Categories
Interesting Facts Media Society انکشاف تہذیب وثقافت خواتین دل چسپ ذرایع اِبلاغ عالمی منظرنامہ

جب سعودی شاہی خاندان بھی تعزیر کی زد میں آیا

سمے وار (تحریر: فردوس جمال)
یہ 1970 کی دہائی کا واقعہ ہے سعودی شاہی خاندان کی 19 سالہ نوجوان شہزادی مشاعل بنت فہد کو پڑھنے کے لیے بیروت (لبنان) بھیجا جاتا ہے۔
وہاں لبنان میں تعینات سعودی سفیر کے بھتیجے “خالد الشعر محلل” سے شہزادی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ سعودی عرب واپسی پر بھی ان کا میل جول جاری رہتا ہے اور وہ تنہائی میں وقت گزارتے ہیں۔ بالآخر شاہی خاندان کو اس تعلق کی خبر ہو جاتی ہے۔ دونوں جدہ ایئرپورٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں خالد شہزادی کو مردانہ لباس پہنا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ دھر لیے جاتے ہیں اور عدالت میں ناجائز تعلق کا اعتراف کر بیٹھتے ہیں۔
15 جولائی 1977ء کو شہزادی مشاعل اور ان کے محبوب خالد کو جدہ کے ایک پارک کے قریب سرعام سزائے موت دے دی جاتی ہے۔
یہ دسمبر 2012ء کا ایک سرد دن ہے۔ ریاض کے صحرائی علاقے “الثمامہ” میں قائم ایک کیمپ کے اندر چند نوجوانوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا ہوتا ہے۔ اس ہنگامے میں سعودی شہزادے ترکی بن سعود غصے میں آ کر فائرنگ کرتا ہے جس کے نتیجے میں انہی کا ایک دوست عادل المحیمید موقع پر ہی قتل ہوتا ہے.
عادل کا تعلق ایک عام، متوسط طبقے سے تھا۔ واقعے کے بعد شاہی خاندان نے مقتول کے لواحقین کو راضی کرنے کے لیے منھ مانگی دیت (خون بہا) کی پیش کش کی، یہاں تک کہ خود بادشاہ کی جانب سے بھی معافی کی درخواست کی گئی، مگر عادل کی فیملی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور قصاص کے سوا کوئی شرط قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
بالآخر تمام قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد، 18 اکتوبر 2016ء کو قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے شہزادہ ترکی بن سعود کو سرعام سزائے موت دے دی گئی۔
سوچیے! جو ملک اپنے شاہی گھرانے کے شہزادوں اور شہزادیوں کو سزائے موت دینے سے گریز نہ کرے، کیا وہ عام بنگالیوں کو حرمتیں پامال کرنے پر خلی ولی بولے گا ؟
جو عدالتیں 2019ء میں ایک ساتھ اپنے 37 شہریوں کے سر قلم کر دے، کیا وہ بنگالی مجرموں کو یلا مدیر ما فی مشکله بولے گی؟
جو عدالتیں 2022ء میں 81 سعودی شہریوں کے سر تن سے جدا کر دے کیا وہ بنگالی مجرموں کو زمزم کھجور دے کر رخصت کرے گی؟
وہ بنگالی مرد اور عورت میاں بیوی تھے یا نہیں اس کا نکاح شاید ہمارے دیسی ‘لبرلز’ یا ایرانی راتب خور طبقے نے پڑھایا ہو گا، کیوں کہ کسی معتبر ذریعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آپس میں میاں بیوی تھے۔
مبینہ بنگالی جوڑے کے پاکستانی لواحقین نے انہیں ہنی مون کے لیے مکہ بھیجا اور وہ مسجد کے اندر کیا کر رہے تھے! یہی لبرل طبقہ انھیں ہنی مون پر بھیجنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ اس مبینہ جوڑے کی ایک پانچ سالہ بچی کو روتے ہوئے بھی دکھا رہا ہے! مطلب وہ نیا شدہ شدہ جوڑا ہنی مون پر آیا اور پیچھے سے پری نے لا کر ایک عدد بچی دادی کی گود میں ڈال؟
ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ مزاروں، درباروں اور مسجدوں تک میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں تو الزام شیطان کے سر ڈال کر مجرم صاف بچ نکلتا ہے۔
بھئی! وہاں ایک سخت قانونی نظام موجود ہے جہاں مقدمات کو قانونی مراحل اور عدالتوں کی چھلنی سے گزار کر فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
اس واقعے میں مجرموں نے بیک وقت کئی حرمتوں کو پامال کیا تھا مکہ کی حرمت، حدودِ حرم کی حرمت اور مسجد کی حرمت! چنانچہ اسلامی قانون (تعزیر) کے تحت گردن اڑائی جانا بالکل درست تھا،تاکہ یہ واقعہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔
دنیا بھر میں سزائے موت کے نفاذ کے معاملے میں چین پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ صرف 2025 میں ایران نے 2100 افراد کو پھانسی کے گھاٹ اتارا ہے لیکن ہمارے دیسی لبرل اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ اصل میں ان کا مسئلہ انسان دوست رویہ نہیں بلکہ اسلام اور اسلامی شعائر سے عناد ہے۔ شاید وہ اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے نفاذ کی بات چلی، تو کل کو اس کی زد ان کی اپنی گردنوں تک بھی آ سکتی ہے۔

(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights