Categories
Education Exclusive Interesting Facts Society تعلیم دل چسپ

انگریزی سیکھنے کا راز

سمے وار (تحریر: محمد علم اللہ)
مجھ سے اکثر طلباء یہ سوال کرتے ہیں کہ “ہم انگریزی کیسے سیکھیں؟”
یہ سوال اتنا عام ہے کہ میں نے اس پر دو برس قبل “ہم سب” ویب پورٹل پر ایک مفصل مضمون بھی لکھا تھا، اور آج بھی جب کوئی یہی پوچھتا ہے تو میں اُسے وہی لنک بھیج دیتا ہوں۔ مگر بعض اوقات پرانی باتیں یکایک ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں، اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
اصل میں، جب میں خود انگریزی سیکھنے کے مرحلے میں تھا تو مجھے بھی یہی تجسس رہتا تھا کہ آخر وہ لوگ جو انگریزی پر عبور رکھتے ہیں، انہوں نے یہ زبان کیسے سیکھی؟
چنانچہ میں جس کسی کو دیکھتا جو انگریزی اچھی جانتا ہے، چاہے وہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے انگریزی شعبے کے استاد ہوں، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فاضل، علی گڑھ کے کسی چوٹی کے اسکالر ہوں، یا پھر کوئی نمایاں صحافی، مصنف یا مترجم ، میں گھنٹوں برٹش کاؤنسل اور امریکی ایمبیسی کی لائبریری میں وقت گزارتا اور ایسے دوست تلاش کرتا جن سے انگریزی میں بات کر سکوں۔ میں اکثر ان سے ضرور یہ سوال کرتا:
“آپ نے انگریزی کیسے سیکھی؟”
ہر شخص اپنے تجربے، اپنی محنت، اور اپنی سہولت کے مطابق مختلف طریقے بتاتا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ ہر ایک کی بات کو پرکھوں اور کسی نہ کسی حد تک اس پر عمل بھی کروں۔ مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ جو نسخہ ایک کے لیے کارگر ثابت ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ دوسروں کے لیے بھی ویسا ہی مؤثر ہو۔ سیکھنے کا طریقہ بھی انسان کے مزاج، وسائل اور عادتوں کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
بہرحال، آج مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔
وہ دن تھے جب میں این سی ای آر ٹی (نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ، ہندوستان کا ایک خود مختار ادارہ، جو نصاب سازی اور درسی کتب کی تیاری کا ذمہ دار ہے) میں کتابوں کے ترجمے کے سلسلے میں جایا کرتا تھا۔ وہاں اردو کے بہترین مترجمین کے ساتھ بیٹھنے، سننے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں ڈاکٹر عرفان وحید صاحب، پروفیسر سہیل احمد فاروقی صاحب، ارفاقت صاحب اسی طرح ہندی کے روہنی چودھری، دیپا بھاستھی اور پنکج بشٹ جیسے بلند پایہ مترجم شامل تھے۔
اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ کام کا موقع ملا۔
ایک روز جب ہم سہیل احمد فاروقی صاحب کے ساتھ اُن کی گاڑی میں واپس آرہے تھے، تو میں نے ان سے وہی سوال کر ڈالا جو میں اکثر کیا کرتا تھا:
“سر! آپ کی انگریزی اتنی عمدہ کیسے ہوئی؟”
فاروقی صاحب مسکرائے اور نہایت سادہ مگر گہری بات کہی، ایک ایسا مشورہ جو میرے لیے واقعی زندگی بدل دینے والا ثابت ہوا۔
انہوں نے فرمایا:
“آپ Hindustan Times اخبار لیجیے۔ ایک دن کا پورا اخبار، چاہے 35 یا 40 صفحات کا ہو، شروع سے آخر تک اُردو میں ترجمہ کیجیے۔ دیکھئے کہ آپ کتنے دن میں اسے مکمل کر پاتے ہیں۔ جب پورا ہو جائے، تو اب اسی ترجمہ شدہ متن کو دوبارہ انگریزی میں ترجمہ کیجیے، اور پھر دونوں کو ملا کر دیکھیے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“یوں آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زبان میں خود بخود نکھار آنے لگا ہے۔ آپ کی معلومات میں وسعت پیدا ہوگی۔ سیاست سے لے کر معیشت تک، کھیل سے لے کر سماجی موضوعات تک، ہر شعبے کی انگریزی اصطلاحات اور اسلوب سے آپ کا تعلق بن جائے گا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو آپ کی زبان کو ’ریچ‘ بناتی ہے۔”
میں نے ان کا یہ مشورہ آزمایا اور واقعی، یہ نسخہ نہایت مفید ثابت ہوا۔
اگر کوئی شخص محض ایک ہفتے کے لیے بھی اس مشق کو مسلسل کرے تو اُسے خود محسوس ہوگا کہ اس کی سمجھ، اس کی تحریر، اور اس کی زبان، سب میں غیرمعمولی تبدیلی آئی ہے۔
یوں مجھے یقین ہوگیا کہ انگریزی سیکھنے کا کوئی جادوئی نسخہ نہیں، مگر اگر آدمی مستقل مزاج ہو، مشق کرتا رہے، اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا حوصلہ رکھے، تو زبان خود بخود اس کی رگوں میں اتر جاتی ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights