Categories
Education Exclusive Interesting Facts Karachi KU Society انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ سمے وار بلاگ کراچی

کراچی:اب قبریں بھی ڈبل اسٹوری!

سمے وار (تحریر: ڈاکٹر تہمینہ عباس)
ہم نے اپنے اساتذہ کو اپنے اساتذہ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے جاتے دیکھا۔ ڈاکٹر انوار احمد جب کبھی کراچی آتے ہیں اساتذہ کی قبروں پر ضرور حاضری دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف ، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور دیگر علمائے اردو،اپنے محسنین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے ضرور جاتے ہیں۔کراچی جیسے بڑے شہر میں زندہ لوگوں سے ملنا مشکل ہے اور قبرستان جانااور زیادہ مشکل ہے۔ شہر کراچی میں جینا تو مشکل ہے ہی مرنا اور زیادہ مشکل ہے۔حکومت سندھ کو محمود شام کے اس نکتے کو، کہ قبروں کے لیے جگہ مخصوص کی جائے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
محترم محمود شام نے اپنی وال پر کراچی میں قبروں کی جگہ مختص کرنے کے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی تھی۔ جس پر میں نے کچھ کمنٹس کیے تھے۔ وہ کمنٹس درج ذیل ہیں۔
ہر علاقے کا ایک علیحدہ قبرستان ہونا چاہیے۔بحیثیت عورت کبھی قبرستان جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔جواں سال بہن کی قبر پر بھی باہر سے ہی فاتحہ پڑھی۔پچھلے سال فروری میں والدہ کےانتقال پر علم ہوا کہ گورکن سب سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ اس قبرستان میں تمھاری کوئ پرانی قبر ہے تو بتاؤ؟ ہم اس پر ہی نئ قبر بنادیں گے۔قبر ڈبل اسٹوری ہوجائے گی نیچے کی قبر اپنی جگہ موجود رہے گی اس کے اوپر ایک اور قبر بن جائے گی۔ایسی قبر تیار کرنے کے ریٹ دس سے پندرہ ہزار کے درمیان ہیں۔پاپوش کے قبرستان میں نئ قبر چالیس سے ساٹھ ہزار میں دستیاب ہے۔آپ کی مرضی کی جگہ پر قبر بنانے کے پیسے گورکن زیاد مانگتے ہیں۔والدہ کی قبر دادی کی پچیس سال پرانی قبر پر بنائ گئ ہے۔گزشتہ دو سالوں میں مختلف گورکنوں کے انٹرویوز بھی لیے اور یہ نظارہ بھی دیکھا کہ گورکن کھجور کی چٹائ قبر پر بچھا کر نیم کی ٹھنڈی چھاؤں میں اسی قبر پر لیٹے موبائل پر ویڈیو دیکھ رہے ہیں یا لمبی تان کر سو رہے ہیں۔قبر ایک عجیب معاملہ ہے کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ مرنے کے بعد آپ کو کہاں دفن کیا جائے تو بوڑھے بوڑھے لوگ اس بات کا برا مان جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا تم ہمیں مارنا چاہ رہے ہو۔ایئر پورٹ کے قبرستان میں اکثر قبریں بارشوں میں گر کر دھنس جاتی ہیں۔اور مردوں کی بےحرمتی بھی عام ہے۔جب گورکن کوئ پرانی قبر خالی کرتا ہے تو ایک بڑے تیشے سے مردے کی ہڈیوں کو بے دردی سے چورہ کرکے کونے میں دفنا دیتا ہے۔.میں نے گورکن سے پوچھا کوئ ایسا واقعہ ، جو ناقابل فراموش ہوتو اس نے بتایا کہ کچھ قبریں ایسی ہیں جو بہت پرانی ہیں مگر ہم ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ایسی قبریں اگر کھول بھی لی جائیں تو بیس بیس اور چالیس چالیس سال پرانی قبروں کے مردے تروتازہ حالت میں موجود ہیں۔ان کا کفن تک بھی نیا نکور ہوتا ہے۔ایسی قبروں کے اندر جھانکتے ہی ہم معافی مانگ کر بند کردیتے ہیں۔ہمیں اب قبر پر ہاتھ رکھتے ہی اس قبر کی کیفیت سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس قبر کا مردہ سلامت ہے یا مٹی میں مل چکا ہے۔کراچی کے مشہور قبرستانوں، پاپوش کا قبرستان، سوسائٹی کا قبرستان، سخی حسن کا قبرستان، ایئر پورٹ کا قبرستان، انڈہ موڑ کا قبرستان، یسین آباد کا قبرستان،ماڈل ٹاؤن کا قبرستان، شاہ فیصل کالونی کا قبرستان، عیسی نگری کا قبرستان، خاموش کالونی کا قبرستان،ریڑھی کا قبرستان شامل ہیں۔ان قبرستانوں میں گورکن قبر کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے پانچ سو سے ہزار روپے مہینہ لیتے ہیں۔جن قبروں پر لوگ فاتحہ پڑھنے نہیں آتے اور گورکن کو پیسے نہیں دیتے وہ پہلے اس قبر پر نشانی لگاتے ہیں پھر اس کی تختی توڑ دیتے ہیں۔جب مہینے بھر تک میت کے گھروالوں کو خبر نہیں ہوتی تو جلد ہی اس قبر میں تازہ مردہ دفنادیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ہائ وے کے قبرستان خاص مسلکوں ، سیاسی پارٹیوں اور برادری کی دسترس میں ہیں۔عوام کی وہاں رسائ نہیں ہے۔اس سلسلے میں سندھ گورنمنٹ ، اور سٹی گورنمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کوئ مکینزم بنائیں تب قبرستانوں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔کراچی میں زیادہ تر قبرستان، قدیم بلوچ برادری کے زیر انتظام ہیں۔یہ ان کا پیشہ اور ذریعہ آمدنی ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights