Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi Media MQM USA ایم کیو ایم دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ

پاکستانی قونصل خانے میں “ایم کیو ایم (لندن) کی شرکت!

سمے وار (تحریر: راجہ زاہد اختر خانزادہ)
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور ان کے کارکنوں کے خلاف پاکستان میں کارروائیاں اور سیاسی محاذ آرائی کئی دہائیوں سے جاری ہیں اس دوران وقت بدلتا رہا حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، چہرے اور بیانیے بدلتے رہے، مگر ایک چیز مستقل رہی اور وہ تھے فاصلے یہ صرف سیاسی فاصلے نہیں تھے، یہ دلوں کے بھی فاصلے تھے یہ ایسے فاصلے جنہوں نے ایک پوری نسل کو یہ احساس دلایا کہ شاید اب ان کی آواز پاکستان کے مرکزی دھارے میں پہلے جیسی جگہ نہیں رکھتی وہ خاموش ہو گئے مگر ان کے دلوں میں بے چینی برقرار رہی، اور جہاں موقع ملتا وہ اس امر کا اظہار سامنے لاتے رہے۔ پاکستان میں جشن آذدی ہوکہ انکے مخصوص ایام انکے کارکنان اپنی آواز بلند کرتے رہے تاہم قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب سیاست کے شور سے بلند ایک اور آواز سنائی دیتی ہے اور وہ آواز ہوتی ہے اجتماعی وجود کی اور قومی بقا کی، وہ اس احساس کی آواز ہوتی ہے کہ اختلافات کے باوجود کچھ رشتے زمین کے نہیں بلکہ تاریخ کے ہوتے ہیں۔
ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل خانہ میں پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن (PAGH) کے زیر اہتمام “معرکۂ حق” کے موقع پر جو منظر دیکھنے میں آیا، وہ محض ایک تقریب کا نہیں تھا بلکہ پاکستانی سیاست کے ایک پیچیدہ باب میں ایک نرم مگر معنی خیز سطر کا اضافہ تھا۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے میں منعقدہ اس تقریب میں جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر اور مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شریک ہوئے، وہیں ایک ایسا منظر بھی سامنے آیا جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ پاکستان میں ایم کیو ایم سے وابستہ شخصیات کی شرکت، جس کے بانی الطاف حسین ہیں، ان کے قریبی ساتھیوں کی یہاں موجودگی، اور ان کے کارکنوں کا پاکستان کے قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ایک ایسی تبدیلی کی طرف اشارہ تھا جسے صرف سیاست کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
ایم کیو ایم متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور الطاف حسین کے دست راست سید عاطف شمیم کی کارکنان کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت ان کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور الطاف حسین کے قریبی ساتھی امام الدین شہزاد کی وہاں تقریر، اور سابق وفاقی وزراء بابر غوری اور شمیم صدیقی کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک مختلف معنویت دی۔ اگرچہ بابر غوری اور شمیم صدیقی بظاہر اس وقت کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں، مگر ان کی موجودگی خود اس بات کی علامت تھی کہ شاید پاکستانی سیاست کے منجمد دریاؤں کے نیچے کہیں نہ کہیں اب بھی پانی بہہ رہا ہے۔
سب سے زیادہ توجہ اس بات نے حاصل کی کہ الطاف حسین، جنہیں برسوں سے پاکستانی ریاست اور قومی سیاست کے متوازی بیانیے میں دیکھا جاتا رہا ہے، انہوں نے نہ صرف “معرکۂ حق” کی حمایت کی بلکہ اپنے کارکنوں کو بھی اس قومی اجتماع میں شریک ہونے کی ترغیب دی، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔ اور پھر وہ منظر، جب قونصل خانے کے اندر اپنی تقریر میں الطاف حسین کے ساتھی امام الدین شہزاد کے منہ سے “پاکستان زندہ باد” کے نعروں کے ساتھ ساتھ “جیئے الطاف”، “جیئے متحدہ”، اور “جیئے پاکستان” کے نعرے بھی سنائی دیے، یہ دراصل پاکستان کی پیچیدہ سیاست کے اندر ایک نئی نفسیاتی تبدیلی کا اظہار بھی تھا۔ یہ محض نعروں کا ملاپ نہیں تھا، یہ شاید ان زخموں کے اوپر پہلی نرم مرہم اور ٹھنڈی ہوا تھی جنہیں برسوں کی تلخی، نفرت، اور پولرائزیشن نے گہرا کر دیا تھا۔
امام الدین شہزاد کی گفتگو میں صرف جذبات کی حرارت نہیں تھی بلکہ ایک گہرا سیاسی اشارہ بھی پوشیدہ تھا۔ جب انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے نوبل انعام کی بات کی تو دراصل وہ ایک ایسے قومی مزاج کی عکاسی کر رہے تھے جو شدید اختلافات، سیاسی تقسیم، اور تلخ ماضی کے باوجود کسی مشترکہ قومی نقطے پر دوبارہ اکٹھا ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بعض اوقات قومیں اپنے نظریاتی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے بھی وطن کے نام پر ایک مشترکہ احساس پیدا کر لیتی ہیں، اور شاید ہیوسٹن کی یہ تقریب اسی احساس کی ایک جھلک بھی تھی۔
کراچی، حیدرآباد، اور اندرون سندھ میں رہنے والی وہ کمیونٹی جس کو اردو بولنے والی یا مہاجر کمیونٹی کہا جاتا ہے، اس کی تاریخ خود پاکستان کی تاریخ سے الگ نہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے عظیم آباؤ اجداد نے قیام پاکستان کے وقت اپنے آبائی شہر، اپنی زمینیں، اپنا ماضی، اپنے آباؤ اجداد کی قبریں، اپنی یادیں سب کچھ پاکستان کے نام پر چھوڑ دیں تھیں، جو یہ نعرے لگاتے ہوئے یہاں پہنچے تھی کہ “ بن کر رہے گا پاکستان، بٹ کر رہے گا ہندوستان “ اور وہ اس وقت صرف ایک جغرافیہ حاصل کرنے کے لیے ہجرت نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک خواب کی طرف سفر کر رہے تھے، ایک ایسے خواب کی طرف جس کا نام پاکستان تھا۔ ایک آذاد ملک اسلیئے ان کے آباؤ اجداد نے اپنے حصے کا درد اس یقین کے ساتھ برداشت کیا کہ یہ ملک ان کی شناخت، ان کی امید، اور ان کے بچوں کے مستقبل کا محور بنے گا۔
آج ان کی نئی نسلیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، اور دنیا بھر کے مختلف حصوں میں بھی آباد ہیں، مگر ان کے لہجوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کسی بحران سے گزرتا ہے تو ان کے دلوں میں بھی وہی بے چینی پیدا ہوتی ہے جو کراچی، لاہور، پشاور، یا کوئٹہ میں محسوس کی جاتی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہی رہی کہ سیاسی اختلافات رفتہ رفتہ سیاسی دشمنیوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ ہر جماعت نے کسی نہ کسی مرحلے پر دوسرے کو صرف مخالف نہیں بلکہ ناقابل قبول سمجھنا شروع کر دیا، مگر قومیں اس طرح آگے نہیں بڑھتیں۔ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب وہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے لیے جگہ چھوڑتی ہیں۔ ہیوسٹن کی اس تقریب میں شاید پہلی بار یہ احساس زیادہ واضح نظر آیا کہ پاکستان صرف ایک جماعت، ایک سوچ، یا ایک بیانیے کا نام نہیں۔ پاکستان ان سب لوگوں کا مشترکہ خواب ہے جو اس کے وجود سے اپنی شناخت جوڑتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ بار بار ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے کہ ملک صرف طاقت سے نہیں بلکہ اتحاد سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب بھی ریاست، فوج، سیاسی جماعتیں، اور عوام ایک دوسرے سے دور ہوئے، اس سے پاکستان کمزور ہوا، اور جب بھی سب نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قومی مقصد کے تحت اکٹھا ہونے کی کوشش کی، یہ ملک بحرانوں سے نکل آیا۔ آج اگر واقعی ایک نیا باب شروع کرنا ہے تو اس کی سب سے بڑی ذمہ داری موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر موجود تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت کو فروغ دیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر مستقل نفرت اور انتقام کسی بھی قوم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
ہیوسٹن میں “معرکۂ حق” کے موقع پر جو منظر دیکھا گیا، وہ شاید اسی امید کی ایک جھلک تھا مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے کمیونٹی رہنما، مختلف ماضی رکھنے والی شخصیات ، اور برسوں سے ایک دوسرے سے فاصلے رکھنے والے حلقے ایک ہال میں پاکستان کے نام پر اکٹھے تھے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو قوموں کے اجتماعی شعور میں خاموش تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ اگر آج ایم کیو ایم الطاف حسین سے وابستہ لوگ پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ قومی یکجہتی کے پیغام میں شریک ہو سکتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اب بھی پل تعمیر کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ دیواریں مستقل تقدیر نہیں ہوتیں۔
یہاں امام الدین شہزاد کی گفتگو محض ایک سیاسی بیان نہیں تھی بلکہ ایک ایسے بیانیے کی بازگشت تھی جو برسوں کی تلخیوں، فاصلوں اور سیاسی تصادم کے بعد پہلی بار مفاہمت اور قومی یکجہتی کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کے قائد الطاف حسین پاکستان کی تاریخ کے وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے کراچی کی سڑکوں پر فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لاکھوں افراد کا اجتماع کیا تھا ایک ایسی ریلی جس میں ریاست، فوج، اور عوام کو ایک ہی جذبے کے دھاگے میں پروئے جانے کی کوشش کی گئی تھی پھر جب حالیہ جنگی فضا نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا تو الطاف حسین کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ اگر وطن کو ضرورت پڑی تو ایک لاکھ کارکن فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور پاکستان کے دفاع کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ شہزاد نے کہا کہ آج پورے ملک میں جنرل عاصم منیر کے لیے نوبل انعام کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر اس مطالبے کی پہلی آواز چند ہفتے قبل خود الطاف حسین نے بلند کی تھی۔ ان کے بقول جنرل عاصم منیر نے صرف ایک جنگی حکمت عملی نہیں دکھائی بلکہ ایسے وقت میں قوم کو اعتماد دیا جب پاکستان داخلی اور خارجی دباؤ کے نازک دوراہے پر کھڑا تھا، اور اسی لیے بہت سے لوگ انہیں وہ شخصیت قرار دے رہے ہیں جس نے نہ صرف پاکستان کو بحران سے نکالا بلکہ پوری قوم کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں نے پہنچایا جنہوں نے سیاست کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا لیا ایسے کرپٹ چہرے ہر دور میں موجود رہے جنہوں نے قوم کو تقسیم کر کے اداروں کو کمزور کر کے اور عوام کے جذبات کو استعمال کر کے اپنی تجوریاں بھریں، کرپشن اور لوٹ مار سے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، اور پاکستان کو کمزور کیا۔ پاکستان کو آج صرف سیاسی استحکام نہیں بلکہ اخلاقی تطہیر اور ایماندار سیاستدانوں کی بھی ضرورت ہے وہ لوگ جو سیاست کو صرف اقتدار، کمیشن، کرپشن، اور ذاتی مفادات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، تاریخ بالآخر انہیں مسترد کر دیتی ہے، کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ دیانت، قربانی، اور اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔
یہاں بیٹھے ہوئے ایم کیو ایم کے ایک سابق وفاقی وزیر شمیم صدیقی کو میں ذاتی طور جانتا ہوں، وہ ابتک یہاں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور مالی طور پر مڈل کلاس کی فہرست میں بھی نہیں آتے ہیوسٹن کمیونٹی ان سے واقف ہے، انکو بھی الطاف حسین نے وزیر بنایا تھا مگر کئی مصطفی کمال جیسے بھی تھے جو ایک ٹیلی فون آپریٹر تھا اور نائین زیرو پر ہی سوتا تھا اپنا گھر تک نہ تھا آج وہ کراچی کے پوش علاقہ ڈفینس میں رہتا ہے ۔ بہرکیف پاکستان کسی ایک جماعت، ایک زبان، ایک صوبے، یا ایک ادارے کا نام نہیں۔ پاکستان ان سب کا مشترکہ وجود ہے اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو ہم سب مضبوط ہوں گے، اگر پاکستان کمزور ہوگا تو ہم سب کمزور ہوں گے۔ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا پاکستانی جب اپنے ملک کا جھنڈا بلند دیکھتا ہے تو اس کے سینے میں بھی فخر کی وہی لہر اٹھتی ہے جو وطن کے اندر محسوس کی جاتی ہے اسی لیے حب الوطنی صرف نعرہ نہیں، یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہوں، فوج ہو، عدلیہ ہو، یا بیرون ملک مقیم اورسیز پاکستانی سب یہ تسلیم کریں کہ مستقل محاذ آرائی کسی کے حق میں نہیں۔ قومیں خانہ جنگیوں، نفرتوں، اور انتقام سے نہیں بلکہ مفاہمت، برداشت، اور مشترکہ خواب سے آگے بڑھتی ہیں۔ اور اگر “معرکۂ حق” جیسے اجتماعات اس احساس کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں کہ اختلاف کے باوجود پاکستان سب سے اوپر اور پہلے ہے، تو یہ واقعی ایک خوش آئند آغاز ہے۔
یہ ممکن ہے کہ اس تقریب کے بعد بھی سیاسی اختلافات باقی رہیں، تنقید جاری رہے، اور بیانیے اپنی اپنی جگہ موجود رہیں، لیکن اگر مختلف طبقات، مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ، اور مختلف ماضی رکھنے والے افراد ایک ہال میں بیٹھ کر “پاکستان زندہ باد” کہہ سکتے ہیں، تو شاید یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس قوم کے اندر اب بھی واپسی کا راستہ موجود ہے۔ اور شاید قوموں کی اصل طاقت بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ ایک دن اپنے زخموں سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ملک کو قائم دائم رکھے اور اسکو ترقی کرنے کے لیے ایسے رہنما سامنے آئیں جوکہ قائداعظم محمدعلی جناح جیسے خیالات اور جذبہ رکھتے ہوں جو اپنی قوم اور ملک کا نام اسطرح روشن کریں جس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کرکے دکھایا ہے۔
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights