سمے وار (تحریر: احتشام ارشد نظامی)
کئی برس پہلے کی بات ہے۔ میں اکنا کنوینشن میں فرینڈز آف ہیومینیٹی کو بوتھ لگانے بالٹی مور گیا تھا۔ ڈاکٹر ایم اے طور بھی شکاگو سے گئے ہوئے تھے۔ کنوینشن کے دوسرے دن طور صاحب مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال صاحب کو بوتھ دکھانے لے کر آئے۔ اس زمانے میں مسلم لیگ (ن) حزب اختلاف میں تھی۔ میں نے احسن اقبال کو بنگلا دیش کے محصورین کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ یہ بھی بتایا کہ نواز شریف بنگلا دیش کے ساتھ معاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ انھوں دکھ بھرے لہجے میں کہا وہ ہم سے بڑے پاکستانی ہیں۔ جب بھی ہماری حکومت آئے گی ہم انہیں وطن لے کر آئیں گے۔ پچھلے برس وہ بحیثیت وزیر عمرہ پر گئے تو جدہ کے پاکستانیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ محصورین جو بنگلا دیش سے کب لایا جائے گا۔ انھوں نے کہا “اوہ وہ بہاری؟ بھئی سندھ میں ان کو لانے کی مخالفت ہے۔ کچھ لوگ پنجاب لائے گئے تھے وہ سب کے سب کراچی چلے گئے”۔
میں نے وضاحت بھجوائی کہ یہ بیانیہ جھوٹ ہے۔ احسن اقبال میرے ساتھ چکیں میاں چنو، لاہور بہاری کالونی، راول پنڈی، گجرانوالہ، پشاور۔ ہر جگہ بہاری کالونیوں میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے پاکستانی رہ رہے ہیں۔
اب احسن اقبال بنگلا دیش گئے۔ ان کے دل میں اداکارہ شبنم سے محبت جاگی اور وہ ان سے ملنے ان کے گھر چلے گئے۔ بے شرمی کی انتہا ہے۔ محصور پاکستانیوں کے کسی ایک کیمپ میں جانے کی توفیق نہ ہوئی۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
