Categories
Exclusive Gaza India Interesting Facts Media USA دل چسپ سمے وار بلاگ عالمی منظرنامہ

جنگ کا اصل ہدف عرب ممالک تھے!

سمے وار (تحریر: محمد ہاشم خان)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کا سب سے زیادہ نقصان کسے پہنچا؟ ایران، اسرائیل، امریکا یا پھر عرب ممالک کو؟ یہ ایک انتہائی تلخ لیکن حقیقت پسندانہ اسٹریٹجک پہلو ہے جس پر مشرقِ وسطیٰ میں گفتگو شروع ہو چکی ہے۔ بیش تر ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے بعد کا جو منظرنامہ سامنے آئے گا اس میں ایران ایک “علاقائی طاقت” کے طور پر اپنی دھاک بٹھا چکا ہوگا، جب کہ عرب ممالک اپنی معیشت اور استحکام کے ملبے کے نیچے کراہ رہے ہوں گے۔
اس جنگ کا اول دن سے ہدف یہی رہا ہے کہ عرب ممالک کی معیشت کو غیر مستحکم کیا جائے اور اس ہدف کے حصول میں جنگ میں شریک ممالک ایک بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی مثال سامنے ہے کہ اس سے اسرائیل، امریکا اور ایران کی صحت پر ذرہ برابر کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ فرق اگر پڑ رہا ہے تو عرب ممالک کو کیوں کہ ان کی بیس سے تیس فی صد سپلائی رکی ہوئی ہے۔
معاشی نقصان کی اس یقینی صورت حال کے باوجود ایران اس نقصان کو اور یقینی بنانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی کسر باقی رہ جائے۔سعودی عرب کے سب سے بڑے صنعتی شہر جبیل پر حملہ معاشی نقصان کو یقینی بنانے کی کوشش کا ہی ایک حصہ ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل تینوں چاہتے تھے کہ عرب ممالک اس جنگ میں شامل ہوں تاکہ خطے کا سیاسی توازن، معاشی استحکام اور معاشرتی ڈھانچا بہ آسانی تباہ و برباد ہو سکیں۔ عرب ممالک کے ساتھ ایران کی چھیڑخانی وسیع تر تزویراتی مفادات کے حصول کی کہانی ہے۔
اب تک عربوں نے ایران کی اٹھکھیلیوں کا بجز صبرو تحمل کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن یہ صبر بھی تا کجا؟ امریکا اور اسرائیل بھی عرب ممالک کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس دلدل سے باہر نکل کر مشرق وسطیٰ میں خون آشام جنگ کا تماشا آرام سے دیکھ سکیں۔ فی الحال تو جو بھی نقصان ہو رہا ہے وہ عربوں کا ہی ہو رہا ہے۔ایران کا فائدہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن اس کی چوہدراہٹ برقرار رہے گی۔ امریکا اور اسرائیل یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ سعودی عرب مضبوط ہو کیوں کہ ایسی صورت میں صرف سعودی عرب ہی مضبوط نہیں ہوگا بلکہ دنیا کے ۷۵ فیصد سنیوں کا بلاک بھی مضبوط ہوگا اور یہ ان دونوں ممالک کے لیے ایران سے بھی کہیں زیادہ بڑا خطرہ ثابت ہوگا، لہٰذا امریکا اور اسرائیل ایران کے ساتھ ایک نپا تلا رسک لے سکتے ہیں لیکن یہ رسک کبھی نہیں لیں گے کہ سعودی عرب ایک مضبوط عسکری طاقت بن کر عالم اسلام کی قیادت کرے۔ اور وہ نپا تلا رسک یہ ہے کہ تمام تر جنگی تباہ کاریوں کے باوجود ایران کو بہر حال اتنا مضبوط رکھنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی دھاک کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ یعنی کہ آگ کو پانی کا خوف رہنا چاہیے۔
جنگ کے اختتام پر ایران یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہوگا کہ اس نے نہ صرف اسرائیل کا مقابلہ کیا بلکہ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے بھی ہوش ٹھکانے لگا دیئے۔ جبیل (Jubail) جیسی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پورے خطے کی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔ یہ “خوف کی بالادستی” اسے مستقبل میں لیول پلیئنگ گراؤنڈ فراہم کرے گی اس طرح کہ عرب ممالک اس کی ناراضی مول لینے سے کترائیں گے۔
تہران بمقابلہ ریاض سیاسی چوہدراہٹ کا نیا بیانیہ فروغ پائے گا اور یہ بیانیہ ایران کا ہوگا۔ایران اس چیز کو کیش کرانے کی حتیٰ المقدور کوشش کرے گا کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے، جنگ کے بعد ایران یہ بیانیہ کیش کرانے میں کام یاب ہو سکتا ہے کہ وہ خطے کی واحد “خود مختار” طاقت ہے جو عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے۔ یہ سیاسی اثر و رسوخ اسے عرب گلی کوچوں میں ایک مخصوص طبقے کے نزدیک “ہیرو” بنا سکتا ہے، جو عرب حکمرانوں کے لیے یقیناً داخلی بے چینی کا سبب بنے گا۔ علاوہ ازیں، جنگ کی تباہی کے بعد عرب عوام میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھے گی، جس کا براہ راست فائدہ ایران کو ہوگا۔ عرب حکمران جو اسرائیل کے ساتھ معاشی و دفاعی بلاک بنانا چاہتے تھے، وہ عوامی دباؤ اور ایران کے میزائلوں کے خوف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں گے، جس سے ایران کی “علاقائی تنہائی” ختم ہو جائے گی۔
عربوں کو ایک خسارہ تو یہ اٹھانا ہوگا کہ ایران کی چودھراہٹ برقرار ہے اور دوسرا بڑا خسارہ معیشت کے طویل مدتی نقصان کی شکل میں اٹھانا پڑے گا۔ ایران کی معیشت پر کئی عشروں سے پابندیاں عائد ہیں اور وہ ان پابندیوں کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن عرب معیشت کے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہوگا جس کی وجہ سے سماج میں شدید بحران پیدا ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے کہ فی کس سالانہ آمدنی ساٹھ ہزار ڈالر سے کم ہو کر اگر تین ہزار ڈالر پر آ جائے تو سماجی سطح پر جو بحران و انتشار پیدا ہوگا اس کا فی الحال صرف تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت خلیجی عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) کا پورا ڈھانچا “استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری” پر کھڑا ہے لیکن جنگ کے بعد سرمایہ کاری کا انخلا یقینی ہے۔ عرب ممالک کو اپنی تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ کرنے ہوں گے، جب کہ ایران اپنے “پراکسی نیٹ ورک” کے ذریعے کم لاگت میں خطے کو غیر مستحکم رکھنے کی صلاحیت برقرار رکھے گا۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب دو ہاتھی لڑتے ہیں تو گھاس ہی کچلی جاتی ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل اور ایران بڑے کھلاڑی ہیں، لیکن میدانِ جنگ اور معاشی ہدف عربوں کی سرزمین بنی ہوئی ہے۔ ایران کی “چوہدراہٹ” کی بنیاد اس کی تعمیر و ترقی پر نہیں، بلکہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اس کی “صلاحیت” پر استوار ہے۔ اگر یہ جنگ اسی نہج پر ختم ہوتی ہے، تو ایران ایک ایسی “ناگزیر قوت” بن کر ابھرے گا جس سے خطے کا امن مشروط ہوگا، جب کہ عرب ممالک اپنی برسوں کی محنت سے بنائی گئی معاشی سلطنت کے نقصان پر ماتم کناں ہوں گے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights