Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP ایم کیو ایم پیپلز پارٹی دل چسپ سعد احمد سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم ہندوستان

مراد شاہ نے ایک مہاجر شاعر اس قابل نہ سمجھا!

(تحریر: سعد احمد)
21 مارچ 2025 کو عالمی یوم شاعری آیا تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا پیغام نظروں سے گزرا جس میں انھوں نے بتایا کہ شاعری محبت، امن اور احساسات کے اظہار کا حسین ذریعہ ہے، ساتھ ہی یہ فرمایا کہ “سندھ کی دھرتی شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، سامی اور شیخ ایاز جیسے عظیم شعرا کی سرزمین ہے!”
ہم حیران رہ گئے کہ وہ سندھ جو ان کی ناقابل تقسیم دھرتی کہلاتی ہے، وہ آخر کیوں اتنی محدود رہ گئی کہ اِسے فقط ایک لسانی شناخت کے شعرا گنے گئے۔
بہت حیرت ہوئی کہ کراچی سندھ کا حصہ اور اٹوٹ انگ اور پتا نہیں کیا کیا کہتے ان لوگوں کی زبان نہیں تھکتی لیکن انھیں کراچی کا کوئی ایک شاعر اس قابل نہ ملا کہ جس کا ذکر کردیتے، جھوٹ موٹ ہی سہی کسی استاد قمر جلالوی، کسی نیازفتح پوری اور کسی اقبال عظیم کا نام لے لیا ہوتا۔۔۔۔۔
کسی ادا جعفری و زہرا نگاہ، کوئی رئیس امروہوی، کہیں کا ابن انشا اور جمیل الدین عالی نامی کوئی شاعر گنا گیا ہوتا۔۔۔۔۔
کوئی جون ایلیا سا دیوانہ، دلاور فگار سا یگانہ اور سلیم کوثر جیسا بے گانہ شمار ہوجاتا۔۔۔۔۔۔
“صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو” والا پیرزادہ قاسم یاد رہ جاتا،
انھوں نے تو قابل اجمیری، حمایت علی شاعر، محسن بھوپالی، انور شعور، سحر اںصاری، افتخار عارف، فہمیدہ ریاض، رسا چغتائی، مصطفیٰ زیدی، عبید اللہ علیم، افضال احمد سید اور عارف شفیق سمیت کسی کو اپنا نہ سمجھا، یہاں تک کہ کراچی میں پیدا ہوانے کے باوجود پروین شاکر اور لیاقت علی عاصم سے لے کر جاوید صبا، اجمل سراج اور عنبرین حسیب عنبر تک بھی ان کے صوبے کا مان نہ بن سکے!
ارے ان میں سے کوئی ایک آدھ ہی نام لے لیا ہوتا، پتا چل جاتا کراچی والوں کے لیے سندھ کے وزیراعلیٰ کے پاس کتنی گنجائش ہے!
کیوں؟؟ آخر کیوں؟
یہ فہرست قطعی مکمل نہیں ہے، یہ شکایت تمام نہیں ہے، یہ شکوہ کامل نہیں ہے، یہ صرف سندھ کی دیگ کا ایک چاول ہے، ایک موقع ہے کہ جس کا اظہار مراد علی شاہ نامی کسی وزیراعلیٰ کی جانب سے عالمی یوم شاعری پر فرما دیا گیا ہے، انھیں مہاجر شعرا یاد رہے اور نہ ہی انھوں نے کراچی حیدرآباد سے لے کر شہری سندھ میں ہجرت کرنے والے کسی ایک کو نہیں مانا، یہاں تک کہ کراچی کو سندھ سندھ کہہ کر ۤآنکھیں نکالنے اور الگ کرنے والوں کی خون کی ندیاں بہا دینے والوں نے یہاں پیدا ہونے والوں کو بھی اپنا نہیں گنا، بس بھٹائی، شیخ ایاز اور سچل سرمست پر ہی ہانپ گئے؟
یہ چانٹا ہے ان مہاجر دانش وروں پر جو سندھ کی نام نہاد یک جہتی کی مالا جپتے ہیں اور مہاجر شناخت پر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں!
تو بھئی ہم بھی مانتے ہیں مراد علی شاہ کی بات سندھ بھٹائی، سرمست اور شیخ ایاز کی سرزمین ہے اور باقی جتنے شعرا ہم نے گنوائے ان کی سرزمین بالکل بھی سندھ نہیں ہے، یہ تو سند مل گئی ہے مہاجر کی علاحدہ شناخت کو، یقیناً یہ سارے شعرا کراچی اور مہاجر صوبے کی پہچان ہیں، جو ان شا اللہ جلد بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights