سمے وار (تحریر: ڈاکٹر شاہد ناصر)
ہمارے ہاں جب سے ایک خاص طبقے کے پاس موبائل اور سوشل میڈیا پر رسائی ہوئی ہے تو بندر کے ہاتھ میں ادرک والی بات لگتی ہے، ایسی چمک دمک دیکھی کہ عقل وقل سب بھول بھال گئے۔ اور کراچی؟
انھوں نے کراچی کو دبئی سمجھا اور وہ کچھ بے شرم اور منافق جو کراچی کے کھنڈر کو بھی آثار قدیمہ اور حسن ثابت کرتے کرتے مرجائیں گے وہ۔۔۔
خیر، گذشتہ دنوں آرٹس کونسل سے گزر ہوا۔ قسمت سے چند قدم پیدل چلنے کی سعادت نصیب ہوگئی تو حیرت ہوئی کہ یہ سب سے بہتر اور شان دار سڑک گنی جاتی ہے اور ہرطرح سے اس کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ہوائی اڈے سے اقتدار کے ایوانوں تک یہی سڑک جاتی ہے، ملکی اور غیر ملکی مہمان یہیں سے گزر کر کراچی کا تاثر قائم کرتے ہیں، لیکن حیرت ہوئی نرسری کے علاقے میں فٹ پاتھیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ سڑک پر پیدل چلنے کی گنجائش ختم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔

کیا آپ یقین کریں گے کہ شاہ راہ فیصل پر چلتے چلتے فٹ پاتھ پر اچانک لانڈھی کورنگی اور اورنگی کے کسی پس ماندہ علاقے کی طرح اچانک سے نالا کھلا ہوا آجاتا ہے اور آپ کو چاروناچار پیدل چلتے ہوئے سڑک پر آنا پڑ جاتا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر خیال آتا ہے کہ سندھ سرکار نے جتنی توجہ سے اس بالائی گزرگاہ کو سندھی ثقافت کے اجرک کے رنگ دینے میں محنت کی ہے، اس کی پائو محنت نیچے بھی کرلیتی تو شاید شاہ راہ فیصل کے یہ نالے ٹوٹے ہوئے نہ ہوتے، شاید یہ منصوبہ ہو کہ کوئی بھی راہ گیر اجرک دیکھتے ہوئے محو ہو کرچلے اور نالے میں گر پڑے۔۔۔

یہ صرف کراچی میں ہو رہا ہے سندھ اور پنجاب سے لے کر ملک بھر سے غیر مقامیوں کے جتھے کراچی بھیجے جا رہے ہیں کہ اس شہر کوبرباد کرو جہاں چاہو رہو، کوئی نہیں روکے گا۔ چاہے شاہ راہ فیصل کی بالائی گزرگاہ پر خیمہ لگا لو۔ لوٹو جیسے لوٹ سکتے ہو۔۔۔
سائیکل بھی یہیں پارک کرو، تم کوئی کراچی والے تھوڑی ہو جو تمھیں پریشان کرے گا، یہاں تو صرف کراچی والوں کو ہی کراچی سے بے دخل کرنا ہے۔


آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ کھنڈر منظر شاہ راہ فیصل پر نرسری کے علاقے کا ہے، جہاں کسی دیہات کی طرح نالا ٹوٹوا ہوا ہے اورا س میں سے مختلف لائنیں جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہی حال ہے 70 فی صد روپیا کما کر دینے والے شہر ناپُرساں کا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
