Categories
Exclusive Gaza Interesting Facts Rizwan Tahir Mubeen USA انکشاف دل چسپ رضوان طاہر مبین سمے وار بلاگ عالمی منظرنامہ

خامنہ ای: ہمارے المیے کی تصویر کا چوتھا ٹکڑا

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
آپ کو شاید کچھ تامل ہو، لیکن یہ تصویر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں ایرائی رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے ساتھ سابق عراقی صدر صدام حسین، معروف عرب جنگ جو اسامہ بن لادن اور لیبیا کے مرد آہن کرنل معمر قذافی کو شامل نہ کیا جائے۔
2007 میں عراقی صدر صدام حسین کو عین عید الفطر کے روز تختہ دار پر لٹکائے جانے کے بعد ایران نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ صدام حسین نے ایرانی انقلاب کے بعد اُسے کچھ پسند نہیں کیا تھا اور انھیں خوف تھا کہ ایرانی انقلاب کی اگلی منزل عراق ہوگا، سو اسے سرحد پار روکے دینے کے لیے وہ آٹھ برس سے زائد عرصے تک جنگ میں الجھے رہے، اتنے الجھے کہ عراق میں جوانوں کی قلت ہونے لگی! صدام حسین کو خوف تھا کہ ان کے شیعہ اکثریتی ملک میں امام خمینی کی چنگاری سلگنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، سو وہ اور ایران لڑتے رہے۔ دونوں ہی امریکا کے دشمن، بہت دیر تک ایک دوسرے کو خوب کمزور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ عراقی جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کو ایرانی کاندھا استعمال ہوا، دونوں ہی وہ ممالک ہیں جو اسرائیل پر حملہ آور ہوئے اور بعد میں ایرانی جوہری پروگرام بھی کھنڈت میں ڈلا۔
آگے بڑھتے ہیں۔
2011 میں ان میں سے ایک اور امریکا دشمن اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکا کے ایک آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف مارا گیا بلکہ اس کی لاش تک کو مبینہ طور پر امریکا اپنے ساتھ لے گیا۔ صدام حسین کی طرح اسامہ بھی ایک متنازع مسلم راہ نما تھے، لیکن صدام کی طرح وہ بھی امریکا دشمن تھے، امریکی آنکھوں میں کٹھکتے تھے اور اپنے نظریے کے مطابق امریکی عمل داری کو چیلنج کرتے تھے۔ سو صدام حسین کو موت سے ہم کنار کرنے والے امریکا نے انھیں بھی تاک کر نشانہ بنایا۔
2011 اس اعتبار سے امریکا کے لیے کام یاب سال رہا کہ اس نے ایک طرف اسامہ بن لادن کو بالآخر نشانہ بنایا بلکہ اپنے ایک دیرینہ دشمن لیبیا کے مرد آہن کرنل معمر قذافی کو بھی انھی کے ملک کے ایک باغی گروہ کے ہاتھوں ٹھکانے لگوا دیا۔ یعنی ہینگ لگی نہ پھٹکی اور رنگ چوکھا۔ یہاں نہ عراق کی طرح جنگ مسلط کرنی پڑی، نہ اسامہ کی طرح کوئی فوجی آپریشن درپیش ہوا۔ بس ایک باغی ملیشیا میسر ہوئی جس نے اپنی “آزادی” کے لیے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کرنل قذافی سے ٹکر لے لی۔ بس جہاں جہاں قذافی کی فوج بھاری پڑی وہاں وہاں بم باری کرکے ضرور باغیوں کو مدد فراہم کی گئی۔ اس سے زیادہ نہیں۔ 20 اکتوبر 2011 میں دنیا نے دیکھا کہ تیسری دنیا کی صف اول کی ایک بہت مضبوط آواز سمجھے جانے والے کرنل معمر قذافی کو لہولہان حالت میں ان کے اپنے ملک کے شہری تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور پھر اسی مشتعل ہجوم نے مار مار کر ان کی جان نکال دی۔ یوں یہ قصہ بھی ختم ہوا۔
کہتے ہیں کہ صدام حسین جیسے مضبوط کردار کا انجام دیکھ کر کرنل قذافی برطانیہ اور امریکا کے آگے سرنگوں ہوگئے تھے اور اب وہ ایک بدلے ہوئے قذافی دکھائی دیتے تھے، لیکن شاید موجودہ دنیا کے “مالکان” نے قذافی جیسوں کے لیے معافی کا کوئی خانہ نہیں رکھا تھا، سو وہ معاف ہو کر بھی نہ بخشے گئے۔ شاید طاقت ور سمجھتے تھے کہ وہ ایک “برے ذہن” کے آدمی ہیں جو بہ ظاہر جھک جانے کے بعد بھی ان کی چوہدراہٹ کے لیے “خطرہ” بن سکتے ہیں، سو ایسے کسی بھی خطرے کا خاتمہ ضروری تھا اور وہ کردیا گیا۔
اب آجائیے چوتھے “خطرے” کی جانب۔ یعنی ایرائی رہ بر اعلیٰ سید علی خامنہ ای جنھیں خمینی ثانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیوں کہ انھوں نے ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کے بہترین دست راست اور نائب ہونے کا خوب حق ادا کیا اور اب اسی پر ڈٹے رہ کر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرکے ان کا قد شاید امام خمینی سے بھی اونچا ہوگیا ہے۔ کیوں کہ امریکا کی دشمنی تو خمینی سے بھی تھی، لیکن تب تک امریکا اتنی جرات نہیں کرسکا تھا کہ اپنے دشمن کو کھلم کھلا ٹھکانے لگا سکے۔ اس نے تب تک بالواسطہ ہتھ کنڈوں کے ذریعے اپنے دشمنوں کو انجام تک پہنچایا، جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید۔
اس بار وہ خلا ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں ایک بھی “نر” آدمی دکھائی نہیں دیتا۔ اب نہ ملائیشیا میں مہاتیر محمد، نہ سعودی عرب میں شاہ عبداللہ، نہ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف،،، سو امریکا نے 2007 میں صدام حسین، 2011 میں اسامہ اور کرنل قذافی کے بعد 2026 میں چوتھے بڑے خطرے سید علی خامنہ ای کو قتل کرکے قصہ تمام کردیا ہے۔
یہ چار بڑے امریکی دشمنوں کی تصویر مکمل ہوئی۔ امریکا کی زبان میں دنیا “محفوظ” ہوگئی کیوں کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ حق بہ جانب ہوتا ہے، جو مزاحمت کرتا ہے وہ دشمن اور خطرہ ہوجاتا ہے۔
صدام حسین، اسامہ بن لادن، کرنل قذافی اور سید علی خامنہ ای۔
یہ چاروں یک ساں طور پر امریکا کے دشمن گنے گئے، چاروں کو کسی نہ کسی طرح امریکا نے موت سے ہم کنار کرڈالا، لیکن یہ چاروں شاید ہی کبھی ایک دوسرے سے ملے ہوں یا ملنے کی سعی بھی کی ہو۔۔۔۔
چاروں الگ الگ یا منتشر ہو کر ایک حالت جنگ اور جدوجہد میں تھے۔ بات چاروں لگ بھگ ایک سی کرتے تھے، طریقہ کار مختلف تھا، لیکن کئی مواقع پر یہ چاروں بھی ایک دوسرے کے “دشمن” رہے اور دوست تو کبھی نہ بن سکے۔
28 فروری 2026 کو وہ چار خانوں کی تصویر مکمل ہوگئی، جس کا پہلا جزو یکم فروری 2007 کو عید الفطر کے دن اس وقت جڑا تھا جب صدام حسین کو تختہ دار پر کھینچ دیا گیا تھا۔ یہ پہلا باقاعدہ وار تھا جو امریکی شمولیت سے اس کے دشمن کو انجام تک پہنچانے کے لیے کیا گیا۔
اس کے بعد مئی 2011 اسامہ بن لادن۔ جس کی کوئی حکومت نہیں تھی، پھر اکتوبر 2011 میں کرنل قذافی جو اس عالمی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا، اس کے بعد اس تصویر کا گویا کہ چوتھا اور حتمی جزو سید علی خامنہ ای براہ راست امریکی واسرائیلی حملے میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights