نہ جانے کتنے خوب صورت احساسات اور خیالات ظاہر کرتے ہوں گے، کتنی خوب صورت باتیں سوچتے ہوں گے۔
اور شاید اسی لیے… اللہ نے انہیں اپنا محبوب بنا لیا۔
آج یہ سب سوچتے ہوئے دل ایک عجیب کیفیت میں ہے… بہت نرم، بہت بھاری، بہت پُرسکون۔
کاش اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا دل دے جو اس کی مخلوق میں اس کی محبت تلاش کر لے، جو قدرت کی ہر چیز میں اُس کے ہونے کی نشانیاں دیکھ لے۔ یہ آسمان، پہاڑ، پرندے، جانور، ہوائیں… یہ سب ہمارے دلوں میں اپنے رب کے ہونے کا احساس جگا دیں اور ہمیں اُس کے اور قریب کر دیں۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
۔
تعارف:
بلاگر محقق اور انٹرپرینور ہیں، ان سے پرانسٹا گرام پر ms.tariqa@ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے
Categories
جیسے یہ میرے ‘دوست’ ہوں!
