Categories
Dr Shahid Nasir Education Exclusive Karachi Media اردوادب انکشاف جیو نیوز دل چسپ ذرایع اِبلاغ ڈاکٹر شاہد ناصر سمے وار بلاگ قومی تاریخ کراچی مہاجرقوم

حسن منظر کی موت اور صحافی کی ’’خوش دامن کی تدفین‘‘

سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
55 برس پہلے 1981 ڈاکٹر حسن منظر کی پہلی ادبی کتاب شائع ہوئی۔ اس کے بعد وہ ادبی منظر نامے پر اپنی شناخت بناتے چلے گئے۔ 21 ادبی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر حسن منظر نے گذشتہ روز کراچی میں آخری سانس لی۔ ان کی عمر 92 برس تھی، وہ تقسیم ہند سے قبل ہاپوڑ میں پیدا ہوئے، ہجرت کے بعد لاہور میں رہے، پھر سعودیہ عرب میں بھی زندگی گزاری، اس کے بعد زندی کا بیش تر حصہ کراچی میں گزارا۔
12 افسانوی مجموعوں میں رہائی، ندیدی، انسان کا دیش، سوئی بھوک، ایک اور آدمی، خاک کا رتبہ، طویل کہانی، فرفر اور رنگو، منگل سوتر، پریم چند گھر میں، جھجک اور اے فلکِ ناانصاف شامل ہیں۔
حسن منظر کے چھے ناولوں میں ماں بیٹی، بیرِو شیبا کی لڑکی، العاصفہ، وبا، دھنی بخش کے بیٹے اور انسان اے انسان
بچوں کے لیے تین کتابیں لکھیں، جن میں سمند ر میں جنگ، جان کے دشمن
اور داخے کا دن شامل ہیں۔
افسوس کی بات ہے کہ اتوار 27 ستمبر 2026 کو ان کی موت کے بعد انھیں خراج عقیدت تو درکنار ان کی موت کی ایک سطر بھی اردو انگریزی کے کسی بڑے اخبار میں دکھائی نہ دی۔ شاید کسی چینل نے ٹکر چلا دیے ہوں، لیکن یہ مجموعی رویہ ادبی دنیا کی بے حسی اور سماجی مردہ پن کی نشان دہی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے کچھ بہی خواہوں نے ان کی موت کی خبر ٹانکی اور ان کے حوالے سے اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔ لیکن اس ملک اس شہر اور اس ادبی دنیا کا اتنا قد آور شخص مر گیا اور اخبار کے کسی کونے پر بھی ایک سطر نہ چھپ سکی۔
اس کے برعکس ایک انتہائی ’’اہم‘‘ خبر صحافی کے خوش دامن کے سپرد خاک ہونے کی مکمل خبر موجود تھی، جس سے صحافت کے زوال کا نوحہ بھی بیان ہو رہا تھا۔۔۔ یہ خبر ابتدا میں ’’سنگل‘‘ لکھی ہوئی کے ساتھ چھپ گئی، یہ ہدایت سب ایڈیٹر کے لیے ہوگی کہ یہ خبر ایک کالم کی یعنی سنگل کالم بنانی ہے، اس نے اس ہدایت کو بھی خبر کا حصہ بنا کر اور تاریخی کردیا ہے۔

دکھ ویسے ہی کم ہیں کہ ہم اب اپنے کلیجے پر اس رنج کو اور پال لیں۔۔ ہم تو بس غم ہلکا کر رہے ہیں۔ شاید پڑھنے والے بھی سوچ رہے ہوں کہ کون تھا یہ حسن منظر، تو اگر ایسا ہی سوچ رہے ہیں تو چھوڑیے اب تو مرگیا ہے، اب کوئی بھی نہیں ہے حسن منظر۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights