سمے وار (تحریر: عبدالباسط خان)
میں اپنے زائد بلنگ کے خلاف مقررہ دن صبح دس بجے میں وفاقی محتسب کے دفتر پہنچ گیا اور انتظار گاہ میں جا کر بیٹھ گیا۔ وہاں بیٹھ کر پہلی بار احساس ہوا کہ میں اکیلا نہیں تھا۔ کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ اپنی اپنی فائلیں سینے سے لگائے اپنی باری کے منتظر تھے۔
کوئی لانڈھی سے آیا تھا… کوئی شیر شاہ سے… کوئی کورنگی سے… کوئی سفید بالوں والا بزرگ وہیل چیئر پر بیٹھا تھا…
ایک ضعیف خاتون آنکھوں میں آنسو لیے بار بار یہی کہہ رہی تھیں:
“میں تو اکیلی رہتی ہوں… صرف ایک پنکھا چلاتی ہوں… پھر بھی اتنا بل کیسے آ گیا؟”
ہر شخص کے ہاتھ میں ایک فائل تھی…
لیکن حقیقت میں وہ فائل نہیں، اس کے گھر کی پریشانی تھی۔
کسی کا گھر بند تھا مگر بل آ گیا تھا…
کسی کا میٹر خراب تھا…
کسی پر لاکھوں روپے ڈال دیے گئے تھے…
اور ہر شخص انصاف کی امید لیے وہاں بیٹھا تھا۔
اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا۔
گرمی بھی تھی اور رش بھی۔
لیکن کسی کے چہرے پر بے صبری نہیں تھی۔
شاید اس لیے کہ ہر شخص کو امید تھی کہ آج کوئی اس کی بات ضرور سنے گا۔
آخرکار میرا نمبر آ گیا۔
کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ایک صاحب بیٹھے تھے، جو غالباً ریٹائرڈ جج تھے۔ ان کے برابر میں کے الیکٹرک کے دو نمائندے موجود تھے۔
مجھے ایک بات نے بہت متاثر کیا۔
میرے سمیت ہر درخواست گزار کی فائل پہلے ہی ان کی میز پر موجود تھی۔ ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ پہلی مرتبہ ہمارا مقدمہ دیکھ رہے ہیں، بلکہ ہر کیس کا ریکارڈ پہلے سے ان کے سامنے رکھا ہوا تھا۔
میں خاموشی سے بیٹھ کر اپنے سے پہلے آنے والے چند مقدمات سنتا رہا۔
ہر درخواست گزار کو پوری بات کرنے کا موقع دیا جا رہا تھا۔
جج صاحب کبھی کے الیکٹرک کے نمائندوں سے کہتے:
“یہ بل دوبارہ چیک کریں۔”
کبھی کہتے:
“اس میں رعایت دیں۔”
اور کبھی فرماتے:
“اگر ممکن ہو تو یہ بل معاف کر دیں۔”
یہ سب دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی کہ کم از کم یہاں ہر فریق کی بات پوری توجہ سے سنی جا رہی تھی۔
گرمی اور طویل انتظار کی وجہ سے کافی وقت گزر چکا تھا۔
اسی دوران جج صاحب نے اپنے عملے سے کہا:
“سب کے لیے بسکٹ لے آئیں۔”
یہ بظاہر ایک معمولی بات تھی…
لیکن میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ سرکاری دفتر میں بھی انسانیت زندہ ہو سکتی ہے۔
پھر میری باری آئی۔
چند لمحوں تک وہ خاموشی سے کاغذات دیکھتے رہے۔
پھر میری طرف دیکھ کر بولے:
“آپ کا کیس درست معلوم ہوتا ہے، لیکن ایک مسئلہ ہے…”
میں خاموشی سے سنتا رہا۔
انھوں نے کہا:
“یہ انڈسٹریل کنکشن ہے اور دو لاکھ روپے سے زیادہ رقم کا معاملہ ہے، اس لیے یہ ہمارے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔”
یہ سن کر دل بیٹھ سا گیا۔ مجھے لگا شاید آج کی ساری امید بھی ختم ہو گئی۔
لیکن اگلا جملہ میرے لیے غیر متوقع تھا۔
انہوں نے فوراً نیپرا کے نام ایک ریفرنس تیار کروایا، اس پر دستخط کیے، ایک کاپی مجھے دی اور کہا:
“آپ فکر نہ کریں، وہاں آپ کو یہاں سے زیادہ ریلیف ملے گا۔ ایک خط ہم خود بھی نیپرا بھیج رہے ہیں، جبکہ یہ کاپی آپ اپنے تمام کاغذات کے ساتھ جمع کرا دیں۔”
ان کی بات سن کر ایک بار پھر امید بندھی کہ شاید ابھی تمام راستے بند نہیں ہوئے۔
دو دن بعد میں بہادرآباد میں واقع نیپرا کے دفتر پہنچ گیا۔
اب تک کراچی کی گرمی میں نہ جانے کتنی بار
DHA فیز 8… DHA فیز 2…
صدر… بہادرآباد… کے چکر لگا چکا تھا۔
ہر جگہ ٹوکن… ہر جگہ انتظار… ہر جگہ نئی فائل…
اور ہر جگہ ایک نئی امید۔
نیپرا میں میری درخواست فوراً وصول کر لی گئی۔
چند دن بعد ان کا خط بھی آ گیا کہ میری شکایت کے الیکٹرک کو بھیج دی گئی ہے۔ میں باقاعدگی سے ان کی ویب سائٹ دیکھتا رہا۔
ایک مہینہ گزرا… پھر دوسرا… پھر تیسرا…
لیکن کوئی خاص پیش رفت نظر نہ آئی۔
میں نے دو مرتبہ فون کیا اور ایک بار خود بھی نیپرا کے دفتر جا کر اپنے کیس کی پیش رفت معلوم کی۔
ہر مرتبہ جواب یہی ملا: “کے الیکٹرک کے جواب کا انتظار ہے۔”
ادھر ہر مہینے بجلی کا بل آتا۔
اس میں وہی تقریباً دو لاکھ روپے کی متنازع رقم موجود ہوتی۔
میں پھر کے الیکٹرک جاتا اور کہتا:
“ہمارا کیس نیپرا میں زیرِ سماعت ہے، براہِ کرم موجودہ مہینے کا بل الگ نکال دیں تاکہ کم از کم وہ ادا کر سکیں۔”
وہ موجودہ مہینے کا الگ بل بنا دیتے، ہم وہ ادا کر دیتے، لیکن متنازع رقم ہر مرتبہ اپنی جگہ موجود رہتی۔
یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا رہا۔
سچ پوچھیں تو ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے دل ہی دل میں سوچ لیا تھا کہ شاید اب کچھ نہیں ہوگا۔
ایک دفعہ کے الیکٹرک کے بل پر رقم آجائے تو پھر وہ پھر ختم نہیں ہوتی ہے۔
پھر… اس مہینے بجلی کا بل آیا۔
اور چند لمحوں کے لیے میری نظریں ایک ہی جگہ جم گئیں۔
وہ تقریباً دو لاکھ نو ہزار روپے…
جو کئی مہینوں سے ہر بل میں مجھے پریشان کر رہے تھے…
اب منفی (Minus) میں درج تھے۔
میں نے دوبارہ دیکھا…
پھر تیسری مرتبہ دیکھا…
پھر پرانا بل نکال کر ساتھ رکھا۔
یہ واقعی سچ تھا۔
یوں لگا جیسے کئی ماہ کا بوجھ اچانک میرے کندھوں سے اتر گیا ہو۔
میں اسی وقت کے الیکٹرک کے دفتر پہنچ گیا۔
انہوں نے بل دیکھا اور صرف اتنا کہا:
“جی… یہ رقم اب مائنس ہو چکی ہے۔”
میں نے پوچھا:
“کس بنیاد پر؟”
انہوں نے جواب دیا:
“اس کی تفصیل ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔”
آج تک مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ رقم کس مرحلے پر اور کس فیصلے کے تحت منفی کی گئی۔ ممکن ہے یہ نیپرا میں جمع کرائی گئی شکایت کا نتیجہ ہو…
ممکن ہے بعد کے کئی ماہ کے کم استعمال نے حقیقت واضح کر دی ہو…
یا پھر کے الیکٹرک نے خود ہی اپنے ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا ہو…
جو بھی وجہ تھی، میرے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ ایک خالی فلور پر ڈالے گئے تقریباً دو لاکھ روپے کے متنازع بل کا بوجھ آخرکار ختم ہو گیا۔
کہانی شاید ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی۔
اب انتظار اگلے مہینے کے بل کا ہے، جو یہ بتائے گا کہ یہ تصحیح مستقل ہے اور مسئلہ واقعی ماضی کا حصہ بن چکا ہے یا نہیں۔
لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں…
اگر اس دن میں کے الیکٹرک کے پہلے جواب پر خاموش ہو جاتا…
اگر وفاقی محتسب نہ جاتا…
اگر نیپرا تک نہ پہنچتا…
اگر ہر مہینے ہمت ہار دیتا…
تو شاید آج بھی وہ دو لاکھ روپے میرے بل پر موجود ہوتے۔
اگر اس پوری جدوجہد نے مجھے ایک سبق دیا ہے تو وہ یہ ہے کہ ہر بل، ہر درخواست، ہر رسید اور ہر خط سنبھال کر رکھیں۔ سب سے پہلے متعلقہ ادارے سے رجوع کریں، اسے مسئلہ حل کرنے کا موقع دیں، اور اگر پھر بھی انصاف نہ ملے تو قانونی فورمز کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں۔ انصاف ہمیشہ فوری نہیں ملتا، لیکن اگر آپ حق پر ہوں، آپ کے پاس ثبوت ہوں اور آپ مسلسل کوشش کرتے رہیں، تو کبھی کبھی ایک عام شہری بھی اپنی آواز منوا لیتا ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
دو لاکھ بجلی کے بل کے خلاف جدوجہد
