Categories
Education Interesting Facts Karachi MQM PPP Society پیپلز پارٹی تعلیم تہذیب وثقافت دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست مہاجرقوم

سندھ: ثقافتی شدت پسندی ٹھیک نہیں

سمے وار (تحریر: ریحان انصاری)
گزشتہ دنوں سندھ کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک بزرگ جو اجرک کے ڈیزائن کی دھوتی تھی، جس پر کچھ شدت پسندوں نے جبراً سندھی اجرک کو مقدس شئے سمجھ کر بے شرمی سے اتار کر بزرگ کو بے لباس کر دیا…
تو میرے سامنے ہندوؤں کی ایک تصویر بنی، جس کے بعد مہاجروں کو ہندوستانی کہنے والوں کے ازلی و نسلی سارے کرتوت ہندوؤں والے ثابت ہوئے…
سب سے پہلے ہندوؤں کے ایک مقدس رنگ کی طرف توجہ دلاتا ہوں…
ہندوؤں کے نزدیک نارنجی رنگ کو بہت اہمیت حاصل ہے، بہت مقدس سمجھا جاتا ہے جس کو یہ بھگوا رنگ کہتے ہیں…
اسی طرح ہندوؤں کی سندھی اولادوں کے نزدیک ان کے لیے اجرک مقدس ہے…
جب میں نے شرعی طور پر اس بات کی تحقیق کی اور سندھیوں کے اس دعوے کی بھی تحقیق کی جس میں سندھی قوم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اجرک حضورؐ کی سنت ہے…جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسی حدیث شریف کے اندر کسی اجرک نامی چادر کا ذکر موجود نہیں، سوائے اس یمنی چادر کے جو دھاری دار تھی… نہ اجرک نام کسی حدیث میں موجود ہے اور نہ کسی سندھی اجرک کا تذکرہ موجود ہے، تو پھر یہ مقدس کیسے ٹھہری…؟
میں ان تمام سندھیوں کو چیلنج کرتا ہوں، اگر اجرک نامی شئے کا باقاعدہ نام، رنگ اور ڈیزائن کے ساتھ کسی چادر کا تذکرہ موجود ہے، وہ بھی سندھ کے ساتھ وابستہ ہو کر، تو لائیں دلیل پیش کریں…
آج تحقیق کرتے ہوئے مجھے بچپن کا ایک واقعہ بھی یاد آ گیا، جب اسکول کی کلاسوں میں سندھی کی کلاس ہوتی تھی تو اس کتاب میں اجرک کا تذکرہ بھی تھا اور بغیر کسی دلیل کے سنت قرار دیا گیا تھا… مگر افسوس، ہم ٹھہرے بچے، ورنہ دلیل تو اس وقت بھی میں مانگ ہی لیتا…
آپ سوچ اور شدت پسندی کا اندازہ لگائیں کہ ان سندھیوں کی نام نہاد اجرک اتنی مقدس ہو گئی کہ زور و جبر کے ذریعے پورے کراچی میں نافذ کر دی گئی…
ہر گاڑی میں اجرک والی نمبر پلیٹ، ورنہ گاڑی ہو ضبط… آج اجرک پر لکھنے کی وجہ ان شرسندوں کو پیغام تھا جو ہم مہاجروں کو ہندوستانی کا طعنہ دیے نہیں تھکتے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھی آج سب سے زیادہ شدت پسند اور ہندوستانی ہیں.
ہم مہاجر ہیں، ہمارے نزدیک وہی چیز مقدم اور مقدس رہے گی جو قرآن و حدیث سے ثابت ہو…
ورنہ جبر سے نافذ کرنے والے نام نہاد اجرک نامی ہندوتوا رنگ کو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو جوتی کی نوک پر رکھیں گے…
ثقافتی چیزیں اور ورثہ کی قدر اور محبت ہمارے دلوں میں ہے، خدارا ثقافتی نشان اجرک کو مقدس بنا کر زبردستی پیش کرنے کی کوشش نہ کریں.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights