سمے وار (تحریر: روبی خالد)
ایم اے جناح روڈ (پرانا نام بندر روڈ) پر واقع کنگ، کوئین، محفل اور انجمن سینما دراصل ایک ہی عمارت میں چار ہالز تھے جو کراچی کے سنہری دور کے یادگار سینما گھروں میں شمار ہوتے تھے۔
یہ سنیما قائم ہوئے، کراچی کے قدیم، پر رونق اور بزنس حب پر واقع ﷲ والا مارکیٹ میں ۔۔
جس مقام پر یہ مارکیٹ ہے یہاں کبھی ایک کھلا کمپاؤنڈ تھا۔ تقسیم کے بعد اس جگہ پر کچھ مہاجر خاندان آباد ہوئے۔ بقایا کھلے حصے میں خوانجہ فروش تھے یہیں کھلے حصہ میں شامیانہ لگا کر نیلام گھر بھی منعقد کیا جاتا رہا ۔ پاکستان کے معروف دانشور اور شاعر افتخار عارف صاحب جو 1965 میں ہجرت کے بعد کراچی ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے، اپنی خوش بیانی کے سبب اس نیلام گھر کے مقرر ہوتے تھے۔ بعد ازاں یہ پلاٹ دہلی مسلم کالی ہوٹل کے پکوان کیلئے استعمال ہونے لگا۔ 70ء کی دہائی سے کچھ پہلے اس پلاٹ کی سرکاری نیلامی ہوئی تو یہ پلاٹ معروف سماجی و سیاسی شخصیت عبد الخالق ﷲ والا کی ملکیت میں آ گیا، جو اس زمانے میں بی ڈی ممبر تھے اس کے بعد وہ اس شہر کے ڈپٹی میئر بھی بنے۔ عبدالخالق صاحب نے اس پلاٹ پر موجود رہائش پذیر خاندانوں کو معاوضے دے کر پلاٹ خالی کروایا۔
یہاں ابتداء میں شادی ہال تعمیر ہوا، مگر کچھ عرصے کے بعد شادی ہال ختم کر دیا گیا۔ 1974ء میں یہاں مارکیٹ کی تعمیر شروع ہوئی۔ تکمیل کے ابتدائی برسوں میں مارکیٹ چلنے میں کچھ دشواری ہوئی مگر آنے والے برسوں میں اس کے قدم جم گئے،
اور 1980 ء سے لے کر اب تک یہ ایک آباد مارکیٹ ہے۔
( ہماری اپنی خواتین کی یہ اور جامع کلاتھ پسندیدہ مارکیٹ رہی کچھ اس لیے بھی کہ برادری کے لوگ تھے اور کچھ رہائش کی قربت کی وجہ سے بھی، اس مارکیٹ اور اس کے آس پاس کی تمام مارکیٹیں آج بھی تقریبات کے بہترین کپڑوں کے لیے مشہور ہیں اور خود ہمارا بھی اکثر ان مارکیٹوں میں جانا رہتا ہے)۔۔
1980 کی دہائی میں بڑے ہالز کو توڑ کر چھوٹے ہالز بنانے کا رجحان عام ہوا اور یوں ﷲ والا مارکیٹ کی بالائی منزلوں پر یہ چار سینما قائم ہوئے۔
* محفل اور انجمن * __ * کنگ اور کوئین*
ﷲ والا مارکیٹ جو کہ گراؤنڈ فلور پر قائم تھی اس کے فرسٹ فلور پر دو بڑے سنیماز محفل اور انجمن بنائے گئے دوسرے فلور پر کنگ اور تیسرے فلور پر کوئین سنیما بنایا گیا ۔ انجمن اور محفل سنیما کراچی کی سینما تاریخ کے اُن ناموں میں شمار ہوتے ہیں جن سے ایک مخصوص عہد کی فلمی فضا کی یاد وابستہ ہے۔ ان ناموں میں ہی اُس زمانے کی تہذیبی اور سماجی رنگا رنگی کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ ان دونوں سینماؤں کے محفل اور انجمن کے یہ جڑواں نام غالباً اسی مناسبت سے فلمی رنگ دینے کے لیے رکھے گئے تھے۔
کیونکہ سنیما اُس دور میں محض فلم دیکھنے کی جگہ نہیں بلکہ تفریح، ملاقات اور میل جول کا اہم مرکز بھی تھا۔ انجمن اور محفل جیسے نام بھی اسی فلمی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محفل اور انجمن کشادہ سنیما تھے، محفل میں اردو اور انجمن میں انگریزی فلموں کی نمائش ہوتی تھی۔ یہ سائیڈ سینما تھے اور وہ سائیڈ سینما تھے جہاں مین سینما کے بعد سب سے پہلے فلم لگتی تھی اور یہاں کا ماحول بھی لگ بھگ مین سینما جیسا ہی تھا، ٹکٹس بھی معقول قیمت کے ہوتے تھے جو نوجوان طلبہ کی پاکٹ منی سے مل جاتے تھے ان دونوں سنیماؤں کا ماحول خوشگوار اور پرسکون ہوتا تھا جیسے بڑے ہائی فائی سنیماؤں کا ۰۰
* کنگ اور کوئین * دونوں منی سنیماز تھے۔
ان کا نام بھی غالباً اسی زمانے کے رومانوی اور شاہانہ تھیم پر رکھا گیا تھا ! جیسا کہ اس دور کے کئی دیگر سینماؤں پرنس، پرنسس، کیپری، نشاط وغیرہ کے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے۔ لہذا جب اسی جگہ دو یک ساں نوعیت کے ہال قائم کیے گئے تو ان کے نام بھی خاص اہتمام سے ایک خوب صورت جوڑی کی صورت میں رکھے گئے۔ چونکہ دونوں ہال ساخت اور حیثیت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے، اس لیے ان کے نام بھی ایسی جوڑی کے طور پر منتخب کیے گئے جو ایک دوسرے کی تکمیل محسوس ہوں جیسے بادشاہ اور ملکہ ۔۔
یوں یہ نام صرف ان سینماؤں کی شناخت نہیں رہے بلکہ اپنی باہمی مماثلت اور خوب صورت ترتیب کے باعث اس جگہ کی ایک منفرد پہچان بن گئے تھے۔
پاکستان ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ پر کنگ سنیما کی نشستوں کی تعداد 200 بتائی گئی ہے، شاید دونوں ہالز میں نشستوں کی اتنی ہی تعداد ہوگی۔ کراچی کی فلمی تاریخ اور فہرستوں میں ان سنیماؤں کا ذکر اہمیت کے ساتھ آتا ہے۔ اس دور میں جو فلمیں مشہور بڑے سینماؤں پر چلتی تھیں، وہی بقیہ آس پاس کے تمام سنیماؤں پر چلتی تھیں اور چھوٹے سنیماؤں پر سیکنڈ رن میں چلتی تھیں۔
چونکہ ایم اے جناح روڈ کے سینما ہر زبان کی فلمیں دکھاتے تھے۔ اور تمام فلمیں تمام سنیماز پر ایک ہی وقت میں یا آگے پیچھے دکھائی جاتی تھیں مگر اس وقت تک سنیما میں فلم دیکھنے کا دور تقریبا بیت چکا تھا لہذا یہ سنیما چلے نہیں، گو کہ کافی عرصے قائم رہے مگر بند ہو گئے گو کہ محفل اور انجمن نوے کی دہائ میں دوبارہ کھولے گئے نئے ناموں کے ساتھ محفل، سٹی سینما بن گیا اور وین ڈیم کی دی ہارڈ ٹارگٹ سے افتتاح ثانی ہوا جبکہ انجمن کو اورئینٹ نام دیا گیا اور یہاں پاکستانی فلمیں ہی پیش کی گئیں مگر قسمت نے یاوری نہ کی ، عبدالخالق اللّہ والا بیمار ہوئے اور بیٹوں میں کسی کو اس بزنس میں دلچسپی نہ تھی یوں اچھے خوبصورت کماؤ سینما ہمیشہ کے لئے بالاخر بند ہو گئے۔ اب بھی عمارت میں ہالز موجود ہیں مگر گردوغبار سے اٹے پڑے ایک یاسیت بھری شکل میں ہیں ۔۔
اس تحریر کی تیاری میں معروف محقق اقبال اے رحمن صاحب کی کتاب اس دشت میں ایک شہر تھا کے مندرجات سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کراچی: عبدالخالق اللہ والا کے سینما کیا ہوئے؟
