سمے وار (تحریر: سلمان نسیم شاد)
پاکستان کی شہری سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹا جائے تو وہ لفظ اضطراب ہے۔ یہ اضطراب نہ اچانک پیدا ہوا، نہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے ہجرت کے زخم بھی ہیں، شناخت کے سوال بھی، ریاستی فیصلوں کی تلخی بھی اور وہ سانحات بھی جنھوں نے ایک پوری نسل کی نفسیات بدل کر رکھ دی۔ اسی تاریخ کے بیچ ایک نام ابھرتا ہے، جو محض ایک سیاسی راہ نما کا نام نہیں رہا بلکہ شہری مہاجر سیاست کی علامت بن گیا، یعنی کہ الطاف حسین۔
قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین نے اس ریاست کو محض آبادی فراہم نہیں کی بلکہ انتظامی، تعلیمی اور تجارتی بنیادیں بھی استوار کیں۔ مگر وقت کے ساتھ طاقت اور اختیار کے مراکز تبدیل ہوتے گئے۔ شہری متوسط طبقہ، بالخصوص مہاجر، آہستہ آہستہ فیصلہ سازی کے عمل سے باہر ہوتا چلا گیا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیاں بظاہر پُرسکون تھیں، مگر اسی سکون کے نیچے محرومی پنپ رہی تھی۔ یہ محرومی کسی ایک حکومتی حکم نامے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک مسلسل ریاستی رویّے کا حاصل تھی۔
1972 میں زبان کے تنازع نے اس دبی ہوئی بے چینی کو پہلی بار اجتماعی صورت دی۔ یہ محض لسانی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ طاقت کی زبان وہی ہوگی جو اکثریت طے کرے گی۔ اسی دور میں شہری–دیہی کوٹا جیسے انتظامی بندوبست نے شہری نوجوان کے لیے مواقع محدود کر دیے۔ قابلیت، محنت اور تعلیم اپنی جگہ موجود رہیں، مگر فیصلہ کن عنصر جغرافیہ بنتا گیا۔ محرومی اب احساس نہیں رہی، ایک ڈھانچہ بن گئی۔
اسی پس منظر میں 11 جون 1978 کو کراچی یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ APMSO کسی وقتی ردِعمل کا نام نہیں تھی بلکہ ایک فکری عمل کا نتیجہ تھی۔ یونیورسٹی کیمپس میں ہونے والی نشستیں، مطالعہ حلقے، تربیتی اجتماعات اور لٹریچر کی تیاری محض طلبہ سیاست نہیں تھی بلکہ ایک نئی سیاسی نسل کی فکری تشکیل تھی۔ یہاں کارکن کو یہ سکھایا گیا کہ سیاست جذباتی احتجاج سے آگے نظم، استقامت اور شعور کا نام ہے۔
اسی فکری تسلسل نے 1984 میں عوامی سیاست کی صورت اختیار کی۔ اس جماعت کا منشور محض مطالبات کی فہرست نہیں تھا بلکہ شہری متوسط طبقے کے لیے ایک سیاسی فلسفہ تھا۔ موروثی سیاست کے خاتمے، تعلیم کو ریاستی ترجیح بنانے، قانون کی بالادستی، خواتین کے حقوق، مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام اور عام شہری کو فیصلہ سازی میں شریک کرنے جیسے نکات اس منشور کی روح تھے۔ الطاف حسین کا نظریہ حقیقت پسندی اور عملیت پر قائم تھا—یہ تصور کہ مسائل کو تسلیم کیے بغیر حل ممکن نہیں اور نظریات کو عملی پروگرام میں ڈھالے بغیر سیاست محض تقریر بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے فکری نشستیں، نظریاتی تربیت اور لٹریچر پارٹی سیاست کا مستقل حصہ رہے۔
لیکن اسی دہائی میں شہری سندھ نے وہ سانحات بھی دیکھے جنھوں نے سیاست کو محض انتخابی سرگرمی نہیں رہنے دیا۔ اپریل 1985 میں بشریٰ زیدی کا واقعہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال، اکتوبر 1986 میں سہراب گوٹھ کے پس منظر میں پیدا ہونے والی کشیدگی، دسمبر 1986 میں قصبہ اور علی گڑھ سے اورنگی ٹاؤن تک پھیلنے والا تشدد، 1988 میں حیدرآباد کے لطیف آباد کی خون آلود رات، اور 1990 میں ہونے والا سانحہ پکا قلعہ—یہ واقعات الگ الگ نہیں تھے، بلکہ ایک ہی سلسلے کی جیسے کڑیاں تھے۔ ایک ایسا سلسلہ جس میں شہری مہاجر کو بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ اس کی جان، اس کا گھر اور اس کی شناخت غیر محفوظ ہے۔
ان تمام واقعات کے بیچ الطاف حسین کی سیاست ایک فرد کی سیاست سے آگے بڑھ چکی تھی۔ یہ ایک اجتماعی بیانیہ بن گئی تھی۔ اسی بیانیے کے سہارے متوسط طبقے کے وہ افراد سیاست میں آئے جن کی اپنی کوئی خاندانی یا معاشی سیاسی بنیاد نہیں تھی۔ بلدیاتی اداروں سے لے کر اسمبلیوں تک اور گورنرشپ جیسے منصب تک پہنچنے والے کئی نام اسی سیاسی اعتماد کا نتیجہ تھے جو شہری ووٹر نے الطاف حسین پر کیا۔ یہ ووٹ کسی نشان کے ساتھ جذباتی وابستگی کا نہیں تھا بلکہ ایک نام پر اعتماد کا اظہار تھا۔
اس پورے سفر میں سب سے تلخ اور فیصلہ کن موڑ 1992 میں آیا۔ شہری سندھ میں شروع ہونے والی کارروائی نے سیاست اور زندگی کے درمیان لکیر مٹا دی۔ محلے محصور ہوئے، شناختی عمل مشتبہ بنا، نوجوان اٹھائے گئے اور پھر لاشوں کی خبریں آئیں۔ ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلے اور جبری گمشدگیوں کے الزامات اسی دور میں مستقل سیاسی لغت کا حصہ بنے۔ خوف ایک فرد کا نہیں رہا، اجتماعی احساس بن گیا۔ اسی مرحلے پر تنظیم کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کا عمل بھی شروع ہوا اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مسئلہ محرومی نہیں بلکہ قیادت ہے۔
جلاوطنی نے الطاف حسین کو جغرافیائی طور پر دور کر دیا مگر شہری سیاست کے مرکز سے باہر نہ کر سکی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ شہری ووٹر کے ذہن میں سیاست نشان یا جماعت سے زیادہ ایک نام کے گرد گھومتی تھی۔ یہی حقیقت آنے والے برسوں میں بھی سیاسی نقشہ متعین کرتی رہی۔
وقت کے ساتھ ریاستی دباؤ، آپریشنز اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لاپتہ کارکنوں کی فہرستیں سامنے آئیں، تحویل میں اموات کے مقدمات عدالتوں تک پہنچے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھائے۔ یہ دباؤ بالآخر اگست 2016 میں ایک نئے سیاسی بحران پر منتج ہوا۔ کراچی پریس کلب کے باہر قائم بھوک ہڑتالی کیمپ اسی پس منظر کی علامت تھا۔ 22 اگست کے واقعات، ان کے بعد کا ردِعمل، پابندیاں اور سیاسی صف بندیاں اسی طویل کشمکش کا منطقی نتیجہ تھیں۔ الطاف حسین کی جانب سے جذبات میں کہے گئے جملے پر معذرت بھی سامنے آئی، مگر اسی لمحے کو بنیاد بنا کر تنظیمی کنٹرول کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی۔
یہاں اختلاف محض سیاسی نہیں رہا۔ سوال یہ اٹھا کہ جن افراد نے راستہ بدلا، ان کی شناخت اور مقام کی بنیاد کیا تھی۔ شہری ووٹر کے ذہن میں یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ اگر وہ سیاسی اعتماد نہ ہوتا، اگر وہ نام نہ ہوتا، تو کیا یہ چہرے کبھی ایوانوں تک پہنچ پاتے؟
آج اگر کراچی کی موجودہ حالت پر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، کھنڈرات بنتی سڑکیں، ابلتا ہوا سیوریج، کچرے کے انبار اور بنیادی شہری سہولتوں کی شدید کمی ایک ایسے شہر کی تصویر پیش کرتی ہے جو طویل عرصے سے انتظامی غفلت اور سیاسی بے توجہی کا شکار ہے۔ یہ وہی کراچی ہے جسے کبھی پاکستان کی معیشت کا انجن کہا جاتا تھا، مگر آج اس کے باسی خود کو بے یار و مددگار، بے آواز اور ریاستی ترجیحات سے باہر محسوس کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی کمزوری، اندرونی اختلافات اور عوامی حمایت کے فقدان نے اس سیاسی یتیمی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
یہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ الطاف حسین پر عائد پابندیوں کا غیر جانب دارانہ اور سنجیدہ جائزہ لیا جائے اور انہیں دوبارہ سیاسی عمل میں واپسی کا موقع دیا جائے۔ الطاف حسین کی قیادت محض ایک جماعت یا انتخابی ووٹ بینک تک محدود نہیں رہی بلکہ شہری سندھ کی نمائندگی اور اجتماعی شعور کی ایک طویل روایت کی علامت رہی ہے۔ ان کا سیاسی وژن شہری حقوق، شفاف حکمرانی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور متوسط طبقے کے مسائل کو قومی سیاست کے مرکز میں لانے پر مبنی رہا ہے۔
الطاف حسین کی عملی سیاست میں واپسی کا مطلب کسی ایک سیاسی شخصیت کی بحالی نہیں، بلکہ کراچی اور اندرونِ سندھ کے شہری علاقوں کو وہ سیاسی آواز واپس دینا ہے جو طویل عرصے سے کمزور اور منتشر ہو چکی ہے۔ ایک منظم، نظریاتی اور عوامی بنیادوں پر قائم شہری قیادت نہ صرف مقامی مسائل کی مؤثر ترجمانی کر سکتی ہے بلکہ قومی سیاست میں توازن اور نمائندگی کے خلا کو بھی پُر کر سکتی ہے۔
آخر میں، ہم بحیثیت شہری اور بحیثیت اہلِ قلم، ریاست اور موجودہ حکومت سے یہ سنجیدہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حقیقت کو نظرانداز نہ کریں کہ الطاف حسین نے متعدد مواقع پر اپنے بیانات پر معذرت کی، وضاحت دی اور سیاست کو تصادم کے بجائے مکالمے کے راستے پر لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سیاست میں معافی کمزوری نہیں بلکہ حقیقت پسندی اور ذمہ داری کا اعتراف ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کراچی انتظامی زوال، سیاسی یتیمی اور مسلسل سانحات کا شکار ہے، ریاست کے لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ دروازے بند رکھنے کے بجائے راستے کھولے جائیں۔ الطاف حسین کو قومی سیاست میں واپسی کا موقع دینا کسی ایک فرد کو رعایت دینا نہیں ہوگا بلکہ شہری سندھ کے کروڑوں لوگوں کو سیاسی آواز واپس دینا ہوگا۔ اگر واقعی جمہوریت، استحکام اور شہری امن مقصود ہے تو ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے مستقبل کی طرف بڑھنا ہی واحد راستہ ہے—کیونکہ مسائل کو دبانے سے نہیں، انہیں سیاسی عمل میں شامل کرنے سے حل کیا جاتا ہے، اور کراچی آج اسی سیاسی جرأت کا منتظر ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
آخر الطاف حسین کی کیا ضرورت ہے!
