سمے وار (تحریر: نثار نندوانی)
کراچی اور حیدرآباد دونوں صوبہ سندھ کے بڑے شہر ہیں۔ دونوں شہروں کے بیچ میں 140 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔۔۔۔ یہ کلومیٹر فاصلے کا فرق ہے ورنہ تقریبآ دونوں شہر پھیلتے ہوئے آپس میں ملنے لگے ہیں، مگر دونوں شہروں کے درمیان، روایت ، سماج ۔۔۔ آب وہوا ، انسانی رویوں میں زمین آسمان کا فرق بالکل واضح ہے ۔۔۔ حیدرآباد۔۔۔۔۔۔ کراچی شہر کے بالکل متضاد ہے ۔۔
ان دونوں شہروں کے رہن سہن۔۔۔۔۔ مزاج اور ثقافت میں کچھ نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔۔۔۔ کراچی کے لوگ عموماً بہت تیز رفتار زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔۔۔ شہر بہت بڑا۔۔۔۔۔۔۔ مصروف اور ہلچل سے بھرپور ہے ۔۔۔۔۔ اس لیے یہاں کے لوگ بھی جلدی میں اور مصروف مزاج ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حیدرآباد میں زندگی نسبتاً پر سکون اور سادہ ہے ۔۔۔۔۔۔ لوگ زیادہ سکون سے ۔۔۔۔۔۔۔ روایتی انداز میں زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔ حیدرآباد میں زیادہ تر سندھی اور اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے اور سماجی طور پر آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ دونوں طبقات کی اب تو آپس میں ازدواجی رشتے داریاں بھی قائم ہو چکی ہیں ۔۔۔۔ کراچی کے شہری متنوع ماحول میں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے وہ مختلف ثقافتوں کے عادی اور کچھ حد تک reserved رہتے ہیں ۔۔۔۔ جبکہ حیدرآباد کے لوگ عام طور پر زیادہ نرم مزاج ۔۔۔۔۔۔۔ مہمان نواز اور ملنسار سمجھے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کراچی کثیر اللسانی کاسمو پولیٹن شہر ہے جہاں اردو ، سندھی ، پنجابی ، پشتو ، بلوچی ، سرائیکی وغیرہ سب زبانیں بولی جاتی ہیں۔
حیدرآباد خاص طور پر اپنے روایتی کھانوں (جیسے سندھی بریانی۔۔ ساگ ۔۔۔ اور ہندوستانی روایتی کھانوں وغیرہ) کیلئے مشہور ہے ۔۔۔۔ اور ذائقہ زیادہ دیسی اور روایتی ہوتا ہے۔
کراچی میں مصروفیت کی وجہ سے لوگ اکثر اپنے محلے والوں سے بھی نہیں ملتے ۔۔۔ پڑوس میں ایک دوسرے کو صرف نام کی حد جانتے ہیں جبکہ حیدرآباد میں آج بھی رشتے ۔۔۔۔۔۔ محلے داری اور خاندانی تعلقات زیادہ مضبوط اور گہرے ہیں ۔
کل حیدرآباد میں پان کی ایک دکان پر کھڑا تھا تو میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ ہر شخص آج بھی پہلے “السلام علیکم” ضرور کہتا ہے اور جواب وعلیکم السلام بھی ملتا ہے ۔۔۔۔ میں نے جب پان بنانے کے لیے کہا اور یہ بتایا کہ کراچی سے آیا ہوں تو پان والے نے اسی قیمت فروخت پر اسپیشل پان بنا کر دیئے ۔۔۔۔ ایک جگہ دال پکوان کھائے اس میں چاٹ مسالا بہت عمدہ کوالٹی کا تھا ۔۔۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ اپنے گھر کا بنایا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا اگر میں خریدوں تو بیچیں گے ۔۔۔۔ تو انھوں ایک شاپر میں آدھا پاؤ جتنا تحفتاً دے دیا ۔۔۔۔ اور کراچی میں کینو ۔۔۔ فالسے خریدنے پر بھی زیادہ نمک والا مساال کم دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ میرا کراچی محبتیں بانٹنے میں بانجھ ہے ۔۔۔۔ اور شاید بانجھ ہی رہے کیوں کہ یہاں تو کھانے کے ساتھ سلاد بھی ۔۔۔۔ قیمتاً دست یاب ہے۔۔۔۔۔ کئی اور تجربات و مشاہدات بھی ہیں جو پھر کبھی نوک قلم کے سپرد کروں گا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کراچی محبتیں بانٹنے میں خالی ہے؟
