(تحریر: تحریم جاوید)
کراچی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مفت دسترخوانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ کراچی میں ملک بھر کے دیہاتوں سے غول کے غول لا کر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ڈھیر کیے جا رہے ہیں، جو سارا دن سڑک کے کنارے ڈیرے ڈالے رہتے ہیں اور روزانہ بٹنے والے یہ لنگر لوٹ لوٹ کر گزارا کرتے ہیں۔
شہر کی کسی بھی بڑی سڑک سے گزر جائیے آپ کو سڑک کے کنارے ان کے بوریا بستر پڑے ہوئے دکھائی دیں گے، کہیں یہ بچے ننگے پھر رہے ہوں گے تو کہیں کسی کونے پر بیٹھے پوٹی کر رہے ہوں گے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ کراچی والوں نے ثواب کے نام پر خود اپنے شہر کا بیڑا غرق کرنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ نہیں تو رکشوں اور گاڑیوں میں نکل کر کسی بھی سگنل یا درمیان ہی میں بریانی، جوس اور افطار کے ڈبے پھینکنا یا ایسے ہی مفت خوروں کی نذر کرنا ایک عام سی بات ہے۔ اِسے لوگ نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں، رمضان میں یہ امر روزہ افطار کروانے کا ثواب سمجھا جا رہا ہے، حالاں کہ اب تو سب کے سامنے ہے کہ ان میں بہت ہی تھوڑی تعداد روزے داروں کی ہوتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایک یا دو ڈالر سے کم آمدن والے پاکستان کے غریب ترین اضلاع میں بلوچستان کا قلعہ عبداللہ شامل ہے جہاں 97 فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں 96 فی صد
پنجاب میں راجن پور، ڈیرہ غازی خان، بہاول پور اور مظفر گڑھ میں 60 فی صد آبادی شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہے، آخر سیلانی، چھیپا اور جے ڈی سی جیسے بھکاری پالنے والے ادارے وہاں اپنی خدمات کیوں فراہم نہیں کرتے؟
سندھ میں بدین میں 75 فی صد، عمر کوٹ میں 84 فی صد اور تھر میں 90 فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، لیکن بھکاریوں کو کراچی لا لا کر پالا جا رہا ہے، کراچی کے شہری اب یہ سوال پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ آخر کب تک کراچی کی بربادیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟
غربت ختم کرنی ہے تو کراچی میں مفتے کے دسترخوان لگانے کے بہ جائے طریقے سے غربت کم کی جائے اور ملک کے غریب اور پس ماندہ علاقوں میں جا کر غریبوں کو کھانا دیں نہ کہ کراچی کو تباہ کرنے کے لیے چوک چوک پر یہ دسترخوان کے نام کے تماشے لگائے جائیں!
ساتھ ہی کراچی میں سفید پوش خاندانوں کی مدد کی جائے، وہ جو سڑک پر اپنے خاندان کا تماشا نہیں کرسکتے، وہ جو کسی مشکل کے سبب گردش میں اگئے، وہ جو مقروض ہوگئے، وہ جو ناگہانی میں گھر گئے، وہ جو اپنے پیروں پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں، انھیں ڈھونڈیے، ان کی تلاش پر وقت صرف کیجیے، یہی اصل حق دار ہیں۔
Categories
مفت دسترخوان غریب ضلعوں کے بہ جائے کراچی میں کیوں؟
