سمے وار (خصوصی رپورٹ)
آپ اس تصویر کو غور سے دیکھیے، کیا آپ کو اس میں کوئی غلطی دکھائی دے رہی ہے؟
شاید آپ انگریزی کی غلطیاں تلاش کرنے لگیں، لیکن ذرا ٹھیریے، انگریزی کے علاوہ بھی تو کچھ چیزیں غلط اور صحیح ہوسکتی ہیں، جو کہ منطق اور حقیقت سے تعلق رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اس تختی میں دکھائی دے رہا ہے۔
شہر میں چوتھی مرتبہ مسلسل بلاشرکت غیر پیپلزپارٹی کا راج جاری ہے۔ جسے پوری ریاست کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی نئی اور قابل ذکر ہیں شاید پاکستان کی 80 سالہ تاریخ میں کسی بھی صوبے میں نہ صرف اتنا لگاتار اقتدار کسی کو ملا ہے، بلکہ اسے مرکز سے زیادہ ریاست کی حمایت بھی حاصل ہے، اسے کوئی سیاسی خطرہ بھی نہیں، رہا سہا یا جیسا تیسا خطرہ کراچی کی جس سیاسی جماعت سے ہوتا تھا، اسے بھی 10 سال سے بلڈوز کیا جاچکا ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی جنگل کا بادشاہ ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ترقی کے نام پر کچھ بھی بیچ دے اور کسی طرح مارے باندھے کے کوئی سڑک، کوئی پل بن گیا ہے، تو اس کا خوب ڈھنڈورا پیٹے اور اسے اپنی تشہیر کا حصہ بنا کر خوب میڈیا پر دکھائی رہے۔ چاہے اخبارات ہوں یا چینل۔ ہر جگہ پیپلزپارٹی کے خوب موافق حالات ہیں، کوئی چینل یا صحافی بھی صحیح معنوں میں پیپلزپارٹی سے سوال کرنے لائق نہیں ہے۔ ایسے میں ایسا تو ہوگا کہ جو کہ اس تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔
تمہید کچھ لمبی ہوگئی، لیکن یہ پس منظر ضروری تھا تاکہ جانا جاسکے کہ ایسا کیوں ہوا اور اب تک اتنے چینل، اتنی یوٹیوبرز، اتنے انفولنسرز ہونے کے باوجود ابھی تک منظر میں کیوں نہ آیا۔
تو ہم کہہ رہے تھے کہ اس افتتاحی تختی کی انگریزی کو چھوڑ دیجیے، دیکھیے تاریخ کیا لکھی ہوئی ہے؟
آئی نظر؟
30 جون 2018۔ ٹھیک ہے؟
افتتاح بہ دست مبارک بلاول زرداری؟ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی
اور اوپر لکھا ہوا ہے حکومت سندھ!
ہے ناں؟ بالکل ٹھیک اب آئیے ہم بتاتے ہیں کہ کیوں کہتے ہیں کہ نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور جب عقل بھی بھونڈی ہو تو پھر ایسے نمونے ہی وجود میں آتے ہیں کہ جیسا کہ آپ اس تصویر میں دیکھ رہے ہیں۔
آپ کہہ رہے ہوں گے کہ اب اس میں کیا غلطی یا نمونے والی بات ہوگئی؟
اچھا نہیں ہے کوئی نمونے والی بات؟ سوچیے ذرا تاریخ پر غور کیجیے، 2018 زیادہ پرانا واقعہ تو نہیں ہے۔ آٹھ سال بھی پورے نہیں ہوئے۔
2018 میں کس کی حکومت تھی؟
ارے یاد آیا کہ 2018 میں تو انتخابات ہوئے تھے۔ جی ہاں!
اب پہنچے آپ صحیح نکتے پر۔ 2018 میں عام انتخابات کب ہوئے تھے؟
دو جون 2018 سے 17 اگست 2018 تک بیوروکریٹ فضل الرحمن نگراں وزیراعلیٰ سندھ تھے!
یہ انتخابی مہم کا زمانہ تھا، مرکز میں بھی نگراں حکومت تھی اور صوبے میں بھی۔ ایسے میں 30 جون 2018 کو پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول کا پل کا افتتاح کرنا چہ معنی دارد؟؟؟
گویا پیپلزپارٹی نے ایسے عقل سے پیدل خوشامدی بھرتی کرلیے ہیں جو اتنے سامنے کی چیز بھی نہیں دیکھ سکتے، بلکہ شاید پوری پارٹی میں بھی کوئی اس لائق نہیں کہ جو ایسے اوچھے ہتھ کنڈے سے پارٹی کی جگ ہنسائی روک سکے۔
واضح رہے کہ سن سیٹ بولیوارڈ ڈیفنس فیز ٹو کے اس پل کا باقاعدہ افتتاح ہو ہی نہیں سکا تھا، تختی کی جگہ خالی تھی، جو کچھ عرصے پہلے پچھلی تاریخ لگا کر چپکا دی گئی ہے۔ جس میں بے سوچے سمجھے نگراں دور حکومت کی تاریخ بھی ڈال دی ہے کیوں کہ پیپلزپارٹی کے پاس شاید اب اتنی عقل بھی نہیں کہ جس سے ٹھیک سے نقل کی جاسکے۔
Categories
کراچی میں بلاول کا جعلی افتتاح اپنے آپ بے نقاب
