Categories
Exclusive Interesting Facts Karachi MQM PPP انکشاف ایم کیو ایم پیپلز پارٹی دل چسپ سمے وار بلاگ سندھ سیاست قومی سیاست کراچی مہاجر صوبہ مہاجرقوم

کراچی کے ووٹر کیسے اقلیت میں جا رہے ہیں؟

سمے وار (تحریر: اختر روہیلہ)
ڈیجیٹل دہشت گردی اور لسانی انجینئرنگ: “ڈان” اور “دی نیوز” کے انکشافات کے مطابق، اندازہ ہے کہ 30 لاکھ سے زائد افراد نے اپنی مستقل رہائش کو کراچی میں اپڈیٹ کروایا، جن کا اصل تعلق اندرون سندھ سے تھا۔
کراچی، جو ماضی میں ایک بندرگاہی شہر کی حیثیت رکھتا تھا، آج لسانی سیاست اور اندرونی سازشوں کا مرکز بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اندرونِ سندھ سے کراچی کی طرف ہجرت کرتے ہیں، جن میں دادو، بدین، ٹھٹھہ، سانگھڑ، خیرپور اور نوشہرو فیروز جیسے اضلاع سرفہرست ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان اضلاع کی آبادی میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آتی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت ہو رہی ہے تو ان علاقوں کی مردم شماری میں کمی کیوں نہیں آتی؟ اس کا جواب ہمیں جدید ڈیجیٹل رجسٹریشن اور مردم شماری کے نظام میں کی جانے والی منظم دھاندلی میں ملتا ہے۔ تحقیقات سے انکشاف ہوتا ہے کہ قوم پرست عناصر نے نادرا کے ریکارڈز کو منظم طریقے سے استعمال کرتے ہوئے لاکھوں افراد کے مستقل پتے کراچی میں تبدیل کروا دیے، حالانکہ ان کا اصل تعلق اندرونِ سندھ سے تھا۔ ان افراد کے شناختی کارڈوں پر پتہ گلشنِ حدید، ملیر، کورنگی، لانڈھی اور سہراب گوٹھ جیسے کراچی کے علاقوں کا درج کیا گیا، جب کہ وہ پیدائش کے لحاظ سے لاڑکانہ، خیرپور، دادو یا سانگھڑ کے باسی ہیں۔ اس حربے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انہیں شہری سہولیات ملیں، بلکہ اصل ہدف کراچی کی مردم شماری اور لسانی شناخت پر اثر انداز ہونا ہے تاکہ سندھی بولنے والوں کا تناسب مصنوعی طور پر بڑھا کر دکھایا جائے۔
نادرا کی دستاویزات اور 2021 و 2023 کی میڈیا رپورٹس، خصوصاً روزنامہ ڈان اور دی نیوز کے انکشافات کے مطابق، اندازہ ہے کہ تین ملین سے زائد افراد نے اپنی مستقل رہائش کو کراچی میں اپڈیٹ کروایا، جن کا اصل تعلق اندرون سندھ سے تھا۔ اس کے نتیجے میں کراچی کے لسانی توازن کو مسخ کیا گیا اور سندھی بولنے والے افراد کی گنتی میں غیر حقیقی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح ووٹر لسٹوں میں بھی چالاکی سے تبدیلی کی گئی۔ دیگر قومیتوں، مثلاً پنجابی، ہزارہ وال، سرائیکی اور مہاجر پس منظر رکھنے والے افراد کو کراچی کے مختلف حلقوں میں رجسٹر کر دیا گیا، جب کہ ان کے شناختی کارڈز پر پیدائشی ضلع اندرون سندھ کا درج ہے۔ اس سے دوہرا فائدہ حاصل کیا گیا: کراچی میں سیاسی نشستوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی، اور اندرون سندھ کی آبادی میں کمی کو چھپایا گیا۔ 2023 کی انتخابی فہرستوں میں ایسے چالیس لاکھ سے زائد ووٹ سامنے آئے جن کے موجودہ اور پیدائشی پتے مختلف تھے۔ یہ رجسٹریشن PS-89، NA-236 اور PS-127 جیسے حلقوں میں نمایاں طور پر دیکھی گئی، جہاں قوم پرست جماعتوں کو اکثریت ملی۔ان اقدامات کے پیچھے ایک واضح نظریاتی بیانیہ کام کر رہا ہے — “سندھ ہمارا ہے، کراچی تمہارا نہیں۔”
اس نظریے کے تحت قوم پرست گروہ کراچی کو “مشترکہ سندھ” کے تصور میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اردو بولنے والے شہریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم مہم چلا رہے ہیں۔
ان کا مقصد واضح ہے: سندھ اسمبلی میں اپنی عددی بالادستی قائم کرنا تاکہ انتظامی، مالیاتی اور سیاسی کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کراچی کی لسانی تاریخ واضح طور پر دستاویزی صورت میں موجود ہے۔ 1941 میں برطانوی ہندوستان کے تحت ہونے والی مردم شماری کے مطابق کراچی میں سندھی بولنے والے صرف 6.3 فیصد تھے۔ آج ان کا تناسب 2023 میں مبینہ طور پر 24 فیصد سے زیادہ دکھایا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ حقیقی ہے یا ڈیجیٹل جعلسازی کا نتیجہ؟ مندرجہ بالا شواہد کو تقویت دینے کے لیے متعدد تحقیقی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔
نومبر 2023 میں روزنامہ ڈان کی رپورٹ میں نادرا کے ریکارڈ میں کراچی کے پتے پر اپڈیٹ کیے گئے لاکھوں شناختی کارڈز کا انکشاف ہوا۔
اسی طرح الیکشن کمیشن کی 2024 کی رپورٹ میں ووٹر ایڈریس مائیگریشن کے حوالے سے تضادات کو تسلیم کیا گیا۔
بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق کراچی اور اندرون سندھ کی شرح نمو میں نمایاں تضاد پایا جاتا ہے، جسے مردم شماری میں نظر انداز کر دیا گیا۔
ڈان آرکائیو نے اپریل 2022 کی رپورٹ میں کراچی میں شناختوں کے پگھلنے کی اصطلاح استعمال کی، جو اس لسانی انجینئرنگ کی بہترین وضاحت ہے۔ان تمام حقائق کی روشنی میں چند نتائج اٹل اور ناقابلِ تردید ہیں۔
سب سے پہلا یہ کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کی تبدیلی آج کی جدید دور کی سب سے خاموش مگر خطرناک دہشت گردی ہے، جس کا ہدف کسی انسان کی جان نہیں بلکہ اس کی شناخت ہے۔ دوسرا یہ کہ سیاسی انجینئرنگ کے تحت کراچی جیسے شہر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا، شہری علاقوں کی ثقافتی، لسانی اور تاریخی پہچان کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ تیسرا یہ کہ دوہری مردم شماری کے ذریعے اندرون سندھ کی آبادی کو بڑھا چڑھا کر اور کراچی کی گنتی کو مصنوعی طور پر بدل کر ایک ایسی سازش رچی گئی ہے جس کے اثرات کئی نسلوں تک قائم رہ سکتے ہیں۔ چوتھا اور سب سے اہم نکتہ یہ کہ جن افراد کو کراچی کا اصل وارث کہا جا رہا ہے، ان کا تاریخی وجود 1941 میں بمشکل چند فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔ جیسا کہ اختر روہیلہ نے لکھا، “ڈیجیٹل فائلوں میں کی گئی جعل سازی، لاکھوں انسانوں کی شناخت کو مٹا دیتی ہے — اور یہی آج کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے۔” یہ رپورٹ اس سازش کو بے نقاب کرنے کا ایک اہم قدم ہے،
۔
(ادارے کا بلاگر سے متفق ہونا ضروری نہیں، آپ اپنے بلاگ samywar.com@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Verified by MonsterInsights