Categories
Exclusive History of Pakistan Interesting Facts Karachi MQM PPP Rizwan Tahir Mubeen انکشاف پیپلز پارٹی تعلیم دل چسپ سمے وار بلاگ سمے وار- راہ نمائی سندھ سیاست قومی تاریخ قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم ہندوستان

الگ صوبہ: سرکاری ’ایم کیوایم‘ 22بنیادی سوال نہ پوچھ سکی!

سمے وار (تحریر: رضوان طاہر مبین)
سندھ اسمبلی میں 31 اگست 2026 کو تاریخ میں پہلی بار نئے صوبوں کے حوالے سے بحث منظور ہوئی تو اسے ایک بڑا تاریخی موقع کہا جا رہا تھا، لیکن شاید یہ موقع اسی لیے دیا گیا کہ انھیں پتا تھا کہ ان کے مقابل ’’مصنوعی قومی موومنٹ‘‘ ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ ’’سرکاری ایم کیو ایم‘‘ 10 برس کی مسلسل اور زبردست ریاستی سرپرستی کے بعد اس قابل بھی نہ ہو سکی کہ وہ کھل کر کہہ سکتی کہ ہم اپنا الگ صوبہ کیوں مانگ رہے ہیں؟
یہاں کیوں کا سوال تو چھوڑیے، انھوں نے تو اس سے بھی انکار کر دیا کہ وہ الگ صوبہ مانگ رہے ہیں یا سندھ کی تقسیم چاہتے ہیں، مصنوعی طور پر اسمبلی میں بھیجے جانے والے ارکان تو بس ’’انتظامی یونٹ، انتظامی یونٹ‘‘ کر کے منمناتے رہے اور اس میں بھی وہ ڈھنگ سے یہ 22 بنیادی سوالات بھی نہ پوچھ سکے جو کہ اس بات کا جواز فراہم کرتے ہیں کہ سندھ کو تقسیم کیا جائے:

سندھ سرکار بتائے کہ سندھ ایک ذولسانی صوبہ ہے، تو اس میں دوسری لسانی اکائی مہاجر کی نمائندگی کہاں غائب ہے؟

آخر اسی سندھ اسمبلی کا نام سندھی اور انگریزی میں کیوں لکھا گیا ہے، اردو میں کیوں نہیں؟ اردو کو سندھ کے سرکاری محکموں میں کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟

سرکاری محکموں سے لے کر سرکاری اشتہاروں تک میں صرف سندھی ثقافت ہی کو کیوں نمایاں کیا جانے لگا ہے؟

کراچی میں کیوں کراچی والوں کی ثقافت کے بہ جائے دیہی سندھ کی ثقافت کا پرچار کیا جا رہا ہے؟
کراچی والوں کی ثقافت بلڈوز ہوگی تو وہ لسانی تحفظ کے لیے الگ صوبہ مانگیں گے۔

ایف آئی آر میں بھی سندھی زبان شامل ہے تو نمبر پلیٹ پر بھی سندھی اجرک کی پابندی اور ڈرائینونگ لائسنس پر بھی سندھی اجرک کی چھاپ، سڑکوں اور پلوں تک پر سندھی اور سرائیکی اجرک رنگی ہوئی ہے۔ ایسے میں مہاجروں کے اندر ثقافتی محرومی بڑھے گی اور وہ ایسے میں وہ اپنا الگ صوبہ نہ مانگیں تو کیا کریں؟

آخر سندھ کی صوبائی کابینہ میں ایک بھی مہاجر وزیر کیوں موجود نہیں؟

صوبہ سندھ میں آج تک ایک بھی مہاجر وزیراعلیٰ کیوں نہ آسکا؟

سندھ سیکریٹریٹ سمیت صوبہ سندھ کی کراچی کی سرکاری اسامیوں میں کتنے کراچی والے ملازمت رکھتے ہیں؟

وڈیرا شاہی کراچی کی شناخت مٹانے کے درپے کیوں ہے؟ کیوں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کو توڑ کر لیاری ڈیولپمنٹ اور ملیر ڈیولپمنٹ بنائی گئی؟
10۔
آخر کیوں پورٹ قاسم کے سامنے کراچی پورٹ ٹرسٹ کو سوتیلا بنایا جا رہا ہے؟
11۔
کیوں کراچی واٹر بورڈ کے اختیارات غصب کیے گئے؟
12۔
کراچی میں پانی کے ٹینکروں کا نظام کون چلا رہا ہے؟ اور کراچی والے کب تک ٹینکر مافیا سے مہنگا پانی خریدتے رہیں گے؟
13۔
کیوں ’کارڈیو‘ (قومی ادارہ برائے امراض قلب)این آئی سی وی ڈی کے سینے میں ’سندھ انسٹی ٹیوٹ کارڈیویسکولر (ایس آئی سی وی ڈی) کا خنجر گاڑا گیا؟
14۔
کیوں کراچی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والے مہاجروں کو اقلیت میں بدلنے کے لیے اردگرد کچی آبادیاں قائم کی جارہی ہیں؟
15۔
کیوں کراچی کی مرکزی سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں پر باقاعدہ پورے پورے خاندانوں کو لاکر کیوں آباد کیا جا رہا ہے؟
16۔
بلدیاتی حلقوں میں مہاجر آبادیوں ووٹر زیادہ اور اور سندھی آبادیوں کے حلقوں میں کم ہیں۔ یہ ووٹروں کا اتنا فرق کیوں رکھا گیا ہے؟
17۔
بھٹو دور سے اب تک کراچی کی مردم شماری میں گڑبڑ کیوں کرائی جاتی رہی ہے؟
18۔
آخر پیپلز پارٹی نے کیوں بانی پاکستان کے نام پر جناح میڈیکل یونیورسٹی کے نام کو برداشت نہیں کیا اور اسے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کروایا؟
19۔
ہم اپنا صوبہ الگ کیوں نہ کریں کہ جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک نام سے بھی وڈیروں کے دل میں آگ لگ جاتی ہے؟
20۔
کراچی میں کتنے اعلیٰ پولیس افسران اور تھانوں کے ایس ایچ او مہاجر ہیں؟ کراچی میں کتنے پولیس اہل کاروں کا تعلق کراچی سے ہے؟
21۔
کراچی میں کتنے بڑے صوبائی سرکاری اور تعلیمی ادراوں کے سربراہ کراچی والے ہیں؟
22۔
سڑکیں اور صفائی ستھرائی نہ کرنے والے کراچی میں ہی ای چالان کی غنڈہ گردی کیوں کر رہے ہیں؟
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights