Categories
Education Interesting Facts Karachi انکشاف دل چسپ رمضان سمے وار بلاگ کراچی

کراچی میں 1960 کے رمضان

سمے وار (تحریر: عابد علی بیگ)
1960 کی دہائی میں ہر گھر میں نہ تو الارم والی گھڑی ہوتی تھی اور نہ ہی سحر و افطار کے کلینڈر اتنے عام تھے، اس لیے ڈھول بجاکر سحری کے لیے اٹھانے والے آتے تھے، مگر چوں کہ انھیں ایک وسیع علاقے میں یہ خدمت انجام دینی ہوتی تھی، اس لیے یہ سحری کا وقت ختم ہونے سے تین ساڑھے تین گھنٹے پہلے ہی گشت پر نکل کھڑے ہوتے تھے۔ لوگ اتنی جلد اٹھ کر کیا کرتے
ان چند مساجد سے جہاں بجلی اور لاؤڈ اسپیکر کی سہولت موجود تھی وہاں کے موذن یا خادم یا کوئی اور کچھ کچھ دیر بعد اس قسم کا اعلان کرتا تھا
“ حضرات اٹھ جائیے سحری کھالیجیے۔ سحری کا وقت ختم ہونے میں ڈیڑھ گھنٹا باقی ہے“
ایسے اعلانات عموماً پندرہ، پندرہ منٹ کے وقفوں سے دہرائے جاتے۔ کبھی کبھار درمیان میں کوئی نعت خواں نعتِ رسول سناتا یہاں تک کہ اس اعلان کی نوبت آجاتی۔
“ حضرات کھانا پینا بند کردیجیے، دانت صاف کرلیجیے،کلیاں کر لیجئے، غرارے کر لیجئے۔ سحری کا وقت ختم ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں وغیرہ وغیرہ
ہماری مسجد سے بھی سحری کے وقت ایسے ہی اعلانات ہوا کرتے تھے آصف بھائی (ڈاکٹر آصف قریشی)، ثاقب بھائی (مرحوم ڈاکٹر ثاقب قریشی) ، زاہد بھائی ( زاہد علی بیگ) اور سعید بھائی (سعید پرویز مرحوم) جو ان دنوں کالج میں پڑھ رہے تھے ، نے یہ آئیڈیا دیا کہ یہ خدمت پروفیشنل انداز میں ریڈیو پروگرام کی طرح کی جائے۔ سعید پرویز ( حبیب جالب کے چھوٹے بھائی) گلوکاری کیا کرتے تھے انہوں نے نعت خوانی میں لیڈ کرنا شروع کیا۔ باقی تینوں سینیرز نے بھی نعت خوانی کے ساتھ اعلانات کی ذمہ داری سنبھالی۔ میں ابھی اسکول میں ہی تھا ۔میری نعت خوانی اور مائک پر بولنے کی تربیت انھی لوگوں نے کی۔
اب اعلانات کچھ اس نوعیت کے ہونے لگے:
“یہ جامع مسجد جٹ لینڈ لائنز کی آواز ہے۔ صبح کے سوا چار بجے ہیں۔ آج انتہائے سحر پانچ بج کرتیس منٹ پر ہے۔ یوں سحری کا وقت ختم ہونے میں سوا گھنٹا باقی ہے۔ سنئے حمد باری تعالٰی کلام امیر مینائی کا ہے”
اس خوش گوار تبدیلی کو اہل محلہ نے بہت سراہا اور یوں یہ سلسلہ کئی برس تک چلتا رہا۔
یہ ساری خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دی جاتی تھیں اور انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھا جاتا تھا۔
کبھی کبھ اسی محلے کے مکیں جناب ظہور الحسن بھوپالی بھی شریک محفل ہوتے۔ عارف قریشی مرحوم اور حبیب جالب کے بھتیجے محمودالحسن (بِبّا)مرحوم بھی شریک محفل رہا کرتے تھے۔ ہمارے محلے کے ایک محنت کش جن کا روزگار گدھا گاڑی سے وابستہ تھا، اپنی محبت و عقیدت میں ڈوبی آواز میں پڑھا کرتے تھے
جے رنگیں بہاریں
جے فُر کیپ منجر
جے رمجان کا پیارا پیارا مہینا
یہ رنگیں بہاریں
یہ پُرکیف منظر
یہ رمضان کا پیارا پیارا مہینا
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights