سمے وار (تحریر: سعد احمد)
اتوار 28 دسمبر 2025 کو سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفنرس کرکے ایک بار پھر 2016 کی طرح کا ماحول پیدا کردیا۔ اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ 27 دسمبر کو سابق کنوینئر ایم کیو ایم ڈاکٹر عمران فاروق کی زوجہ شمائلہ عمران کی نماز جنازہ کی صورت حال کی وجہ سے بانی “پی ایس پی” ہتھے سے اکھڑ گئے، کیوں کہ لندن سے کراچی تک میں الطاف حسین کے حمایت یافتہ لوگوں نے ہی سارے انتطامات کیے، بہادر آباد گروپ کمال گروپ کے دھڑے کے لوگ اپنی سیاست نہیں چمکا سکے، لہٰذا اگلے روز چھٹی کے باوجود کمال صاحب کو واویلا کرنا پڑا۔
اب اس اچانک اور واضح طور پر ایم کیو ایم بہادرآباد میں موجود “پی ایس پی” گروپ کی پریس کانفرنس کے بعد ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی یا دیگر مرکزی ذمہ داران سے لے کر کارکنان تک میں ایک ردعمل موجود تھا۔ ایک تو واضح طور پر یہ دکھائی دے رہا تھا کہ یہ قدم کمال گروپ کی تنہا پرواز ہے، متحدہ کے اندر رہتے ہوئے واضح طور پر ایک الگ پالیسی دکھائی دی، فقط ایم کیو ایم کا عارضی مرکز اور نام استعمال ہوا۔ تھا یہ مارچ 2016 کی پہلی پریس کانفرنس کا چربہ!
اب نگاہیں چیئرمین ایم کیو ایم کہلانے والے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی طرف مرکوز تھیں کیوں کہ وہ فاروق ستار اور امین الحق کے ساتھ ایک بالکل مختلف پریس کانفرنس گورنر ہائوس میں کامران ٹیسوری کے ساتھ کرچکے تھے۔ اس کے بعد دو، تین دن بعد تک خاموشی رہی۔ ایم کیو ایم جیسا نظم وضبط اور شمالاً جنوباً یا مشرق اور مغرب کی طرف چلتی ہوئی پالیسی۔۔۔ خدا خدا کرکے خالد مقبول صدیقی سے کسی صحافی کی جانب سے یہ سوال پوچھ لیا گیا تو انھوں نے کمال گروپ کی اس پریس کانفرنس کو دوسرے الفاظ میں مانتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی 22 اگست 2016 کے بعد والی ہے۔ ایسی ہی کچھ بات کہہ کر انھوں نے کمال کی باتیں مان لیں یا ان کی مخالفت بہ ظاہر نہیں کی۔
بات اگر الطاف حسین پر لعن طعن اور الزامات کی ہوتی تو ٹھیک تھا، مصطفیٰ کمال نے تو وسیم بادامی کے پروگرام میں “پی ایس پی” زمانے کی طرح ڈاکٹر عمران فاروق تک کو “را” کے معاملات میں ملوث قرار دیا، جسے خالد مقبول صدیقی کا گروپ یا ان کی ایم کیو ایم اپنا مانتی ہے، ان کی برسی بھی مناتی ہے، اس پر خالد مقبول صدیقی صاحب جانے کیا بات بنائیں گے یہ ابھی تک نہیں پتا؟
اگر کمال گروپ کی پریس کانفرنس یا ان کے موقف کو خالد مقبول صدیقی 22 اگست 2016 کا تسلسل کہہ رہے ہیں تو پھر کراچی میں بہادرآباد کی ایم کیو ایم اور کمال کی پارٹی “پی ایس پی” میں فرق صرف یہی تھا کہ کمال گروپ الطاف حسین کو سنگین الزامات کی زد میں رکھتا تھا، جب کہ بہادرآباد گروپ سے شاذونادر ہی اس موضوع پر بات کی جاتی یا ہاتھ کافی ہولا رکھا جاتا تھا۔ آگے بڑھیے تو مصطفیٰ کمال نے تو براہ راست نام لے کر سینئر راہ نما ایم کیو ایم رئوف صدیقی تک پر سنگین الزام عائد کیے۔ ڈاکٹر خالد مقبول اپنے ساتھ موجود سینئر راہ نما پر کمال صاحب کے الزام پر کیا کہیں گے؟؟
عمران فاروق، رئوف صدییقی کے نام لینے کے بعد کمال نے مشاعروں اور شاعری پڑھنے کا کر کے جن صاحب کا ذکر کیا، زیادہ تر کا خیال ہے کہ وہ بوجوہ حیدر عباس رضوی پر بھی برہم ہیں۔ اگر خالد مقبول صدیقی کمال کے ساتھ ہیں، یا ان کے موقف کے ساتھ ہیں تو پھر کیا حیدر عباس رضوی کے خلاف الزام تراشی پر بھی خالد مقبول 22 اگست 2016 کی پالیسی کہہ کر چپ رہ سکیں گے؟؟
مصطفیٰ کمال 2016 سے زیادہ اذیت اور تکلیف میں دکھائی دیتے ہیں، وہ پریس کانفرنس میں لغویات اور بے ہودہ زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الطاف حسین کا حرامی پن ختم نہیں ہورہا، بعد کے پوڈ کاسٹ میں انھوں نے کیوں “پھٹتی” ہے جیسے الفاظ تک استعمال کر ڈالے، جس پر ان کے ظاہری وقار کے سارے ضابطے تار تار ہوگئے۔ باقی الطاف حسین پر ملک دشمنی اور غداری جیسے سنگین الزامات کے ساتھ وہ روزانہ ہی الطاف حسین پر اپنی نامعلوم برہمی نکال رہے ہیں، جیسے کہ الطاف حسین کو صبح جوتے مارو تو دن اچھا گزرتا ہے۔ یہ سب ظاہر کر رہا ہے کہ منظرنامہ اس سے کہیں زیادہ گنجلک ہے جیسا کہ بہ ظاہر صورت حال نظر آرہی ہے۔ ایسے میں کراچی کے صف اول کے صحافی فہیم صدیقی کو سابق راہ نما ایم کیو ایم انیس ایڈووکیٹ کے بے باک انٹرویو کو بھی دیکھنا چاہیے، جنھوں نے الطاف حسین کو عزت سے یاد کیا اور ان پر کمال کے الزامات کو واضح انداز میں رد کردیا۔ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال کھل کر سامنے آجائے، کیوں کہ انیس ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ بہادر آباد گروپ ہو یا ” پی ایس پی” ان دونوں کے 10 سال 2026 میں پورے ہو رہے ہیں۔ ان کو بنانے والے اس سے زیادہ انھیں مہلت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
پارٹی راہ نمائوں پر الزام بھی کیا 22 اگست کی پالیسی ہیں؟
