سمے وار (تحریر: زینب علی امتان خیل)
یہ بات ہے 2023 کی، جب میں یونیورسٹی بھی جاتی تھی اور ساتھ میں دو نوکریاں بھی کرتی تھی۔ ایک ’وی نیوز‘ میں اور ایک ’ڈان نیوز‘ میں۔
’وی نیوز‘ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم تھا۔ وہاں اچھی تنخواہ ملتی تھی اور چونکہ اس سے پہلے میں نے کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام نہیں کیا تھا، اس لیے وہاں کام کرنے کا بھی شوق تھا۔ اسی دوران مجھے ڈان نیوز سے آفر آئی، لیکن میں نے انہیں وی نیوز کے بارے میں نہیں بتایا کیونکہ میں ڈان نیوز میں آن اسکرین بھی کام کرنا چاہتی تھی اور اگر وی نیوز کا بتاتی تو شاید منع کر دیتے،
یوں میرا معمول کچھ ایسا تھا کہ صبح وی نیوز جاتی، وہاں سے تین چار بجے فارغ ہوتی، پھر ’ڈان نیوز‘ چلی جاتی اور شام تک وہاں کام کرتی۔ ان دونوں نوکریوں کے درمیان یونیورسٹی بھی جانا ہوتا، کلاسیں لینی ہوتیں اور اس سب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھنی تھی۔ پیسے تو کما رہی تھی لیکن کھانا کھانے کا بھی ٹائم نہیں ملتا تھا،
’وی نیوز‘ سے اچھی تنخواہ ملتی تھی، جب کہ ڈان نیوز سے گزارے لائق۔ دونوں ملا کر تنخواہ اچھی ہو جاتی تھی، لیکن کام کا دبائو بھی بہت زیادہ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں کوئی ایک نوکری بھی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ وی نیوز سے ڈیجیٹل میڈیا کا تجربہ لینا چاہتی تھی، ڈان نیوز میں آن اسکرین کام کرنا چاہتی تھی اور ساتھ ہی اپنی یونیورسٹی کی کلاسیں بھی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی،
اسی دوران ڈان نیوز میں ایک اور ذمہ داری مل گئی۔ مجھ سے کہا گیا کہ رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ ایک پروگرام کے لیے مہمانوں سے رابطہ کاری بھی کرنی ہوگی۔ چوں کہ ڈان نیوز مجھے پسند تھا، اس لیے میں نے یہ کام بھی شروع کر دیا۔
اس کام کے دوران کئی سیاست دانوں سے رابطہ رہتا تھا۔ ان سے بات کرنا، پروگرام میں مدعو کرنا اور ان کے ساتھ وقت طے کرنا میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ ان میں کئی ایسے لوگ بھی تھے جو آج بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور اس وقت میں انھیں پروگرام کے لیے دفتر بلایا کرتی تھی۔
لیکن ایک صاحب ایسے تھے جو ہمارے دفتر نہیں آتے تھے۔ ہم انھیں اکثر براہ راست لیتے تھے اور پروگرام کے لیے ’ڈی ایس این جی‘ ان کے گھر بھیجی جاتی تھی۔ وہ کبھی ہمارے دفتر نہیں آئے تھے۔
وہ تھے سینیٹر عرفان صدیقی صاحب۔
ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا اور میری ان سے ہمیشہ فون پر ہی بات ہوتی تھی۔ وہ انتہائی اچھے انسان تھے۔ میں جب بھی پروگرام کے لیے انھیں کال کرتی، چاہے وہ مصروف ہوتے، کوشش کرتے کہ وقت نکال سکیں۔ البتہ ان کی طبیعت اکثر خراب رہتی تھی، اس لیے کبھی کبھی وہ پروگرام کے لیے وقت نہیں دے پاتے تھے۔
ایک مرتبہ رمضان میں ایسا ہوا کہ ایک مہمان کے ساتھ پروگرام کا وقت فائنل تھا، لیکن پروگرام سے کچھ دیر پہلے، صبح کے وقت ہی، انھوں نے بتا دیا کہ وہ شام کے پروگرام کے لیے وقت نہیں دے سکیں گے۔
چوں کہ وقت بہت کم تھا اور کوئی دوسرا مہمان فوری طور پر تلاش کرنا تھا، اس لیے سَحری کے وقت میں نے سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کو کال کی۔
میں نے پوچھا، “سر، کیا آپ آج پروگرام کے لیے وقت دے سکتے ہیں؟”
انہوں نے کہا، “میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں آپ کو بعد میں بتاتا ہوں۔”
پھر ان کا میسج آیا کہ پروگرام کس وقت ہے۔ میں نے وقت وغیرہ بتا دیا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ دست یاب نہیں ہوں گے۔
میں نے ان سے اصرار کیا۔
انہوں نے دوبارہ کہا کہ طبیعت خراب ہے۔
میں نے کہا، “سر، okay, it’s up to you، لیکن اگر آپ manage کر سکتے ہیں تو اچھا ہوتا۔”
اس کے بعد ان کا ایک مختصر سا جواب آیا،
“پھر سہی۔”
بس، یہاں مجھ سے وہ غلطی ہوئی جس پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ میں نے اسے پھر صحیح سمجھ لیا کہ شاید وہ کہہ رہے ہیں کہ “چلیں، پھر صحیح”، یعنی وہ پروگرام کے لیے دست یاب ہوں گے۔
میں نے فوراً ڈان نیوز کے گروپ میں بتا دیا کہ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب پروگرام میں ہمارے ساتھ ہوں گے اور ان کے گھر ڈی ایس این جی بھجوانی ہے۔
پھر میں اپنی معمول کی مصروفیات میں لگ گئی۔ پہلے وی نیوز، پھر یونیورسٹی کی کلاسز اور اس کے بعد ڈان نیوز۔
شام کو افطاری ہوئی اور پروگرام کا وقت آیا تو ڈی ایس این جی پہلے ہی ان کے گھر پہنچ چکی تھی۔ وہ لائیو آنے کے لیے بیٹھ گئے اور اینکر بھی تیار تھے۔
پروگرام شروع ہونے سے پہلے اینکر نے ان سے پوچھا،
“صدیقی صاحب، طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟”
انہوں نے کہا “میں ٹھیک تو ہوں، لیکن یہ آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا۔”
اینکر نے پوچھا، “کیا اچھا نہیں کیا؟”
کہنے لگے،
“دیکھیے، میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں نہیں آ سکتا، آپ لوگوں نے پھر بھی ڈی ایس این جی میرے گھر بھجوا دی۔”
میں وہاں بیٹھ کر حیران پریشان ہو گئ کہ یہ کیا بول رہے ہیں۔
ایک طرف ان کی طبیعت واقعی خراب لگ رہی تھی اور دوسری طرف میں سوچ رہی تھی کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں بولا،
خیر، انھوں نے پروگرام ریکارڈنگ کر لی۔
بعد میں پروگرام مینجمنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ جب انھوں نے منع کر دیا تھا تو آپ نے ڈی ایس این جی کیوں بھجوائی؟
میں نے کہا، “انہوں نے منع نہیں کیا تھا۔ میرے پاس ان کا میسج موجود ہے۔”
میں نے انہیں آخری میسج دکھایا،
“پھر سہی۔”
انہوں نے ہنس کر کہا کہ اس کا مطلب تھا، “پھر کبھی سہی، یعنی ابھی نہیں۔”
تب مجھے سمجھ میں آیا کہ میں نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا۔
مجھے اس بات کا بہت افسوس ہوا۔ رمضان تھا، ان کی طبیعت خراب تھی اور میری غلط فہمی کی وجہ سے انھیں تکلیف بھی ہوئی۔ کافی عرصے تک پھر ان سے میری بات نہیں ہوئی۔
بعد میں میں نے ڈان نیوز اور وی نیوز چھوڑ دیا،،،2024 کے آخری مہینے 2دسمبر کواے آر وائی نیوز جوائن کرلیا، یونیورسٹی کی ڈگری بھی مکمل ہو گئی اور زندگی آگے بڑھ گئی۔
پھر کچھ عرصہ پہلے 2025 میں پارلیمنٹ ہاؤس میں اچانک سینیٹر عرفان صدیقی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ چوں کہ ہماری ہمیشہ فون پر ہی بات ہوئی تھی، اس لیے انھوں نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا،
“سر، میں زینب ہوں۔ شاید آپ مجھے نہ جانتے ہوں۔”
انہوں نے فوراً کہا، “جی، میں جانتا ہوں۔ ڈان نیوز!”
میں نے کہا، “سر، اب میں اے آر وائی نیوز میں ہوں۔ لیکن آپ کو یاد ہے ایک دن آپ نے کہا تھا ‘پھر سہی’ اور میں نے ڈی ایس این جی آپ کے گھر بھجوا دی تھی، جب کہ آپ کی طبیعت بھی خراب تھی؟ میں اس کے لیے آپ سے معذرت کرنا چاہتی ہوں۔”
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا “کوئی بات نہیں بیٹا، میں سمجھ سکتا ہوں۔”
بس چند الفاظ تھے، لیکن میرے لیے بہت معنی رکھتے تھے۔
اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
ان کے انتقال کے بعد جب بھی وہ واقعہ یاد آتا ہے تو اپنی اس وقت کی سادہ سی، بلکہ تھوڑی سی بے وقوفانہ، غلط فہمی پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی وہ شفقت بھی یاد آتی ہے کہ انہوں نے میری غلطی کو دل پر نہیں لیا۔
صحافت میں کام کرتے ہوئے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، بہت سے چہرے وقت کے ساتھ بھول بھی جاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اپنے رویے کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی صاحب بھی میرے لیے انھی لوگوں میں سے ایک تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
