Categories
Education Interesting Facts Media Society انکشاف اے آئی تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ قومی سیاست

“ففٹی ففٹی” چوراہا!

سمے وار (تحریر: شاہ جی sua)
وقت بدلتا ہے، کیلنڈر بدلتے ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں مگر کچھ معاشرے شاید اپنے مسائل کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں۔ کبھی رفتار تیز ہو جاتی ہے، کبھی آہستہ، مگر منزل پھر بھی وہیں کھڑی رہتی ہے جہاں برسوں پہلے تھی۔ آج یہی احساس اُس وقت ہوا جب اچانک ذہن میں پرانا کامیڈی شو ففٹی ففٹی آیا۔
وہ ایک ایسا دور تھا جب حالاتِ حاضرہ کو مزاح کے انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ جوکس تھے، طنز تھا، مسکراہٹ تھی، مگر اُن سب کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہوتی تھی۔ اُس وقت شاید ہم ہنستے تھے، لطف لیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ سب وقتی باتیں ہیں، وقت بدلے گا، حالات بدل جائیں گے۔ مگر آج اگر وہی پروگرام دوبارہ دیکھ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اُس وقت کی باتیں آج بھی ہمارے حالات پر پوری طرح فٹ بیٹھتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے وقت آگے نہیں بڑھا، صرف تاریخیں بدلتی رہیں۔
آج کی نسل شاید ففٹی ففٹی کے نام سے بھی واقف نہ ہو۔ اُنھیں شاید اُس زمانے کے ففٹی بسکٹ” کا بھی علم نہ ہو، مگر ہماری نسل نے وہ بسکٹ بھی کھایا ہے اور وہ طنز و مزاح بھی دیکھا ہے جس میں پورا معاشرہ چھپا ہوا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ اتنے برس گزرنے کے باوجود ہم آج بھی اُسی دائرے میں گھوم رہے ہیں۔
ہماری حالت اُس گاڑی جیسی ہو گئی ہے جو ایک چوراہے کے گرد مسلسل چکر لگا رہی ہو۔ کبھی رفتار بڑھ جاتی ہے، کبھی کم ہو جاتی ہے، شور بھی بہت ہوتا ہے، مگر راستہ نہیں بدلتا۔ نہ ہمارے رویے بدلے، نہ ترجیحات، نہ نظام، نہ سوچ۔
سوشل میڈیا آ گیا، مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی آ گئی، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، مگر ہم آج بھی رشوت کو معمول سمجھتے ہیں، سفارش کو حق سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، برداشت اور سلیقے کو غیر ضروری چیز۔ حالاں کہ ہمارا دین تو ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنا سکھاتا ہے، مگر ہم نے شاید سہولت صرف اپنے لیے مانگی، دوسروں کے لیے نہیں۔
اصل سوال یہی ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟ شاید مسئلہ وسائل کا نہیں، نیتوں اور رویوں کا ہے۔ ہم ترقی چاہتے ضرور ہیں مگر اُس قیمت پر نہیں جس میں اپنی عادتیں بدلنی پڑیں۔ ہم جدید تو ہونا چاہتے ہیں مگر مہذب نہیں۔ ہم آگے بڑھنے کی بات تو کرتے ہیں مگر پرانی غلطیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
اسی لیے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم کل بھی یہی تھے، آج بھی یہی ہیں اور اگر سوچ نہ بدلی تو کل بھی شاید یہی رہیں گے۔ بس چوراہے کے گرد چکر لگاتے رہیں گے، رفتار بدلتی رہے گی مگر منزل نہیں۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights