Categories
Education Exclusive Karachi KU انکشاف پیپلز پارٹی تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی سمے وار- راہ نمائی کراچی

حکومت سندھ اور جامعہ کراچی کی بربادی

سمے وار (مانیٹرنگ ڈیسک)
سندھ کی یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں ڈوب رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں. کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 کے مطابق پاکستان کی 18 یونیورسٹیاں فہرست میں موجود ہیں۔
سندھ کی صرف ایک جامعہ کراچی اور وہ بھی 1001 سے 1200 کے درمیان بہ مشکل جگہ بناسکی ہے اور یہ کارنامہ گذشتہ 15سال میں ہوا ورنہ 2008سے 2012 کے درمیان پہلے کراچی یونیورسٹی کی رینکنگ 600 کے قریب تھی
جب کہ باقی پورا سندھ یونیورسٹیوں کی رینکنگ کے عالمی نقشے پر موجود ہی نہیں۔
جامعہ کراچی: زوال کی داستان
2012میں QSرینکنگ 601 تھی
2017 میں یہ 700 تک گری
اس کے بعد
2018 — 801 تا 1000
2023 — تاریخی پستی: 1201 تا 1400
2026 — 1001 تا 1200
اسے آپ حکومت سندھ کی کراچی سے دشمنی نا سمجھیئے ۔۔تعلیم سے دشمنی میں یہ پورے سندھ کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سندھ میں کراچی یونیورسٹی کیسے بچ گئی یہ تو شاید اللہ بہتر جانتا ہے ورنہ سندھ یونیورسٹی جامشور ہو یا نوابشاہ کی یونیورسٹی ان کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے
جامعہ سندھ جامشورو: ایشیا میں بھی پیچھے
یہ یونیورسٹی عالمی فہرست میں تو ہے ہی نہیں جبکہ ایشیا کی درجہ بندی میں بھی اس کا حال دیکھیں:
2019 — ایشیا رینک: 401-450
2023 — 651-700
2026 — 851-900
صرف 7 سالوں میں ایشیائی درجہ بندی میں تقریباً 450 درجے کی گراوٹ۔ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا کی درجنوں یونیورسٹیاں آج جامعہ سندھ سے آگے ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت بالآخر وزیراعلی مراد علی شاہ کو 2018 میں سندھ کی تمام یونیورسٹیز کا اختیار مل گیا تھا۔ اس کے بعد جو سندھ یونیورسٹی کا حال ہوا ہے وہ ان اعداد و شمار نے بتادیا۔۔۔ ویسے یہ وہ وزیراعلی ہے جو این ای ڈی کا پڑھا ہوا ہے۔
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی اور SZABIST: عالمی نقشے سے غائب
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، شہید بے نظیرآباد پیپلز پارٹی کے دور میں 2012 میں قائم، کی گئی یہ اتنے سال گزرنے کے بعد کسی بھی بڑی عالمی درجہ بندی میں شامل نہیں۔ تحقیقی کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ پاکستان میں 152 ویں اور عالمی سطح پر تقریباً 12,000 ویں نمبر پر ہے۔
ہم نے کوشش کی کہ SZABIST پاکستان کی عالمی رینکنگ ڈھونڈ سکیں لیکن نا ملی۔ اگر کسی صاحب کے پاس ہو تو شیئر کریں
ذمہ دار صرف سندھ حکومت نہیں۔ اس میں بڑی ذمہ داری ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہے۔ کھربوں روپے اس کمیشن پر خرچ ہوچکے لیکن اس کی پرفارمنس کا حال یہ ہے کہ ملک کی ایک بھی یونیورسٹی عالمی رینکنگ میں پہلے 100 میں نہیں آسکی۔ پرائیوٹ یونیورسٹیز کا تو حال بیان کرنا ممکن نہں لیکن سرکاری یونیورسٹیز کا حال یہ ہے کہ ایچ ای سی کے کتنے قوانین پر عمل ہوتا ہے اس کی ایک رپورٹ تک جاری کرنے سے عاجز ہے۔
جب 2002میں یہ ادارہ قائم کیا گیا تو اعلان کیا گیا تھا کہ یہ پاکستانی یونیورسٹیز کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیئے کام کرے گا۔ کئی چیئرمین آئے ۔ افسری جھاڑی اور چلے گئے۔ موجودہ ستارہ امتیاز بھی افسر ہیں اعلی افسر ہیں۔ نتیجہ ہر سال پاکستانی یونیورسٹیز کی رینکنگ کم ہورہی ہے۔ لیکن صاحب ایچ ای سی کے بابووں کو تن خواہ مراعات اور ڈگری کے لیئے لمبی فیسیں لگانے کا اختیار تو ملا ہو اہے نا۔۔
ایچ ای سی کی نااہلی
پیسوں کی غیر منصفانہ تقسیم ۔ تعصب کا الزام
تحقیقی فنڈنگ کا بڑا حصہ اسلام آباد اور لاہور کے وفاقی اداروں کو جاتا ہے۔ سندھ کی یونیورسٹیاں صوبائی انحصار اور وفاقی لاتعلقی کی دوہری مار میں پڑتی ہے۔
اور پی پی کو تو تعلیم سے دلچسپی نہیں تو ان کی بلا
ایچ ای سی پر سندھ کے حلقے الزام لگاتے ہیں کہ یہ اس وقت ایک لسانی تعصب کا ادارہ بن چکا ہے۔
پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی ۔ سندھ میں صورتحال خاصی خراب ہے۔ بین الااقوامی معیار کے پی ایچ ڈی پروگرامز نا ہیں نا بنائے جارہے ہیں
ایچ ای سی پر الزام لگتا کے یہ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ تعصب کرتا ئے اور بیشتر انٹرنیشنل پی ایچ ڈی پروگرامز اسلام آباد اور لاہور کو دیدیتا ہے
اگر گذشتہ پندرہ سال میں پی ایچ ڈی کے لیئے سرکاری طور پر امریکا برطانیہ یورپ پاکستان سے بھیجے گئے طلبہ کی تعداد نکلوائیں تو آپ کو فرق نظر آئے گا
پاکستانی سرکاری یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے اشتراک کرانے میں یہ ادارہ ناکام رہا ہے اس کو ان یونیورسٹیوں کا معیار بلند کرنا تھا اپنے قواعد نافذ کرکے لیکن یہ نہیں کرسکا
پھر سندھ HEC نے دی امپیکٹ رینکنگ میں یونیورسٹیوں کی تعداد 16 سے بڑھا کر 44 کر دی اور اسے عالمی کام یابی قرار دے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اصل تحقیقی معیار نہیں، صرف اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف پر رپورٹنگ کی تربیت ہے۔ عوام کو گمراہ کرنا بند کریں۔
احتساب کا مکمل فقدان
وائس چانسلروں کی تقرریاں میرٹ سے نہیں، سیاسی تعلق سے ہوتی ہیں۔ رینکنگ میں گراوٹ کے لیے آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ HEC آنکھیں بند رکھتا ہے۔
کوئی اس ناکام ادارے سے سوال نہیں کرتا
ہمارے پرائم ٹائم اینکرز پوڈ کاسٹرز کا تعلیم سے لگتا ہے لینا دینا نہیں اسی لیئے اس موضوع پر سوال نہیں اٹھاتے۔ کسی کو دلچسپی ہے تعلیم سے؟ ورنہ اس ملک میں ایچ ای سی اور انٹر میٹرک بورڈزسے بڑی خبر نہیں۔۔۔پھر سب شکوہ کرتے ہیں کہ بچے ایسے کیوں ہیں
اگر تعلیم کی بدحالی اہم ایشو نہیں تو پھر نوجوانوں کی بدزبانی پر اعتراض کیوں ہے؟
لیکن پھر بات وہیں آجاتی ہے پیپلز پارٹی ہو کہ ن لیگ یا کوئی اور جماعت کسی کے مرکزی قائدین کے بچے پاکستان میں اعلی تعلیم حاصل کہاں کرتے ہیں؟ یہ کیمبرج اسکول سے پڑھ کر پوش علاقوں کے کالجوں سے اے لیول نکال کر امریکا برطانیہ یورپ روانہ۔۔یہی حال پاکستانی بیوروکریسی کا ہے۔ سب نے مستقبل امریکا برطانیہ مٰیں دیکھ رکھا ہے۔۔تو پاکستانی یونیورسٹییوں کالجوں کا حال تباہ ہوتا ہے تو ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights