Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi Media MQM انکشاف ایم کیو ایم دل چسپ سمے وار بلاگ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی

دس سال بعد پھر وہی جھنڈے، وہی دھندے؟

سمے وار (تحریر: اجمل شعیب)
کل پندرہ جنوری 2026 کو ملک میں چھاپا مار کارروائیوں سے شہرت پانے والے اینکر اقرار الحسن نے بھی اپنی عوام راج پارٹی کا اعلان کردیا۔ اچنبھے کی بات تو نہیں جب مسرت شاہین، عمران خان، جواد احمد اور اس جیسے بہت سے دیگر شعبوں کے لوگ اپنی اپنی سیاسی جماعتیں بنا سکتے ہیں۔
فیح احمد فیض، سید کمال، طارق عزیز، حبیب جالب، محمد علی، مصطفیٰ قریشی، عامر لیاقت حسین، ابرار الحق جیسے ستارے مختلف سیاسی جماعتوں سے انتخابی دنگل میں اتر سکتے ہیں تو پھر اپنی سیاسی جماعت بنانے میں بھی کیا حرج ہے۔ لیکن کل جس طرح انھوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے اعلان کے بعد اس جھنڈے کی رونمائی کی ہے اس پر بے ساختہ مارچ 2016 میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی سیاسی جماعت یاد آگئی، جب وہ اچانک دبئی سے کراچی پہنچے تھے اور کراچی والوں کے غم میں اتنی جلدی میں تھے کہ سیاسی جماعت کا نام تک نہیں رکھا تھا لیکن اعلان کردیا تھا اور جو جھنڈا دکھایا تھا وہ پاکستان کا تھا۔
جیسے کل عوام راج پارٹی میں اقرار الحسن نے ترکی اور اب ترکیہ کہلانے والے ملک کا جھنڈا اٹھا کر اس کے چاند ستارے کو سفید سے پیلا کرکے دکھا دیا۔ مطلب جھنڈے کی اتنی اہمیت ہوتی ہے۔ اس پر سیاسی جماعتیں محنت کیوں نہیں کرتیں، کیا پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم وغیرہ کی طرح سہ رنگی کوئی پرچم نہیں بنایا جاسکتا تھا؟
بہرحال سب کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ جیسے 10 سال پہلے مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کہلائی تھی اور اس کا جھنڈا بھی پھر الگ تھا، ظاہر ہے پاکستان کا جھنڈا تو نہیں ہوسکتا تھا۔ ممکن ہے ایسے ہی اقرار الحسن کو بھی خیال آئے کہ برادر ملک ترکیہ کو اعتراض ہوسکتا ہے کہ کیا اسے ایک چھوٹی سی پارٹی کی شناخت بنا دیا جائے کل کو اقرار الحسن کے خلاف غم وغصہ بھی اس پرچم پر اترسکتا ہے جوکہ مناسب نہیں ہوگا۔
اس وقت تو آپ 10 سال بعد ایک، ایک جیسے نظارے کا لطف اٹھائیے۔ یقیناً یہ مماثلت صرف اتفاقی ہوگی۔ باقی جو چاہیں سمجھ سکت ہیں۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights