سمے وار (تحریر: انور اقبال)
1987 کا ایک دن تھا۔ کراچی کی صبح ابھی پوری طرح جاگی بھی نہ تھی کہ میں دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ زندگی کے اس مرحلے میں نہ سفید بال تھے، نہ تجربوں کا اتنا بوجھ، نہ ہی یہ اندازہ تھا کہ آنے والے برسوں میں دنیا کتنی تیزی سے بدلنے والی ہے۔ میں ایک امریکی پیٹرولیم کمپنی میں ملازم تھا، اور اس زمانے میں کسی بین الاقوامی امریکی کمپنی میں کام کرنا اپنے آپ میں ایک الگ دنیا کا حصہ بن جانے کے مترادف تھا۔
دفتر میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پاکستان سے زیادہ امریکا کے کسی ادارے میں آ گئے ہوں۔ انتظام، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، کام کا معیار، ہر چیز مقامی اداروں سے مختلف تھی۔ کمپنی کا ہیڈ آفس امریکی ریاست ٹیکساس میں تھا اور پاکستان میں اس کے تیل اور گیس کے وسیع آپریشنز سندھ کے میدانوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ جنرل منیجر اور اعلیٰ افسران زیادہ تر امریکی ہوتے تھے۔ ان کے لہجے، ان کی سوچ، ان کے کام کرنے کے انداز اور فیصلوں میں ایک خاص پیشہ ورانہ رنگ نظر آتا تھا۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں کمپیوٹر ابھی ایک عجوبہ سمجھے جاتے تھے۔ عام آدمی نے تو شاید کمپیوٹر کا نام ہی سنا ہو، دیکھا نہ ہو۔ دفاتر میں ٹائپ رائٹر راج کرتے تھے، فائلیں الماریوں میں بھری ہوتی تھیں اور حساب کتاب رجسٹروں میں لکھا جاتا تھا۔ مگر ہماری کمپنی زمانے سے کئی قدم آگے چل رہی تھی۔ کمپنی نے تقریباً ہر ملازم کو کمپیوٹر فراہم کیا ہوا تھا۔
آج جب میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں تو میز پر رکھا وہ کمپیوٹر کسی میوزیم کی چیز معلوم ہوتا ہے، لیکن اس وقت وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی علامت تھا۔ سیاہ اسکرین، بھاری بھرکم مانیٹر، الگ کی بورڈ، اور اندر شاید صرف 10 میگا بائٹ کی ہارڈ ڈسک۔ آج ایک موبائل فون کی ایک تصویر اس سے زیادہ جگہ گھیر لیتی ہے، مگر اس زمانے میں یہی کمپیوٹر حیرت کی دنیا تھا۔
ونڈوز ابھی عام نہیں ہوئی تھی۔ ماؤس کا استعمال محدود تھا۔ ہم DOS کے کمانڈز لکھتے تھے۔ Lotus 1-2-3، dBASE III Plus اور WordStar جیسے پروگرام ہمارے ساتھی تھے۔ بہت سے لوگ کمپیوٹر سے ڈرتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ کہیں غلط بٹن دبانے سے سب کچھ ختم نہ ہو جائے۔ مگر میرے اندر بچپن سے ایک عادت تھی۔ نئی چیز دیکھتا تو اس کے پیچھے پڑ جاتا۔ جب یہ کمپیوٹر میرے سامنے آیا تو میں نے اسے صرف دفتری مشین نہیں سمجھا بلکہ ایک نئی دنیا کا دروازہ سمجھا۔
دفتر کے بعد بھی میں اس کے ساتھ بیٹھا رہتا۔ نئی نئی کمانڈز آزماتا، پروگراموں کے فنکشن سیکھتا، تجربے کرتا اور غلطیاں کرتا۔ آہستہ آہستہ کمپیوٹر میرے لیے مشین نہیں بلکہ ایک دوست بن گیا۔ چند ماہ کے اندر اندر میں ان لوگوں میں شامل ہو گیا جو دفتر میں کمپیوٹر کے استعمال میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔
لیکن کمپنی کی جدیدیت صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں تھی۔
اس زمانے میں پاکستان کے بیش تر دفاتر میں فیکس مشین نہیں ہوتی تھی۔ اگر کوئی فوری دستاویز بھیجنی ہوتی تو ٹیلیکس یا کورئیر کا سہارا لیا جاتا تھا۔ مگر ہمارے دفاتر میں فیکس مشینیں موجود تھیں۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ چند منٹ میں ایک شہر سے دوسرے شہر کاغذ کیسے پہنچ جاتا ہے۔
کمپنی کی ہر گاڑی میں وائرلیس سیٹ نصب تھا۔ آج موبائل فون کی موجودگی میں یہ بات عام لگتی ہے، مگر اس دور میں یہ غیر معمولی سہولت تھی۔ دور دراز علاقوں میں موجود عملہ ہر وقت رابطے میں رہتا تھا۔
سب سے دل چسپ چیز کمپنی کی فضائی سہولت تھی۔ بدین میں تیل اور گیس کے میدانوں تک رسائی کے لیے کمپنی نے چارٹر طیاروں کا انتظام کر رکھا تھا۔ روز صبح کراچی سے پرواز روانہ ہوتی اور شام کو واپس آتی۔ میری ذمہ داریوں کے باعث اکثر مجھے بھی فیلڈ جانا پڑتا تھا۔ یوں کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ صبح کراچی کے دفتر سے نکلتا، ہوائی جہاز میں بیٹھ کر بدین پہنچتا، پورا دن فیلڈ میں گزارتا اور شام کو واپس کراچی آ جاتا۔
مجھے آج بھی وہ پروازیں یاد ہیں۔ نیچے سندھ کی زمین پھیلی ہوتی تھی۔ کہیں کھیت، کہیں دریا کے کنارے، کہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں۔ چند ہی منٹ بعد ہم تیل اور گیس کے ان میدانوں کے قریب اترتے جہاں پاکستان کی توانائی کا ایک اہم حصہ زمین کی گہرائیوں سے نکالا جا رہا تھا۔
فیلڈ کی دنیا دفتر سے بالکل مختلف تھی۔ وہاں دھول تھی، مشینری تھی، کنویں تھے، پائپ لائنیں تھیں اور ایسے لوگ تھے جو سخت موسموں میں ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ مجھے ہمیشہ یہ امتزاج پسند آیا کہ ایک طرف کمپیوٹر، رپورٹیں اور جدید دفتری نظام تھا، اور دوسری طرف زمین کے سینے سے نکلنے والا تیل اور گیس۔
یہ نوکری صرف روزگار نہیں تھی بلکہ ایک یونیورسٹی تھی۔ یہاں میں نے جدید ٹیکنالوجی سیکھی، بین الاقوامی معیار کا نظم و نسق دیکھا، امریکی کارپوریٹ کلچر کو قریب سے سمجھا اور یہ جانا کہ ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ سوچ سے آتی ہے۔
آج تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے بعد جب میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت ایک لمحے کے لیے رک گیا ہو۔ اس کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ہوا نوجوان شاید خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آنے والے برسوں میں دنیا انٹرنیٹ، موبائل فون، مصنوعی ذہانت اور اربوں بائٹس کے ڈیٹا کی دنیا میں داخل ہونے والی ہے۔
مگر ایک چیز آج بھی ویسی ہی ہے جیسی اس تصویر میں نظر آتی ہے۔ نئی چیز سیکھنے کا شوق، نئے راستے تلاش کرنے کی خواہش، اور وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا جذبہ۔
شاید یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے بعد کے برسوں میں موٹر سائیکلوں، اسکوٹروں، چینی آٹوموبائل منصوبوں، ٹرکوں، برقی گاڑیوں اور نئی صنعتوں کی طرف کھینچا۔ کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ مشینیں بدلتی رہتی ہیں، زمانے بدلتے رہتے ہیں، مگر سیکھنے کی لگن اگر زندہ رہے تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
جب میں نے کمپیوٹر سے دوستی کی
