سمے وار (مرسلہ: ساجد احمد)
اسلام آباد کے مارگلہ کے جنگلات میں ایک ایسا جانور بڑی تعداد میں موجود ہے جسے اکثر لوگ صرف ایک نقصان دہ جانور سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ جنگل کے قدرتی نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ یہ جنگلی سور (Wild Boar) ہے، جس کا سائنسی نام Sus scrofa ہے۔ مضبوط جسم، موٹے بال، لمبی تھوتھنی اور نر کے نمایاں دانت اسے آسانی سے پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ پاکستان سمیت یورپ اور ایشیا کے بہت بڑے حصے میں پایا جاتا ہے اور مختلف ماحول میں خود کو ڈھالنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
مارگلہ ہلز میں جنگلی سور صرف موجود ہی نہیں بلکہ تیندوے کے اہم قدرتی شکار میں شامل ہے۔ 2026 میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک پر ہونے والی چار سالہ کیمرا ٹریپ تحقیق میں جنگلی سور کو تیندوے کے اہم شکار میں شمار کیا گیا۔ اسی تحقیق نے واضح کیا کہ تیندوے کی موجودگی اور علاقے کے استعمال پر سب سے مضبوط اثر شکار کی دستیابی کا ہے؛ یعنی جہاں مناسب شکار زیادہ ہو، وہاں تیندوے کے رہنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
جنگلی سور کی ایک حیران کن عادت اس کی زمین کھودنے کی صلاحیت ہے۔ اپنی سخت تھوتھنی اور طاقتور گردن کی مدد سے یہ زمین کو الٹ پلٹ کرکے جڑیں، زیرِ زمین حصے، کیڑے، کیچوے اور دوسری خوراک تلاش کرتا ہے۔ اس سرگرمی سے جنگل کی اوپری مٹی بار بار disturb ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پودوں کی افزائش، بیجوں کے پھیلاؤ اور زمین میں موجود چھوٹے جانداروں کے ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر تعداد بہت بڑھ جائے تو یہی عادت قدرتی نباتات اور جنگل کے نچلے حصے کو شدید نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
اسلام آباد کے لیے مسئلہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے جب جنگلی سور جنگل سے نکل کر انسانی آبادی کے قریب پہنچتا ہے۔ کچرے کے ڈھیر، پھینکی ہوئی خوراک اور شہری علاقوں میں دستیاب آسان خوراک اسے بار بار ان مقامات کی طرف کھینچ سکتی ہے۔ پاکستان میں جنگلی سور پہلے ہی زرعی علاقوں میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے والا اہم جانور سمجھا جاتا ہے، اور اس کی تعداد میں اضافے کو ایک بڑھتا ہوا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
لیکن اسلام آباد میں جنگلی سور کا شہر کی طرف آنا صرف اسی جانور کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک پورا شکاری نظام بھی حرکت کرتا ہے۔ مارگلہ میں اگر جنگلی سور یا آوارہ کتے انسانی آبادی کے قریب کچرے کی وجہ سے جمع ہوں تو تیندوا بھی ان کے پیچھے شہری کناروں تک پہنچ سکتا ہے۔ 2026 کی تحقیق میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سردیوں میں مارگلہ کے اطراف تیندوے کی موجودگی کی کئی شکایات موصول ہوئیں اور متعدد مشاہدات کچرا پھینکنے والی جگہوں کے قریب ہوئے، جہاں تیندوے جنگلی سور یا آوارہ کتوں کے پیچھے آتے دیکھے گئے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں نظر آنے والے تیندوے کو ہر بار یہ سمجھنا درست نہیں کہ وہ اپنا جنگل چھوڑ کر انسانوں کے شکار کے لیے شہر میں آیا ہے۔ اکثر معاملہ اس کے برعکس ہوسکتا ہے: شکار انسانی آبادی کے قریب آیا، اور شکاری اس شکار کے پیچھے وہاں پہنچ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچرے کا ناقص انتظام انسان اور تیندوے کے درمیان فاصلہ کم کرنے والا ایک اہم عامل بن سکتا ہے۔
تیندوے کی خوراک صرف جنگلی سور تک محدود نہیں۔ مارگلہ میں اس کے شکار میں بھونکنے والا ہرن، جنگلی سور، بھارتی خارپشت اور ریسس بندر جیسے جانور شامل ہیں، جبکہ بعض حالات میں چھوٹے ممالیہ اور گھریلو جانور بھی اس کی خوراک بن سکتے ہیں۔ جب قدرتی شکار کم ہوجائے تو تیندوا بکریوں، بھیڑوں اور دوسرے مویشیوں کی طرف بھی متوجہ ہوسکتا ہے، جس سے انسان اور تیندوے کا تصادم بڑھتا ہے۔
جنگلی سور کی تعداد زیادہ ہونا بظاہر تیندوے کے لیے فائدہ مند لگتا ہے، کیونکہ اسے خوراک زیادہ ملتی ہے، لیکن ماحولیاتی نظام میں معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اگر جنگلی سور غیر معمولی تعداد میں بڑھ جائیں تو وہ جنگل کی نباتات، زمین اور دوسرے جانوروں کے وسائل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر شکاری جانور کم ہوجائیں تو جنگلی سور کی تعداد مزید بڑھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی جنگلی سور کی بڑھتی ہوئی تعداد کو شکاریوں میں کمی سمیت کئی عوامل سے جوڑا گیا ہے۔
مارگلہ کے جنگلات میں یہ تعلق ایک دلچسپ شکاری اور شکار کے قدرتی توازن کی مثال ہے۔ جنگلی سور زمین پر خوراک تلاش کرتا ہے، اس دوران جنگل کے ماحول کو بدلتا ہے؛ تیندوا اسی جنگل میں شکار تلاش کرتا ہے؛ اور دونوں کی موجودگی بالآخر پورے ماحولیاتی نظام کی حالت سے جڑی ہوئی ہے۔
حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مارگلہ میں تیندوے سردیوں کے دوران انسانی آبادی سے نسبتاً دور علاقوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اسی موسم میں ان کی موجودگی اور سرگرمی زیادہ نمایاں ہوتی ہے، جبکہ شکار کی دستیابی ان کے علاقے کے استعمال کا ایک بنیادی عامل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارگلہ کا جنگل جتنا صحت مند اور قدرتی شکار سے بھرپور ہوگا، تیندوے کو شہر کی طرف آنے کی ضرورت اتنی ہی کم ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں جنگلی سور کا شہری علاقوں میں آنا اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ صرف ایک جانور کے شہر میں داخل ہونے کی خبر نہیں، بلکہ جنگل، خوراک، کچرے، شکار اور بڑے شکاری کے درمیان قائم پورے قدرتی نظام کی علامت ہے۔ کچرے کو کھلا چھوڑنا ایک ایسے سلسلے کو جنم دے سکتا ہے جس میں پہلے جنگلی سور یا آوارہ کتے خوراک کے لیے جمع ہوتے ہیں، پھر ان کے پیچھے تیندوا انسانی آبادی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تیندوے کے تحفظ کے لیے صرف تیندوے کو بچانا کافی نہیں؛ اس کے قدرتی شکار، جنگل کے رابطے، کچرے کے انتظام اور انسانی سرگرمیوں کو بھی منظم کرنا ضروری ہے۔ 2026 کی تحقیق نے بھی جنگلی شکار کی نگرانی، شہری کناروں پر بہتر کچرا انتظام، سردیوں میں تیندوے کے بنیادی علاقوں میں انسانی سرگرمیوں کی بہتر تنظیم اور مارگلہ سے مری و ایوبیہ تک قدرتی رابطے برقرار رکھنے کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
.
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
