سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
سابق کنوینئر متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کے سابق پولیٹکل سیکریٹری ندیم نصرت نے اپنی کتاب “تاریخ کا قرض” کی اشاعت کا اعلان کردیا ہے۔ جس میں انھوں نے لندن میں قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق کی روپوشی کے حوالے سے بھی لکھا ہے۔
ندیم نصرت کا دعویٰ ہے کہ ان ک یہ کتاب بالکل غیرجانب دار ہے، اس میں غلطی کا احتمال تو موجود ہے، لیکن اس کا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت بالکل نہیں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ ان کی یہ کتاب “پارٹی لٹریچر” نہیں ہے, اس کتاب میں کردار کُشی اور ذاتیات سے گریز کیا گیا ہے۔
ندیم نصرت کی کتاب کے مندرجات میں ایم کیو ایم میں ’’بغاوت‘‘ کا انکشاف، آفاق احمد، بدر اقبال اور عامر خان کا ایم کیو ایم سے اخراج، الطاف حسین کی ٹانگ پر گولی مارنے کی افواہیں، آفاق احمد اور عامر خان کی امریکا سے اچانک واپسی اور پریس کانفرنس، وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے الطاف حسین کو اسلام آباد لے جانے کی پیش کش،
انیس جون ۱۹۹۲ کا آپریشن، جنرل آصف نواز، نواز شریف، اسحق خان سے روابط کا معاملہ، اشتیاق اظہر ترجمان، روزنامہ جنگ (لندن) نے بھی نگاہیں پھیرلیں، ٹارچر سیل چلانے اور جناح پور کے الزامات، منفی خبروں کا طوفان، الزامات اور الطاف حسین کی علالت کے بارے میں مواد شامل ہے۔
اس کے علاوہ لندن میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور میڈیا سے رابطوں کے مسائل، موبائل فون کی خریداری اور بلوں کی ادائیگی کے مسائل، بھاری فون بل اور قانونی نوٹس، لندن میں قانونی قیام جاری رکھنے کا چیلنج اور سیاسی پناہ کی درخواست کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
ندیم نصرت نے کتاب میں روزنامہ “امن” سے تاریخی رشتے کا آغاز، ایچ اقبال اور پاکیشیا، اراکین اسمبلی کی وفاداری کی تبدیلی، اسمبلیوں سے استعفے
ایم کیو ایم کو مذاکرات کی دعوت، اراکین اسمبلی کو منظر عام پر لانے کی کوشش۔۔۔ایک رکن اسمبلی کے سر کی قیمت کا بھی ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ تعطل کے بعد مذاکرات کا آغاز اورایک نیا بحران، امین الحق اور خالد ندیم کی گرفتاری اور حقیقی میں شمولیت اور الطاف حسین کا غیرمعمولی ردعمل، چئیرمین ایم کیو ایم عظیم احمد طارق اچانک منظر عام پر، قیادت سنبھالنے ایم کیو ایم کی بحالی یا نئی “حقیقی”، مائنس الطاف حسین، ایم کیو ایم کی بحالی الطاف حسین کی ریٹائرمنٹ کے اعلان سے مشروط! اختیارات چیئرمین عظیم احمد طارق کے سپرد، حاجی کیمپ سے بنگلے تک کا سفر، بنگلے میں الطاف حسین کیخلاف نازیبا زبان وغیرہ تک کے احوال کو شامل کیا گیا ہے۔
کتاب کے اگلے ابواب میں رابطہ کمیٹی کا قیام، نئے آئین کی تشکیل، عظیم احمد طارق کی جانب سے مرکزی کمیٹی کی سرگرمیاں معطل کرنے، عظیم احمد طارق سے بدتمیزی کے افسوس ناک واقعے کے ساتھ عظیم احمد طارق اور ایس ایم طارق سے اپنی یادوں کا سلسلہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
لندن میں رہتے ہوئے ندیم نصرت نے حالات کا بگاڑ، عوام و کارکنوں سے آڈیو ٹیپس کے ذریعے رابطہ، بریگیدیئر امان اور کرنل عبید کی لندن آمد، بریگیڈیئر امان کی عمران فاروق سے کراچی میں ملاقات، انتخابات، قربانیاں دینے والوں کو ٹکٹس دیے گئے، عامر خان اور امین الحق کی ایم کیو ایم میں واپسی کی خواہش، اکتوبر ۱۹۹۳ کے انتخابات، ایم کیو ایم بائیکاٹ پر مجبور
ایم کیو ایم کو صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی دعوت، رکاوٹوں کا عارضی خاتمہ، انتخابی جوش و خروش ۔ پولنگ اسٹیشن پر عوام کا ازدھام
بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمی اور ایم کیو ایم کے خلاف نئے آپریشن کا آغاز، انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ کی ٹیم کا ناقابل فراموش کردار، بیرسٹر فاروق حسن کا ناقابل فراموش کردار انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی ٹیم وغیرہ تک مفصل احوال شامل کیا گیا ہے۔
امریکا میں مقیم ندیم نصرت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس کتاب کی اگلی جلدوں پر کام کر رہے ہیں۔
Categories
کتاب میں پہلی بار حقائق سامنے لایا، ندیم نصرت
