Categories
Education Exclusive Health Interesting Facts Society انکشاف تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ

اگر آپ زندگی کے پچھتاوئوں سے بچنا چاہتے ہیں تو؟

سمے وار (تحریر: محمد عظیم حیات)
چورانوے سال کے ایک بزرگ کے جھنجھوڑ دینے والے اعترافی بیان پر مبنی، جو دنیا سے جانے والا تھا، زندگی سے رخصت ہوتے وقت لکھی گئی چند باتیں…
لوگ تمہیں بتاتے ہیں کہ زندگی بہت لمبی ہوتی ہے، آرام سے جیو، ابھی تو بہت وقت پڑا ہے۔ میں چورانوے برس کا ہو کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ بات سچ نہیں۔ زندگی لمبی نہیں ہوتی، یہ تو پلک جھپکنے جتنی مختصر ہے۔ بس اب جب کہ میں اس دنیا سے جانے والا ہوں، دل چاہتا ہے چند سچائیاں تمہارے نام کر جاؤں۔ میں نے دولت بھی کمائی، عزت بھی دیکھی، نام بھی بنایا، مگر آج رات یہ سب میرے کمرے کے کونے میں پڑی گرد جیسا لگ رہا ہے۔ ہاتھ بڑھاؤں تو کچھ بھی ساتھ نہیں جائے گا۔ ساری عمر جن چیزوں کو سینے سے لگا کر رکھا، وہ آج میرے ہاتھوں سے پھسلتی ہوئی ریت کی طرح محسوس ہو رہی ہیں۔
میں چاہتا ہوں جاتے جاتے اپنا دل ہلکا کر جاؤں۔ ستر برس سے کچھ باتیں اندر دبی رہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بھی کسی دن اسی طرح بستر پر لیٹے ہوئے اپنی گزری ہوئی زندگی کو یاد کرو اور ہر یاد کے ساتھ دل میں ایک چبھن محسوس کرو۔
سب سے پہلی سچائی یہ ہے کہ انتظار گاہ میں جینا چھوڑ دو۔ میری زندگی کا بڑا حصہ انتظار میں گزر گیا۔ اسکول میں تھا تو سوچتا تھا ڈگری مل جائے، تب زندگی شروع ہوگی۔ نوکری ملی تو ہفتے کے اختتام کا انتظار۔ شادی ہوئی تو بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار۔ بچے بڑے ہوئے تو ریٹائرمنٹ کا انتظار۔ میں نے ہر موجود لمحے کو محض ایک مرحلہ سمجھا، جیسے اصل زندگی کہیں آگے میرا انتظار کر رہی ہو۔ میں ہمیشہ دور افق کو دیکھتا رہا، کبھی اپنے قدموں کے نیچے موجود زمین کو محسوس نہیں کیا۔ آج سمجھ آیا ہے کہ کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ سفر ہی زندگی تھا، اور میں نے سفر کو جینے کے بجائے صرف گزار دیا۔
مجھے وہ بارش والا منگل آج بھی یاد ہے۔ میں تیس برس کا تھا، دفتر میں بیٹھا گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ رہا تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میرا دل بے زار تھا۔ میں چاہتا تھا وقت تیزی سے گزر جائے۔ میں اس دن سے نجات چاہتا تھا۔ آج اگر کوئی مجھ سے کہے تو میں اپنی ساری کمائی دے کر وہی ایک دن واپس لے لوں۔ وہ کرسی، وہ خاموشی، شیشے پر پڑتی بارش کی آواز، اور میرے قدموں میں موجود طاقت۔ تم بھی شاید یہی کر رہے ہو۔ تم کہتے ہو، جب ترقی ملے گی تو خوش ہوں گے، جب پیسے زیادہ ہوں گے تو سکون آئے گا، جب کوئی خاص انسان ملے گا تو زندگی مکمل ہو جائے گی۔ تم آج کو کل کے بدلے بیچ رہے ہو، اور وہ کل شاید کبھی آئے ہی نہ۔ اپنے دنوں کو یوں ضائع مت کرو، ایک دن تمہیں احساس ہوگا کہ وہی عام سے دن سب سے قیمتی تھے۔
دوسری سچائی یہ ہے کہ سونا کھایا نہیں جا سکتا۔ میں نے پچاس برس ایک سلطنت بنانے میں لگا دیے۔ لمبے لمبے گھنٹے کام کیا، بچوں کی سالگرہیں مس کیں، تہواروں پر بھی ذہن دفتر میں اٹکا رہا۔ بیوی کی آنکھوں میں انتظار دیکھتا اور خود کو تسلی دیتا کہ میں یہ سب ان کے لیے کر رہا ہوں۔ میں نے بڑا گھر لیا، قیمتی گاڑی خریدی، مہنگے کپڑے پہنے۔ مجھے لگتا تھا یہ سب میری حیثیت بڑھا رہے ہیں، مجھے دوسروں کی نظر میں بڑا کر رہے ہیں۔ آج جب رخصت ہونے کا وقت قریب ہے تو سمجھ آ رہا ہے کہ میں جہاں جا رہا ہوں وہاں یہ سب کچھ ساتھ نہیں جائے گا۔ وہ گھر کسی اور کا ہو جائے گا، وہ دیواریں کسی اور کے ذوق کے مطابق رنگی جائیں گی، وہ گاڑی کسی کباڑ خانے میں کھڑی ہوگی، اور وہ پیسہ صرف ایک عدد بن کر رہ جائے گا۔ آج رات وہ میرا ہاتھ نہیں تھام سکتا، نہ مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ ڈرو نہیں۔
مجھے ایک دن یاد ہے، میری بیٹی نے مجھے باغ میں بلایا۔ اس نے ایک ننھا سا کیڑا ڈھونڈا تھا اور چاہتی تھی میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھوں۔ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔ میں نے کہا، ابھی نہیں، میں مصروف ہوں۔ میں پیسے کما رہا ہوں۔ وہ خاموشی سے پلٹ گئی۔ اس کی آنکھوں کی اداسی آج بھی میرے دل کو جلا دیتی ہے۔ میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایک قیمتی لمحہ چند کاغذی نوٹوں کے بدلے کھو دیا۔ اگر تم صرف تنخواہ کے لیے اپنی جان گھلا رہے ہو تو ذرا رک جاؤ۔ تمہارا ادارہ تمہیں جلد بدل دے گا، مگر تمہارا گھر تمہیں کبھی نہیں بھولے گا۔ یادوں کی دولت جمع کرو، سامان کی نہیں۔
تیسری سچائی یہ ہے کہ دل کے گرد بنائی ہوئی دیواریں گرا دو۔ میں جوان تھا تو اپنے آپ کو مضبوط سمجھتا تھا۔ میں پہلے معافی نہیں مانگتا تھا۔ میں دل کی بات زبان پر لانے سے کتراتا تھا۔ مجھے لگتا تھا مرد اگر نرم پڑ جائے تو لوگ اسے کمزور سمجھ لیں گے۔ میں محبت کا اظہار کم ہی کرتا تھا، شاید اس خوف سے کہ کہیں میری سختی کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔
میرے ایک بھائی تھے۔ ہم بچپن سے ساتھ بڑے ہوئے۔ ایک ہی صحن میں کھیلے، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے گواہ رہے۔ مگر ایک دن ہم ایک معمولی سی بات پر ناراض ہو گئے۔ آج سچ کہوں تو مجھے یاد بھی نہیں وہ بات کیا تھی۔ شاید پیسے کا معاملہ تھا، شاید کسی بحث کا۔ مگر اُس وقت مجھے یقین تھا کہ میں صحیح ہوں۔ میں نے دل میں طے کر لیا کہ وہی پہلے آئے گا۔ دن گزرے، پھر مہینے، پھر سال۔ ہر تہوار پر دل چاہتا تھا کہ فون اٹھا لوں، مگر انا بیچ میں آ کھڑی ہوتی۔ میں خود کو سمجھاتا رہا کہ ابھی وقت ہے، کبھی بھی بات ہو جائے گی۔
پھر ایک دن فون آیا، مگر اس بار وہ نہیں تھے۔ خبر ملی کہ اچانک فالج ہوا اور وہ دنیا سے چلے گئے۔ میں ان کے سرد چہرے کے سامنے کھڑا تھا اور مجھے اپنی ساری صحیح ہونے کی ضد بے معنی لگ رہی تھی۔ میں صحیح تھا، مگر تنہا رہ گیا۔ دس سال کی ہنسی، دس سال کی باتیں، دس سال کے تہوار، سب انا کے قدموں میں رکھ دیے تھے۔ اُس دن مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ کچھ رشتے دلیل سے نہیں، دل سے بچائے جاتے ہیں۔
اگر کسی سے محبت ہے تو آج کہہ دو۔ اگر غلط ہو تو آج معافی مانگ لو۔ کل کا کوئی وعدہ نہیں۔
چوتھی سچائی یہ ہے کہ خوف ایک جھوٹا سایہ ہے۔ میں بائیس برس کا تھا اور لکھاری بننا چاہتا تھا۔ میرے پاس خیالات سے بھری ایک نوٹ بک تھی، خواب تھے، کہانیاں تھیں۔ مگر میں نے کبھی کتاب نہیں لکھی۔ مجھے ڈر تھا لوگ ہنسیں گے، ناکام ہو جاؤں گا، مجھے سنجیدہ نہیں لیں گے۔ میں نے محفوظ راستہ چن لیا اور ساری عمر دوسروں کے خواب پورے کرتا رہا۔ آج میرے ہاتھ کانپتے ہیں، اور سچ یہ ہے کہ اب میں چاہوں بھی تو قلم ٹھیک سے اٹھا نہیں سکتا۔ آنکھیں دھندلا چکی ہیں۔ وہ کتاب اب بھی میرے اندر ہے، اور شاید میرے ساتھ ہی خاموشی میں دفن ہو جائے گی۔ زندگی کا اصل دکھ موت نہیں، وہ خواب ہیں جو ہم جیتے جی مار دیتے ہیں۔
قبرستان شاید دنیا کی سب سے امیر جگہ ہے، کیونکہ وہاں وہ سب کچھ دفن ہے جو کبھی دنیا کے سامنے آ ہی نہ سکا۔ نہ لکھے گئے ناول، نہ گائے گئے گیت، نہ شروع کیے گئے خواب۔ تم اس خاموش خزانے میں اضافہ مت کرنا۔ دل میں جو خواہش ہے اسے ٹالتے مت رہو۔ قدم بڑھاؤ۔ اگر ٹھوکر بھی لگ جائے تو کم از کم یہ تو کہہ سکو گے کہ میں نے کوشش کی تھی۔ ساری عمر کنارے کھڑے رہ کر سوچتے رہنے سے بہتر ہے کہ ایک بار دریا میں اتر کر دیکھ لیا جائے۔ “کاش” سب سے تکلیف دہ لفظ ہے۔ یہ بڑھاپے میں رات کے سناٹے میں آ کر انسان کو جگا دیتا ہے۔
میری گھڑی کی آواز اب زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ میں نے فکر، انا اور خوف کے پتھر زمین پر رکھ دیے ہیں۔ میں اب صرف ایک بے بس سا انسان ہوں، ویسا ہی جیسا پیدائش کے دن تھا، خالی ہاتھ۔ تم ابھی زندہ ہو۔ تمہارے پاس ایک اور دن ہے۔ اسے ضائع مت کرنا۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھو، انگلیاں ہلاؤ، سانس کو محسوس کرو۔ یہ سب معجزہ ہے۔ چورانوے برس کی عمر کا انتظار مت کرنا یہ سمجھنے کے لیے کہ زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ ابھی محسوس کر لو۔
میں اب آنکھیں بند کرنے کو ہوں۔ امید ہے میری یہ باتیں تمہارے دل میں ایک بیج کی طرح جگہ بنا لیں گی۔ میرے لیے نہیں، سچ کے لیے جیو۔ دل سے جیو۔ پورے وجود کے ساتھ اپنے لئے جیو۔ اپنے پیاروں کے لئے جیو۔ ابھی جیو۔
الوداع۔۔۔
دوستو یقین کیجیۓ کہ ترجمہ لکھتے وقت میری پلکیں بھیگ گئی تھیں۔۔اور کہنے کو شاید کچھ نہیں۔۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights