سمے وار (تحریر: اجمل شعیب)
اس ملک میں جس طرح بے شمار جھوٹ بہت شدو مد سے پھیلائے گئے اس میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ کراچی میں کراچی والے کسی کو بھی زندہ نہیں رہنے دیتے۔ یہاں بہت تعصب ہے، یہاں بھتا ہوتا ہے، یہ لوگ بہت برے ہیں، سب سے نفرت کرتے ہیں، پریشان کرتے ہیں، الغرض جتنا کچھ ہوسکتا تھا کہا گیا اور اب بھی کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کراچی والے ملک بھر میں سب سے زیادہ کھلے دل کے ہیں اور سب سے کم متعصب ہیں، اور آج اپنے اسی کھلے پن کی سزا پا رہے ہیں کہ بدنام تو اس کے باوجود ہیں۔ بدترین زندگی گزارنے پر مجبور کردیے گئے لیکن اس کے باوجود خود ہی اپنے قاتل اور اپنے مجرم بتائے جاتے ہیں۔
ہوا یوں کہ اتوار 25 جنوری 2026 کو کراچی میں “عوامی نیشنل پارٹی” نے ایک جلسہ کیا جس میں اس کے مرکزی صدر ایمل ولی اور دیگر نے خطاب کیا۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ جلسہ ان کے راہ نما باچا خان اور ولی خان کی برسیوں کی مناسبت سے تھا۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، مختلف سیاسی جماعتیں کراچی میں اپنے جلسے کرتی رہی ہیں اور ان کے جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ یہ آج سے نہیں ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود کراچی کو بدنام کیا جاتا رہا ہے۔
اتوار 25 جنوری کے اے این پی کے اس جلسے کی سب سے خاص اور قابل ذکر بات اس کا مقام تھی۔ شاید اس سے پہلے اے این پی نے کراچی میں اس مقام پر جلسہ نہیں کیا۔ اگرچہ اس میں بھی کسی قسم کا کوئی مضائقہ نہیں ہے، قانون اجازت دیتا ہے کہ جہاں چاہیں جلسہ کیجیے، لیکن عام طور پر اور اخلاقی طور پر جلسہ ان علاقوں میں کیا جاتا ہے جہاں آپ کے حامی ہوں یا کچھ نہ کچھ حمایت پائی جاتی ہو۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اے این پی نے شہر کے بیچوں بیچ جلسہ فرمایا۔ ورنہ پہلے وہ لانڈھی شیرپائو، سہراب گوٹھ، بنارس، شیرشاہ، سائٹ وغیرہ جیسے مضافاتی علاقوں میں جلسے کرتی تھی جہاں اس کی پشتون اکثریت دکھائی دیتی تھی۔ اس بار ایسا نہیں کیا گیا، اس کی وجہ جو بھی رہی ہو، تاریخ میں بہرحال ایک واقعے کے طور پر تو لکھ دیا گیا ہے کہ ایک لسانی جماعت (اگرچہ جلسے میں کوئی غلط یا قابل نفرت بات نہیں کی گئی) نے مہاجر اکثریتی شہر کراچی میں جا کر اپنا پروگرام کیا۔
دوسری بات آپ یہ دیکھیے کہ یہ جلسہ جن راہ نمائوں کی برسی کی مناسبت سے کیا تھا، یعنی باچا خان وہ نہ کراچی میں پیدا ہوئے اور نہ ہی ان کا انتقال کراچی میں ہوا اور نہ ہی تدفین۔ نہ ہی ان کا کراچی سے کوئی واسطہ اور تعلق رہا۔ وہ تو پاکستان کے مخالف تھے اور سرحدی گاندھی کہلاتے تھے، 20 جنوری 1988 کو پشاور میں وہ رخصت ہوئے تو ان کے جنازے میں کانگریس سے راجیو گاندھی تک شرکت کرنے آئے تھے۔ ان کی تدفین بھی خیبر پختونخوا کے بہ جائے افغانستان میں کی گئی۔ کیوں کہ ان کی وصیت تھی کہ انھیں غلام ملک (پاکستان) کے بہ جائے آزاد ملک یعنی افغانستان میں دفنایا جائے۔
ایسے ہی باچا خان کے بیٹے اور اے این پی کے موجودہ صدر ایم ولی کے دادا ولی خان بھی 26 جنوری 2006 کو پشاور میں انتقال کرگئے۔ لیکن 20 اور 26 کی دونوں برسیوں پر 25 جنوری کو ان دونوں کی مشترکہ برسی بنا کر مرکزی قیادت کراچی کے مرکزی مقام پر آکر جلسہ برپا کرتی ہے۔ کیا بات ہے!
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2024 سے ایمل ولی “اے این پی” کے صدر ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد اسفند یار ولی اس عہدے پر تھے۔ 2007 کے بعد کراچی میں 1980 کی دہائی کی طرح، بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک لسانی نفرت کی لہر آئی، جس میں پشتون اور مہاجر افراد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ اس موقع پر اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے کافی اشتعال انگیز کردار ادا کیا اور اس وقت کی متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ کراچی کے خراب حالات کے تیسرے فریق کے طور پر سامنے آئے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب 2008 میں پہلی بار “اے این پی” کے دو پشتون بھی صوبائی اسمبلی میں نہ صرف پہنچے بلکہ ایک رکن کو وزارت ٹرانسپورٹ بھی سونپی گئی، جنھوں نے یہاں اپنے حامیوں یا اپنے قوم کے افراد کی سرکاری ملازمتوں میں بھرتیاں کی گئیں کہ جس پر کراچی والے حیرانی سے انھیں دیکھتے۔
اس پس منظر کے ساتھ دیکھیے تو دوبارہ سے اے این پی جیسی قوم پرست جماعت کا اس طرح متحرک ہونا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)
Categories
کراچی: ‘اے این پی’ کا مرکزی سڑک پر جلسہ، کیا ہونے والا ہے؟
