Categories
Education Exclusive Health Interesting Facts Karachi KU Media انکشاف تعلیم تہذیب وثقافت جامعہ کراچی دل چسپ سائنس وٹیکنالوجی سمے وار- راہ نمائی صحت کراچی مہاجرقوم

گلشن اقبال کے رب میڈیکل کی کہانی

سمے وار (خصوصی رپورٹ)
آپ نے گلشنِ اقبال کراچی کا “رب میڈیکل سینٹر” دیکھا ہے؟ وہی جگہ… جہاں لوگ دور دور سے آتے تھے… جہاں ایک ڈاکٹر صرف مریض کو دیکھ کر بیماری بتا دیتا تھا… جہاں امید، مایوسی پر بھاری پڑتی تھی…
اس کلینک کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہے جو دل ہلا دیتی ہے؟
یہ کہانی ہے پروفیسر ڈاکٹر سید محب الرب (Dr. S.M. Rab) کی… کہانی شروع ہوتی ہے بہار کے شہر گیا سے…ایک نوجوان… جس کا انجینئرنگ میں داخلہ ہو چکا تھا… وہ انجینئرنگ پڑھ رہا تھا… خواب بھی وہی تھے۔ 11 ستمبر 1947 کی شام…
گنگا کے کنارے دوستوں کے ساتھ بیٹھا… غالب کی شاعری سن رہا تھا…اور پھر اچانک…ایک ٹیلی گرام آیا:
“ڈھاکہ میڈیکل کالج میں تمہارا انٹرویو 15 ستمبر کو ہے۔”
بس… یہی وہ لمحہ تھا…جہاں زندگی نے پلٹا کھایا۔
اس نوجوان نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا…اپنی انجینئرنگ کی کتابیں بیچ دیں…دوستوں سے کچھ پیسے ادھار لیے…
اور جیب میں صرف چار آنے رکھ کر ڈھاکہ جانے کے لئیے ٹرین میں بیٹھ گیا۔ نہ کوئی پلان… نہ کوئی سہارا…
بس ایک یقین۔
ڈھاکا پہنچا…اور وہاں سے ایک نیا سفر شروع ہوا۔ وہ ڈھاکا میڈیکل کالج کے پہلے بیج کا حصہ بنا…
جلد ہی اپنی محنت اور ذہانت سے ایک نمایاں ڈاکٹر بن گیا۔
زندگی سنور رہی تھی… مگر پھر 1971 آ گیا…
اور سب کچھ بکھر گیا۔گھر کلینک… عزت… مقام…سب پیچھے رہ گیا۔
یہ صرف ہجرت نہیں تھی…
یہ وہ درد تھا جو صرف بہاری سمجھ سکتے ہیں۔ پھر وہی انسان…پھر خالی ہاتھ کراچی آ گیا۔
1972 میں جناح اسپتال (JPMC) سے دوبارہ آغاز کیا۔آسان نہیں تھا…
مگر وہ رکا نہیں۔اور پھر…وہی شخص بن گیا…
استادوں کا استاد۔ وہ عام ڈاکٹر نہیں تھا…مریض کو دیکھتا…چال سے بیماری پہچان لیتا…آنکھوں میں دیکھ کر تشخیص کر لیتا…اور صرف نبض پر ہاتھ رکھ کر وہ راز بتا دیتا جن کے لیے آج مہنگی مشینیں درکار ہوتی ہیں۔
انہیں مشینوں پر کم… اور اپنے تجربے، مشاہدے اور علم پر زیادہ بھروسہ تھا۔
گلشنِ اقبال کا وہی رب میڈیکل سینٹر…لوگوں کی آخری امید بن گیا۔
وہ صرف ڈاکٹر نہیں تھے… وہ ایک درویش تھے۔
راؤنڈز کے دوران تاریخ سناتے…
اور جیسے ہی اذان کی آواز آتی… وہ فوراً کام چھوڑ دیتے… کلینک سے نکلتے…
اور قریبی مسجد میں نماز کے لیے چلے جاتے۔ اور پھر…قدرت نے ایک عجیب دائرہ مکمل کیا۔
15 ستمبر 1947…
جس دن اس نے سفر شروع کیا تھا… ٹھیک 67 سال بعد…
15 ستمبر 2014 کو اسی دن اس نے دنیا کو الوداع کہا۔
میرے بہاری نوجوانوں کے لیے ایک بات…
اگر ایک شخص انجینئرنگ چھوڑ کر کتابیں بیچ کر…
چار آنے سے سفر شروع کر کے…
دو بار ہجرت کر کے… پاکستان کا سب سے بڑا ڈاکٹر بن سکتا ہے…
تو آپ کیوں نہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights